نواں آیاں اے سوہنیا ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مبارک ہو تین پاکستانی نژاد بین الاقوامی ماہرینِ معیشت سے پاک ہو جانے کے بعد اب قومی اقتصادی مشاورتی کونسل کے بقیہ 15 ماہرین خالص پاکستانی اور مسلمان ہیں۔ تمام طبقات و دینی حلقوں کی نیک تمناؤں اور دعاؤں کے سائے سائے اب یہ کونسل پاکستان کو اقتصادی دلدل سے نکالنے کے لیے غیر ملکی مفاد کے بجائے اول تا آخر ملک کے بارے میں سوچے گی۔

پچھلے ایک ہفتے میں پرانا پاکستان نیا بنتے بنتے اس وقت بس کنوں سے رہ گیا جب کسی نے عمران خان کے کان میں کہا ’نواں آیاں ایں سوہنیا؟‘ خان صاحب کو بات ترنت سمجھ میں آ گئی کہ جس طرح خالص سونے میں کھوٹ ملائے بغیر زیور نہیں بن سکتا اسی طرح خالص میرٹ کے بل پر کوئی نظریاتی مملکت نہیں چلائی جا سکتی۔ سب (طاقتور طبقات) کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔

قائدِ اعظم کا پاکستان بحال کرنے کا خواب دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ کہنے میں بھی کوئی خطرہ نہیں کہ اس ملک میں اگر کوئی ایک ادارہ صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر چلتا ہے تو وہ فوج ہے۔

مگر نہ تو تم قائدِ اعظم ہو اور نہ ہی فوج۔ لہٰذا کسی تجربہ کار مستند ماہر کی نگرانی کے بغیر میرٹ کا کرتب دکھانا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

نیز ایسی تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں جن کا بغیر ڈاکٹری مشورے کے استعمال آپ کو بلا امتیاز میرٹ کے مالیخولیا میں مبتلا کر کے ذہنی توازن بگاڑ سکتا ہے۔

وسعت اللہ خان کے دیگر کالم پڑھیے

اپنا سنجو بابا سب ٹھیک کر دینے کا

قائدِ اعظم نے بھی کونا پکڑ لیا

’میں نے کیا سعودیوں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟‘

سعودی عرب اور تایا صبغت اللہ

جو بات 124 دن کا دھرنا نہ سمجھا سکا وہ خان صاحب کو حکومت کے پہلے 20 روز نے کسی حد تک سمجھا دیا کہ اچھی اچھی باتیں کرتے رہو مگر ان باتوں کو عملی جامہ ایسے مت پہناؤ کہ اپنا پاجاما ہی کھسکنے لگے۔

بلوریں گھر کے مکینوں، جوان لڑکی کے والدین، نو عمر لمڈے اور دس بارہ ووٹوں پر کھڑی حکومت کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے آنکھیں، کان اور ناک کھلے رکھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

سچ ضرور بولیے مگر کمرے میں، بااعتماد لوگوں کے سامنے، ہو سکے تو تنہائی میں یا زیادہ سے زیادہ شیشے کے روبرو اور خبردار، سچ کو کبھی تنہا باہر مت جانے دینا، بھیجنا ضروری بھی ہو تو جھوٹ کے کپڑے پہنا کے بھیجنا، ورنہ پیروں پر جائے گا ایمبولینس میں آئے گا۔ ابھی تو پانچ برس گزارنے ہیں۔ یہی لچھن رہے تو پانچ ماہ بھی گزارنا محال ہو جائیں گے بابو۔

ششش ایک بات تجھے کوئی نہ بتائے گا مورکھ لہٰذا بہت کان لگا کے سن۔ یہ جناح کے پاکستان کی رٹ لگانا آہستہ آہستہ چھوڑ دے۔ جناح کے حریف گاندھی، نہرو، پٹیل، آزاد تھے، تیرے حریف دراصل تیرے حلیف ہی ہیں۔ جناح کو مظلوم اقلیت کے لیے ایک پاکستان درکار تھا۔ تیرے پاکستان میں تو اقلیت ہی ظالم بتائی جا رہی ہے۔ جناح کے دشمن بیلچے والے خاکسار تھے۔ اب خودکش خاکساروں کا زمانہ ہے۔

اور تم کبھی جناح نہیں بن سکتے، جناح نے پاکستان ضیا الحق سے نہیں ماؤنٹ بیٹن سے لیا تھا۔

اسی بارے میں