بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کے چھ برس: ’ظالم کو مظلوم بنا دیا گیا‘

پاکستان کے شہر کراچی کے سول ہسپتال کا سرد خانہ لاشوں سے بھر چکا تھا، باہر سٹریچر پر بھی درجن سے زائد لاشیں موجود تھیں جو سفید چادروں سے ڈھکی ہوئی تھیں، ہوا کا ایک جھونکا آتا ہے اور ایک لاش کے چہرے سے کپڑا ہٹ جاتا ہے، قریب موجود ایک خاتون کی نظر جیسے ہی اس پر پڑتی ہے تو ’وہ میرا ایان‘ کہہ کر اس سے لپٹ جاتی ہیں۔

اس طرح سعیدہ بی بی کی گذشتہ 12 گھنٹے سے جاری تلاش ختم ہوتی ہے۔

18 سالہ اعجاز احمد عرف ایان ان 259 مزدوروں میں شامل تھے جو 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ میں واقع علی انٹرپرائیز فیکٹری میں آتشزدگی میں جھلسنے اور سانس گھنٹے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

’امی آج وہ تنخواہ نہیں دے رہے‘: آخری پیغام

سعیدہ بی بی خود اس فیکٹری میں کام کرتی تھیں لیکن اچانک طبیعت خراب ہونے کے بعد جب ملازمت چھوڑی تو بیٹا اسی فیکٹری میں ملازمت کرنے لگا اور ساتھ میں پرائیوٹ طور پر نویں جماعت کے امتحانات کی بھی تیاری جاری رکھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

بابا میں آنا چاہتی ہوں

کراچی: سانحۂ بلدیہ کے متاثرین کی بے چینی

بلدیہ فیکٹری میں آتش زدگی میں ایک گروہ ملوث ہے: پولیس

سعیدہ بی بی بتاتی ہیں کہ انہوں نے بیٹے کو ملازمت چھوڑنے کا کہا تھا لیکن اس نے کہا تھا کہ مزید ایک ہفتہ کام کرے گا ان دنوں رمضان ختم ہو چکا تھا اور انہیں عید پر بھی تنخواہ نہیں ملی تھی۔

’حادثے والے روز وہ صبح فیکٹری گیا تو دوپہر کو موبائل پر دو سطر کا پیغام آیا کہ امی آج وہ تنخواہ نہیں دے رہے کل کا بتا رہے ہیں، میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔‘

’چھ برس سے چولھا نہیں جلایا‘

سعیدہ بی بی نے گذشتہ 6 برسوں میں ایک روز بھی کھانا نہیں بنایا اور زیادہ تر باہر کا کھانا کھاتی ہیں بقول ان کے ایان جیسے ہی دروازے میں داخل ہوتا پہلا سوال یہ کرتا کہ امی کھانا بن گیا؟

’اس روز میں نے سالن بنا لیا تھا جبکہ چاول چولہے پر تھے، اسی دوران میری والدہ داخل ہوئیں اور کہا کہ ٹی وی دیکھو ایان جس فیکٹری میں کام کرتا ہے اس میں آگ لگی ہے، ان کا اتنا بولنا تھا میں نے چولہا بند کر دیا اور علی انٹرپرائز پہنچی۔اس روز کے بعد میں نے کبھی چولہا نہیں جلایا بڑی کوشش کرتی ہوں کہ اکیلی ہوں کچھ بنا لوں باہر کا کھانا طبیعت خراب کرتا ہے لیکن ہمت اور طاقت نہیں ہوتی۔

اعجاز عرف ایان سعیدہ بی بی کی واحد اولاد تھا، ابھی وہ دو سال کا ہی تھا تو والد انتقال کر گیا، سیعدہ بی بی کے مطابق انہوں نے ایسے بڑی مشکل سے پالا تھا۔

ایمبولینس اور مردہ خانہ میں تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گیارہ ستمبر 2012 کو پیش آنے والے اس واقعے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 259 افراد ہلاک ہوگئے تھے

سعیدہ بی بی جب علی انٹرپرائیز کے باہر پہنچیں تو فیکٹری سے شعلے بلند ہو رہے تھے جبکہ فائربریگیڈ کی ایک گاڑی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی اور ایک واپس جا رہی تھی، ان کے بقول وہ چیختی چلاتی رہیں اور بیٹے کو موبائل پر کال بھی کی لیکن کوئی جواب نہیں آ رہا تھا، اس کے بعد انہوں نے گیٹ سے اندر جانے کی کوشش کی تو انہیں جانے نہیں دیا گیا۔ وہ ہر ایمبولینس کے پیچھے دوڑتی رہیں تو انہیں سول اور عباسی ہسپتال جانے کا مشورہ دیا گیا کہ وہاں جا کر تلاش کرو۔

’میں فیکٹری سے سول ہپستال گئی وہاں مردہ خانہ دیکھا اس کے بعد عباسی ہسپتال آئی اس وقت تک رات کے ڈھائی بج چکے تھے لیکن میرے بیٹے کا کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا، میں روتی ہوئی گھر لوٹی اور نماز ادا کر کے سول ہسپتال روانہ ہوئی وہاں بھی ڈھونڈتی رہی بلآخر مردہ خانے کے باہر لاش ملی۔

’بیٹے کے درد کو طاقت بنا لیا‘

سعیدہ بی بی کی صرف ماں اور ایک بہن حیات ہیں دوسرا کوئی نہیں، 12 ستمبر 2012 کی شام سعیدہ بی بی کے پڑوس سے سترہ جنازے اٹھے، ہر گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی لوگوں نے ایک دوسرے کا غم بانٹا اور یوں ایک دوسرے کا سہارا بنے، سعیدہ بی بی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیٹے کے درد کو طاقت بنا لیا۔

’متاثرہ خاندانوں کو کبھی کہاں بلایا جا رہا تھا کبھی کہاں لیکن کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو رہی تھی میں نے سوچا متاثرہ خاندانوں کو ڈر و خوف سے نکالنا ضروری ہے کیونکہ ہمارے بچے تو چلے گئے وہ واپس واپس نہیں آئیں گے لیکن جو دیگر غریب مزدور بچے ہیں ان کے ساتھ بھی کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ ہر فیکٹری میں مسائل ہیں۔ ہم نے نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور سے ملاقات کی انہوں نے اپنی تنظیم بنانے کا مشورہ دیا جس کے بعد ہم نے علی انٹرپرائز متاثرین ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔‘

عدالت اور جرمنی سے کامیابی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سعیدہ بی بی نے پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیبر ایجوکیشن اور دیگر تنظیمیوں کی معاونت سے سندھ ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے توسط سے تین مقدمات دائر کیے جن میں پینشن، سوشل سکیورٹی اور ڈیتھ گرانٹ کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا، اس کے علاوہ احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا۔

’یہ تینوں مقدمات ہم جیت گئے اس طرح ہماری ہمت اور طاقت بڑھتی گئی اور دیگر لوگ بھی شامل ہوتے گئے، اس کے بعد ہم نے علی انٹرپرائز سے ملبوسات کی خریدار جرمنی کی کمپنی ’کک‘ اور اٹلی کی کمپنی ’رینا‘ کے خلاف مقدمہ درج کرایا، رینا نے علی انٹرپرائز کو آڈٹ سرٹیفیکیٹ دیا تھا اس آڈٹ کے 20 روز کے بعد یہ حادثہ ہوا تھا۔

سعیدہ بی بی علی انٹرپرائیز کے متاثرین کا مقدمہ لیکر نیپال کانفرنس میں گئیں جہاں انہیں 50 ممالک کی مزدور تنظیمیوں نے ساتھ کی یقین دہانی کرائی، اس کے بعد جرمنی میں کک کے خلاف لابنگ کی، جہاں مزدور تنظیموں، صحافیوں، ارکانِ پارلیمان نے انہیں سپورٹ کیا اور وہ وہاں سے مقدمہ جیت کر واپس آئیں۔ کک کمپنی نے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا۔

’سبق نہیں سیکھا‘

علی انٹرپرائز میں آگ لگی یا لگائی گئی؟ تین مشترکہ تحقیقات ہو چکی ہیں جبکہ پولیس اسے اگ کو بھتہ خوری کا نتیجہ قرار دے چکی ہے، متاثرین خاندان کے وکیل فیصل صدیقی پولیس تحقیقات سے اتفاق نہیں کرتے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو شواہد دیکھیں ہیں ان میں یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ آگ لگائی گئی تھی۔

’فیکٹری کی جو صورتحال اور انتظام تھے وہ آگ کی وجہ بنے، بعد میں ظالم کو مظلوم بنا دیا گیا۔ اگر تحقیقات میں یہ کہا جاتا کہ آگ لگی تھی تو تمام فیکٹریوں کا معائنہ ہوتا لیکن اس سے بچنے کے لیے بھتہ خوری کا رنگ دیا گیا۔‘

مزدور رہنما کا کہنا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کے واقعے سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا معائنے کا نظام بہتر ہوا اور نہ ہی مزدوروں کے تحفظ کے انتظامات کے لیے اقدامات اٹھائے گئے۔

سعیدہ بی بی بھی کہتی ہیں کہ فیکٹری میں حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن جب تک وہ زندہ ہیں آواز اٹھاتی رہیں گی، اس جدوجہد کے دوران انہیں اپنا گھر تک چھوڑنا پڑا لیکن وہ دباؤ برداشت کرتی آئی ہیں۔

اسی بارے میں