عاطف میاں پر تنازع: ’پاکستانی حکومت نے مذہبی تعصب کو لاگو کیا‘

عمران رسول تصویر کے کاپی رائٹ ImranRasul.com

حکومت کی جانب سے عقیدے کی بنیاد پر قومی اقتصادی کونسل کے رکن عاطف میاں سے استعفیٰ لیے جانے کے بعد اسی کونسل کے دو اراکین احتجاجاً مستعفی ہو گئے ہیں۔ اس فیصلے پر دنیا بھر سے تنقیدی بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

ماہر معاشیات عمران رسول نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’اداس دل کے ساتھ میں نے آج ای اے سی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جن حالات میں عاطف سے مستعفی ہونے کو کہا گیا میں ان سے متفق نہیں۔ مذہبی وابستگیوں کی بنا پر فیصلے کرنا میرے اصول و ضوابط کے خلاف ہے جو میں اپنے بچوں کو سکھانے کی کوشش کرتا ہوں۔‘

حکومت نے اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن عاطف میاں کی نامزدگی واپس لینے کی وجہ علما اور سماج کا دباؤ بتائی، اگرچہ ٹوئٹر پر مسلمان اور غیر مسلم، درست فیصلے اور یو ٹرن کی باز گشت مسلسل سنائی دے رہی ہے لیکن اسی کمیٹی کے دو اراکین نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے جن میں سے ایک عاصم خواجہ اور دوسرے عمران رسول شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اگرچہ حکومتی وزیر فواد چوہدری نے گذشتہ دنوں عاطف میاں کی ای اے سی میں نامزدگی پر ہونے والی تنقید کو بےجا قرار دیا تھا لیکن جمعے کو انھیں اپنی پہلی ٹویٹ میں عاطف میاں کے جانے اور دوسری ٹویٹ میں تمام کابینہ اراکین کے سچے مسلمان ہونے کی گواہی دینی پڑی۔

عاطف میاں کے مستعفی ہونے کے بعد استعفے کا اعلان کرنے والے عاصم خواجہ نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ ’ایک مسلمان ہوتے ہوئے میں اس کا کوئی جواز نہیں دے سکتا۔‘

’درد بھرا، اور بہت افسوسناک فیصلہ۔ منطقی استدلال پر مدد کے لیے موقع دے جانے پر شکرگزار ہوں لیکن تب نہیں جب اس قسم کی اقدار پر مفاہمت کی جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

حکومت کی جانب سے اپنا عہدہ چھوڑنے کی درخواست ملنے پر میاں عاطف نے عہدہ چھوڑ دیا اور ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹس میں کوئی شکوہ نہیں کیا اور کہا کہ مجھے اس ملک سے محبت ہے۔

’میں نے حکومت کے استحکام کی خاطر اقتصادی مشاورتی کونسل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ حکومت مسلمان علما اور ان کے حامیوں کی جانب سے میری تعیناتی پر بہت زیادہ منفی دباؤ کا سامنا کر رہی تھی۔ اس کے باوجود میں ہمیشہ پاکستان کی خدمت کے لیے تیار رہوں گا۔ کیونکہ یہ وہ ملک ہے جس میں میں پلا بڑھا اور جس سے مجھے بہت محبت ہے۔ اپنے ملک کی خدمت میرے ایمان کا حصہ ہے اور یہ ہمیشہ میری دلی خواہش رہے گی۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ اقتصادی مشاورتی کونسل بہترین انداز میں اپنے مینڈیٹ کو پورا کرنے کی کوشش کرے تاکہ پاکستانی لوگ اور قوم خوشحال ہو اور ترقی کرے۔ میری دعائیں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں گی اور میں ہمیشہ جیسے بھی ضرورت ہو گی پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہوں گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ World Economic forum

عاطفمیاں کون ہیں؟

سنہ 2014 میں عالمی مالیاتی ادارے نے دنیا کے 25 کم عمر ترین قابل ماہرِ معاشیات کی فہرست میں عاطف میاں کا نام شامل کیا تھا۔

نائجیریا میں پیدا ہونے والے 43 سالہ عاطف میاں نے ابتدائی تعلیم پاکستان میں حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے نوے کی دہائی میں امریکہ چل گئے۔ انھوں نے میسا چوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ایم آئی ٹی سے 17 برس قبل معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہیں سے انھوں نے کمپیوٹر اور حساب میں ماسٹر ڈگری بھی حاصل کی۔

وہ اس وقت پرنسٹن یونیورسٹی اور ووڈرو ولسن سکول آف پبلک پالیسی سے منسلک ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں وہ سنہ 2009 سے سنہ 2013 تک اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اور یونیورسٹی آف شکاگو کے بوتھ سکول آف بزنس میں آٹھ سال تدریس کی۔ ووڈرو ولسن سکول کے جولیس ریبنوٹز سینٹر کے شعبہ پبلک پالیسی اینڈ فنانس میں ڈائریکٹر کی خدمات سرانجام دیں۔

عاطف میاں پاکستان میں سینٹر فار اکنامک ریسرچ، سی ای آر پی کے شریک بانی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔

انھوں نے ’ہاؤس آف ڈیبٹ‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی۔ جس میں قرض کے شدید کساد بازاری کے درمیان تعلق کی وضاحت کی۔ اس کے نقصانات اور تدارک پر بات کی۔

نہ صرف ان کی کتاب پر معاصر عالمی اخبارات جیسا کہ وال سٹریٹ جنرل، دی ایٹلانٹک اور دی نیویارک ٹائمز میں مضامین چھپے بلکہ ان کی جانب سے کی گئی تحقیقی جریدوں میں شائع ہوئی جن میں امیرکین ایکونامک بھی شامل ہے۔ ان کی جانب سے لکھی گئی تحریریں متعدد معاشی میگزینز اور جرنلز میں چھپیں۔

تاہم پاکستان میں ان مذہبی گروپس اور سیاسی جماعتوں نے ان کے عقیدے کو خطرہ قرار دیا۔ ان کا تعلق پاکستان میں 1974 میں غیر مسلم قرار دی جانے والی احمدی برادری ہے۔

کیا یہ پاگل ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر ایڈورڈ میگوئل نے ٹوئٹر پر عاطف میاں کو کونسل سے ہٹانے کو پاکستان کے لوگوں کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا اور کہا کہ وہ دنیا کے قابل ترین معاہشی ماہرین میں سے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ہاورڈ کینیڈی سکول میں معاشیات کے شعبے سے منسلک ڈینی روڈ رک نے لکھا کہ پاکستان کی حکومت نے نہ صرف خود کو اعلی ٹیلنٹ سے محروم کیا ہے بلکہ مذہبی تعصب کو بھی لاگو کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اوسٹن گولسبے شکاگو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں جنھوں نے عاطف میاں کی کونسل سے بے دخلی پر پاکستانی حکومت کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ پاگل ہیں۔

عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور حامی جمائما گولڈ سمتھ نے اپنی ٹویٹ میں اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا اور لکھا کہ پاکستان کی نئی حکومت نے نامزد کیے گئے مشیر کو عقیدے کی بنیاد پر ہٹنے کے لیے کیا جبکہ پاکستان کے بانی قائداعظم نے ایک احمدی کو وزیر خارجہ مقرر کیا تھا۔

خیال رہے کہ عمران خان نے جمعے کے فیصلے پر نہ کوئی ٹویٹ کی ہے اور نہ ہی جمعے کی شام خطاب میں کوئی ذکر کیا۔

تاہم وزیراعظم بننے سے قبل ایک یو ٹیوب ویڈیو کلپ میں وزیر خزانہ کے لیے عاطف میاں کا نام لیے جانے سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ عاطف میاں کا نام اس لیے لیا کہ وہ دنیا کے 25 معاشی ماہرین میں شامل ہیں، اور ’میں نہیں جانتا تھا کہ ختم نبوت کے خلاف انھوں نے کوئی مہم کی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں