کوئلے کی کانوں میں حادثات کے بڑھتے واقعات

درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے نو مزدور ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ چار کو زخمی حالت میں نکال لیا گیا ہے۔

پاکستان میں ایک اطلاع کے مطابق گذشتہ دس برسوں میں کوئلے کی کانوں میں 318 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح تحصیل درہ آدم خیل کے علاقے اِخوروال میں پیش آیا ہے۔ کوہاٹ ڈویژن سے سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ کوئلے کی کان میں دھماکہ گیس بھر جانے سے ہوا جس سے وہاں کام کرنے والے مزدور ملبے تلے دب گئے۔

درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان

مقامی لوگوں اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نو افراد کی لاشیں نکالیں جبکہ چار کو زخمی حالت میں نکالا گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں دو زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا جبکہ دو کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔

درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں دو بھائی شامل ہیں اور ان سب مزدورں کا تعلق خیبر پختونخوا کے شمالی علاقے شانگلہ سے ہے۔

خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد درہ آدم خیل ضلع کوہاٹ کی ایک تحصیل ہے۔ اس علاقے میں کوئلے کی کانیں ہیں جن میں سے چند ایک پر ملکیت پر اختلاف پائے جاتے تھے۔ اس علاقے میں کوئلے کی کانوں میں پہلے بھی حادثات پیش آ چکے ہیں۔

درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان

سپریم کورٹ میں چند روز پہلے کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات کے حوالے سے ایک درخواست دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئلے کی کانوں میں گذشتہ دس برسوں میں 318 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ اس حوالے سے ازخود نوٹس لے کر اس بارے میں جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کے احکامات جاری کرے۔

درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان

یہ درخواست اسامہ خاور نامی وکیل نے سپریم کورٹ میں دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال کے ان آٹھ ماہ میں اب تک پچاس کان کن ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں بیشتر واقعات صوبہ بلوچستان میں پیش آئے ہیں۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں