’صرف پنیر ہی پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے سے روک سکتا ہے‘

پنیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن میں کامیابی کے بعد جب سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ہے ان کی توجہ ملک کی معاشی بدحالی پر ہے اور اسی حوالے سے وہ فوری اقدامات کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

حال ہی میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے سینیٹ کو بتایا کہ پاکستان کو جلد از جلد نو ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے قرضہ آخری قدم کے طور پر لیا جائے گا اور اس سے پہلے دیگر ذرائع اور طریقوں پر غور کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جب حکومت کی جانب سے قائم کی گئی نئی اکنامک ایڈوائزری کونسل نے گذشتہ ہفتے ملاقات کی تو اس میٹنگ میں مختلف نوعیت کے مشورے دیے گئے جن میں سمارٹ فونز اور پنیر کی درآمد پر پابندی لگانے کی تجاویز شامل تھیں۔

عاطف میاں اقتصادی مشاورتی کمیٹی کی رکنیت سے الگ

’ہیلی کاپٹر پچاس روپے کلو'

نواں آیاں اے سوہنیا ؟

روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ای اے سی کے رکن اور نسٹ یونیورسٹی کے پروفیسر اشفاق حسن خان نے کہا کہ اس میٹنگ میں معمول سے ہٹ کر تجاویز پر غور کیا گیا، جیسے سال بھر تک ملک میں پنیر، سمارٹ فونز، پھل اور مہنگی گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی جائے گی جس کی مدد سے 'چار سے پانچ ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔'

'آپ دیکھیں کہ ملک میں کتنی بڑی تعداد میں پنیر آ رہا ہے۔ مارکیٹوں میں پنیر بھرا پڑا ہے۔ کیا ہمارے ملک کو پنیر کی ضرورت ہے، جہاں ڈالر کی اتنی قلت ہو، کہ وہ پنیر درآمد کرے؟'

پاکستان میں کتنی پنیر آتا ہے؟

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2015 میں پاکستان نے کل تین ہزار ٹن پنیر درآمد کیا جس کی کل مالیت تقریباً 70 لاکھ ڈالر تھی۔

کالم نویس اور تجزیہ کار عارف رفیق نے اسی حوالے سے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان نے اگلے دو سالوں میں پنیر کی در آمد دگنی کر دی اور 2017 کے اعداد و شمار کے تحت ملک میں پنیر کی درآمد پر ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر صرف کیے گئے ہیں۔

سمارٹ فونز کی مد میں بھی پاکستان بیورو آف سٹیٹس (پی بی ایس) یعنی سرکاری ادارہ برائے اعداد و شمار کے مطابق تھری جی اور فور جی لائسنس کے اطلاق کے بعد سے ملک میں سمارٹ فونز کی درآمد میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پی بی ایس کے مطابق 17-2016 کے مالی سال میں جولائی سے دسمبر تک 32 کروڑ ڈالر کے موبائل فونز ملک میں درآمد کیے گئے تھے جبکہ 18-2017 کے مالی سال میں یہ اعداد و شمار بڑھ 37 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔

پی بی ایس کے اعداد و شمار کے تحت صرف دسمبر 2017 میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور ایک مہینے میں سات کروڑ ڈالر مالیت کے فون درآمد کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل پی بی ایس نے پاکستان کے درآمدات کے اعداد و شمار جاری کیے تھے جس سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ صرف مئی کے مہینے میں پاکستان کی درآمدات کی کل مالیت تقریباً چھ ارب ڈالر ہے۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

اشفاق حسن خان کے انٹرویو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس بارے میں کئی ردعمل سامنے آئے جن میں لوگوں نے تبصرہ کیا کہ وہ اب پنیر بھی نہیں کھا سکیں گے۔

ایک صارف لالین سکھیرا نے لکھا کہ وہ تو صرف پنیر پر زندہ رہتی ہیں اور وہ یہاں رہنے کی صورت میں تو مر جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

ایک اور صارف مریم ضیا خان نے تبصرہ کیا کہ 'لگتا ہے کہ پنیر کی وجہ سے پاکستان کے معاشی حالت اتنے ابتر ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWIITER

صحافی نائلہ عنایت نے پنیر کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'صرف پنیر ہی پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے سے روک سکتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما عمار رشید نے بھی ٹویٹ میں پنیر کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق 'پاکستان میں پنیر کی درآمد پر 30 لاکھ ڈالر صرف کیے جاتے ہیں جو کہ ہمارے مالیاتی خسارے کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ ای اے سی کی حیران کن کارکردگی ہے۔۔۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

اسی بارے میں