عارف علوی پاکستان کے 13ویں صدر، دوسرا موقع جب آئینی طریقے سے صدارت ایک سے دوسرے صدر کو منتقل ہوئی

عارف علوی تصویر کے کاپی رائٹ PTV

ڈاکٹر عارف الرحمٰن علوی اتوار کو اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں حلف اٹھا کر پاکستان کے 13 ویں صدر بن گئے ہیں۔

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان سے حلف لیا۔

یہ ملک کی 71 سالہ تاریخ میں دوسرا موقع ہے جب ایک منتخب صدر سے صدارت آئینی طریقے سے دوسرے منتخب صدر کو منتقل ہو گئی ہے۔ اس سے قبل آصف زرداری سے ممنون حسین کو آئینی طریقے سے صدارت منتقل ہوئی تھی۔

پاکستان کے صدور

13 میں سے دو صدور نے آئینی مدت پوری کی

اس موقعے پر وزیراعظم عمران خان سبکدوش ہونے والے صدر ممنون حسین، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزرا، گورنر، سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کے علاوہ سعودی عرب کے وزیر اطلاعات عواد بن صالح العواد، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی، سفیر اور سفارت کار موجود تھے۔

سبکدوش ہونے والے صدر ممنون حسین کی پانچ سالہ مدت گذشتہ روز مکمل ہو گئی تھی، جنھیں مسلم لیگ نواز نے صدر بنوایا تھا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رکن عارف علوی گذشہ ماہ صدرِ پاکستان منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے مجموعی طور پر 352 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مدِ مقابل جمعیتِ علمائے پاکستان کے مولانا فضل الرحمٰن کو 185، اور پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کو 123 ووٹ ملے تھے۔

عارف علوی کے بارے میں بی بی سی سے مزید

ڈینٹسٹ سے صدر پاکستان کا سفر

ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے 13ویں صدر منتخب

عارف علوی جولائی میں ہونے والے عام انتخابات میں کراچی سے تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر کراچی کے حلقہ 247 سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ان کے صدر بننے کے بعد یہ نشست خالی ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر علوی پیشے کے اعتبار سے ڈینٹسٹ ہیں اور انھوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز جماعتِ اسلامی کے پرچم تلے کیا تھا۔ بعد میں انھوں نے جماعتِ اسلامی سے اپنی راہیں الگ کر لیں اور جب 1996 میں عمران خان نے تحریکِ انصاف کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کا آغاز کیا تو وہ اس میں شامل ہو گئے۔

وہ تحریکِ پاکستان کے 'نیا پاکستان' کے منشور کے مصنفوں میں بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر عارف علوی پیشے کے اعتبار سے ڈینٹسٹ ہیں اور انھوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز جماعتِ اسلامی کے پرچم تلے کیا تھا

تحریک انصاف میں ان کا سیاسی سفر 1997 میں پارٹی کا سندھ کا صدر بننے سے شروع ہوا تھا۔ سنہ 2001 میں وہ مرکزی نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سنہ 2006 میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری بنائے گئے اور سنہ 2013 تک اس عہدے پر رہے۔

انھوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پہلا الیکشن سنہ 1997 میں صوبائی حلقے سے لڑا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔ سنہ 2002 کے انتخابات میں انھوں نے بلدیہ سے قومی اسمبلی کی نشست پر قسمت آزمائی کی لیکن اس میں بھی شکست ہوئی۔

البتہ 2013 کے انتخابات میں وہ ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت کو دوبارہ گنتی کے بعد ہرا کر پہلی بار قومی اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔

تاہم صدر کے انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے پر انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پوری قوم کے صدر بنیں گے۔

اسی بارے میں