توہین عدالت کیس میں عامر لیاقت کی غیر مشروط معافی کی درخواست مسترد، فرد جرم عائد ہو گی

عامر لیاقت تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سپریم کورٹ نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور اینکر پرسن عامر لیاقت حسین کے خلاف توہین عدالت کیس میں اُن کی غیر مشروط معافی کو مسترد کرتے ہوئے ان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عامر لیاقت حسین کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم 27 ستمبر کو عائد کی جائے گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکن بینچ نے اٹارنی جنرل انور منصور کو حکم دیا ہے کہ وہ اس میں استغاثہ کا کردار ادا کریں گے۔

انڈیپنڈنٹ میڈیا (جیو گروپ) کی طرف سے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود عامر لیاقت حسین نے نہ تو نفرت انگیز تقاریر کرنا بند کیں اور نہ ہی لوگوں کا مذاق اُڑانا بند کیا۔

درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا تھا کہ عدالت نے سنہ 2017 میں عامر لیاقت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ نہ صرف اپنے پروگراموں میں نفرت انگیز تقاریر کرنے سے اجتناب کریں گے بلکہ کسی شہری کا بھی مذاق نہیں اڑائیں گے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’زیرِ سماعت مقدمات پر پروگرام ہوں تو جج ذہن بنا لیتے ہیں‘

بول کے پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ پر پابندی برقرار

سپریم کورٹ کے حکم پر عامر لیاقت کا پروگرام بند

’عامر لیاقت لوگوں سے معافی مانگیں‘

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے عامر لیاقت کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ہر ٹی وی پروگرام کی سی ڈی عدالت میں جمع کروائیں گے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

سماعت کے دوران عامر لیاقت حسین کے مختلف پروگراموں کے کلپ بھی چلائے گئے ان میں سے ایک پروگرام ایک بھارتی ٹی وی چینل کے پروگرام ’ڈی این اے‘ کے میزبان سدھیر چوہدری کے ساتھ بھی تھا جس میں وہ انڈیپنڈنٹ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمن اور ان کے بیٹے کے خلاف تضحیک آمیز الفاظ کہہ رہے تھے۔

اس دوران عامر لیاقت کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ ان کے موکل نے مذکورہ افراد کے بارے میں کچھ نہیں کہا بلکہ وہ بھارتی باشندے کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب سپریم کورٹ کی طرف سے عامر لیاقت حسین کو کی جانے والی تنبیہ واضح الفاظ میں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کیا ہم یہاں پر اپنی تذلیل کروانے کے لیے بیٹھے ہیں۔

Image caption جب سپریم کورٹ کی طرف سے عامر لیاقت حسین کو کی جانے والی تنبیہ واضح الفاظ میں ہے۔ کیا ہم یہاں پر اپنی تذلیل کروانے کے لیے بیٹھے ہیں: چیف جسٹس

ملزم کی طرف سے غیر مشروط معافی بھی مانگی گئی جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ توہین عدالت کرنے کے بعد معافی مانگ لی جائے۔

عامر لیاقت حسین نے اس موقع پر اپنی نشست سے اُٹھ کر بات کرنے کی کوشش کی لیکن اُنھیں عدالت نے ایسا کرنے سے روک دیا۔

عدالت نے عامر لیاقت کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا فرد جرم ثابت ہونے پر اُن کے موکل قومی اسمبلی کے رکن رہ سکیں گے جس کا اُنھوں نے نفی میں جواب دیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسلا آباد ہائی کورٹ ٹی وی پروگرام میں نفرت انگیزی پھیلانے پر عامر لیاقت حسین کے پروگرام پر نہ صرف پابندی عائد کر دی تھی بلکہ اُنھیں کسی پروگرام میں بطور مبصر یا تجزیہ کار شرکت کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

اسی بارے میں