’زیرِ سماعت مقدمات پر پروگرام ہوں تو جج ذہن بنا لیتے ہیں‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Supreme court of pakistan

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ نظام کی خرابیاں دور کیے بغیر انصاف کے حصول میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

پیر کو نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک بانی پاکستان کے وژن سے ہٹ چکا ہے جس کی وجہ سے ناقص حکمرانی اور ناانصافی ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی شفافیت اور احتساب کے عمل سے قائد کے وژن پر ملک کو دوبارہ لایا جا سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ عدالتی سال میں 37 ہزار مقدمات دائر ہوئے جن میں سے 19 ہزار کے فیصلے کیے گئے۔ اُنھوں نے کہا کہ جتنے عرصے میں ان مقدمات کا فیصلہ ہوا اس کی مثال گذشتہ پانچ سال کی عدالتی کارروائی میں بھی نہیں ملتی۔

’عدالت عظمیٰ کے بارے میں بداعتمادی کو ختم کرنا ہوگا‘

عدالتوں میں 18 لاکھ سے زائد مقدمات فیصلوں کے منتظر

میڈیا کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ نجی ٹی وی چینلز کو عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر پروگرام نہیں کرنے چاہییں کیونکہ ایسا ہونے سے جج اپنا ذہن بنا لیتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میڈیا کو عدالتی فیصلوں پر تنقید کا حق ہے لیکن ایسی تنقید کا حق میڈیا کو نہیں دیا جاسکتا جسس سے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تضحیک کا پہلو نکلتا ہو۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت از خود نوٹس کے بارے میں لوگوں کو شدید قسم کے تحفظات ہیں اور اس معاملے کو فل کورٹ میں زیر بحث لایا جائے۔

اُنھوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو بھی قدم اُٹھائیں اس میں دیگر ساتھی ججز کی مشاورت کو بھی شامل کر لیا کریں۔

کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اگلے چار ماہ میں ریٹائر ہو جائیں گے اس لیے اُن کی طرف سے کیے گئے اقدامات چاہے وہ اچھے ہوں یا برے لیکن اس میں تسلسل رہنا چاہیے یہ نہ ہو کہ اگلا چیف جسٹس اپنی مرضی کے اقدمات کرنا شروع کر دے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کے طریقۂ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ترامیم کی جائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ اس میں بار کونسل کا بھی نمائندہ ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ بامقصد مشاورت نہیں کی جاتی۔ کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ ججوں کی تعیناتی کے سلسلے میں قائم کی گئی کمیٹی میں سپریم کورٹ کے پانچ سینیئر جج صاحبان شامل ہیں اس لیے کسی دوسرے کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ جسٹس انڈیکس کے مطابق انصاف ک رسائی میں پاکستان 113 ممالک میں 106ویں نمبر پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمات پر اخراجات کو مزید کم کرنا پڑے گا کیونکہ عام عادمی کی دسترس سے اخراجات باہر ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں