شانگلہ ضمنی انتخابات: 'یہ شوکت یوسفزئی سے زیادہ خواتین کی جیت ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ HASEENA JAMALA

صائمہ ناز ضلع شانگلہ کی رہائشی ہیں جنھوں نے پاکستان میں 25 جولائی کے عام انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال تو نہیں کیا تھا لیکن دس ستمبر کے شانگلہ کے پی کے 23 کے ضمنی انتخابات میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے باہر نکلی تھیں۔

اسی حلقے میں انتخابات کے نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے اسی وجہ سے منسوخ کیے گئے تھے کہ یہاں عورتوں کے ووٹ کا تناسب دس فیصد سے کم تھا۔

صائمہ نے شانگلہ سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ عام انتخابات میں انہیں نہ اجازت تھی اور نہ انھیں خواتین کے ووٹ کی اہمیت کا ادراک تھا لیکن اب وہ سمجھ گئی ہے۔

شانگلہ: خواتین کی ووٹنگ کی کم شرح پر انتخابات کالعدم

دس فیصد خواتین ووٹرز کے لازم ہونے پر تحفظات

'مخلتف سماجی تنظیموں کی جانب سے علاقے کے مردوں اور خواتین سے ووٹ ڈالنے کی اہمیت پر بات کی گئی تھی اورخصوصاً مردوں کو اس بات پر قائل کیا گیا تھا کہ وہ اپنے گھر کی عورتوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دیں۔'

صائمہ ناز کی طرح اس حلقےمیں ضمنی انتخابات میں ہزاروں خواتین ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلی ہیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق مجموعی طور پر ضمنی انتخابات میں 55748 ووٹ ڈالے گئے تھے جس میں 7669 خواتین ووٹرز تھیں۔

اس حلقے میں مردوں کے رجسٹرڈ ووٹ 86698 ہیں جبکہ خواتین کے رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 113897 ہے۔

اسی حلقے میں 25 جولائی کے عام انتخابات میں صرف پانچ فیصد خواتین نے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا جو اب بڑھ کر 13 فیصد سے زیادہ ہوگیا ہے۔

انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے شوکت علی (شوکت یوسفزئی) نے غیر سرکاری نتائج کے مطابق 35 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی پشاور میں سربراہ شبینہ آیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ گو کہ خواتین کے ووٹ کا تناسب بڑھ گیا ہے لیکن اب بھی وہ اس کو خوش آئند قرار نہیں دے رہیں۔

'یہ 13 فیصد سے بھی زیادہ ہونا چاہیے تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ 13 فیصد صرف الیکش کمیشن کی اس شرط کو پورا کیا گیا ہے کہ ہر ایک حلقہ میں خواتین کے ووٹوں کا تناسب ڈالے ہوئے ووٹوں کے 10 فیصد ہونا چاہیے۔'

شبینہ آیاز کہتی ہیں کہ عام انتخابات میں اسی حلقے کے مجموعی طور پر 135 پولنگ سٹیشنز جس میں 75 مشترکہ اور 16 خواتین کے علیحدہ تھے میں صرف 12 پولنگ سٹیشنز میں خواتین نے ووٹ دالا تھا لیکن ابھی بہتری ضرور آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HASEENA JAMALA

ضمنی انتخابات میں خواتین کے ووٹوں کی تعداد عام انتخابات کے مقابلے میں تقریباً دگنا ہوگئی ہے جو تقریباً 3500 سے بڑھ کر اب 7000 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

لیکن شبینہ آیاز کے مطابق اب بھی یہی لگتا ہے کہ یہ مرد ہی ہیں کہ اگر وہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دیں تو نکلیں گی ورنہ گھروں میں ہی بٹھیں گی۔

'اسی سوچ کو بدلنا پڑے گا، مردوں اور خواتین دونوں کو اس بات پر قائل کرنا ہوگا کہ جتنا مردوں کے ووٹ کی اہمیت ہے اتنی ہی خواتین بھی اہم ہیں۔'

کیا الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کے مقابلے میں اس بار خواتین کے ووٹ ڈالنے کو یقینی بنانے کے لیے کوئی اقدامات اٹھائے گئے تھے؟ اس کے جواب میں مقامی صحافی عمر باچا جنھوں نے عام انتخابات اور ضمنی دونوں کا مشاہدہ کیا نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ اقدامات اٹھائے گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ پچھلی مرتبہ خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کا ایسا بندوبست نہیں تھا کہ خواتین کو پولنگ سٹیشن کے اندر گاڑی سے اتارا جائے لیکن اس بار خواتین کو پولنگ سٹیشن کے اندر گاڑی گاڑی سے اتارا گیا۔

'اس کا فائدہ یہ ہوا تھا کہ خواتین با پردہ پولنگ سٹیشن کے اندر ہی جاکر ووٹ ڈال کر واپس اسی گاڑٰی میں گھروں کو چلی جاتی تھیں۔ چونکہ علاقے کا کلچر یہی ہے کہ خواتین مردوں کے سامنے نہیں جاتیں۔'

انھوں نے مزید بتایا کہ اس مرتبہ خواتین پولنگ سٹیشنز میں خواتین پولیس عملے کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ عام انتخابات میں مرد پولیس اہلکار تعینات تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HASEENA JAMALA

تاہم اسی علاقے سے تعلق رکھنے والی سوشل ورکر حسینہ جمال نے نے بتایا کہ ضمنی انتخابات سے پہلے آگاہی مہم بھی چلائی گئی تھی تاکہ مردوں اور خواتین دونوں کو اس پر قائل کر سکیں کہ وہ ووٹ کے لیے نکلیں۔

حسینہ جمالہ کے مطابق یہ الیکشن اصل میں خواتین کی جیت ہے کیونکہ شوکت یوسفزئی تو پہلے بھی اسی حلقے سے جیتے تھے لیکن چونکہ خواتین کے ووٹ ان کے ساتھ نہیں تھے تو اسی وجہ سے انتخابات کے نتائج منسوخ کیے گئے تھے۔

'اس مرتبہ شوکت یوسفزئی اس حلقے سے کامیاب ضرور ہوئے ہیں لیکن یہ جیت اصل میں خواتین کی جیت ہے کہ ابھی پچھلے انتخابات کے مقابلے میں خواتین کے ووٹوں کے تناسب میں دو گنا اضافہ ہوگیا ہے۔'

شوکت یوسفزئی نے اسی بات پر کہ یہ اصل میں خواتین کی جیت ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اس معاشرے کا اہم جزو ہیں اور ان کا ووٹ بھی مردوں کے ووٹ کے برابر ہے۔

تاہم انھوں نے بھی مشترکہ پولنگ سٹیشنز کی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہماری خواتین زیادہ تر چاہتی ہیں کہ پردے کا انتظام ہو تب ہی وہ ووٹ کے لیے نکلنے پر آمادہ ہوتی ہیں‘۔

'ابھی ضمنی انتخابات میں مشترکہ پولنگ سٹیشنز میں پارٹیشن کی گئی تھی تب ہی پولنگ سٹیشنز جہاں عام انتخابات میں خواتین نے ووٹ نہیں ڈالا تھا نے آکر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔'

اسی بارے میں