پاکستانی فوج کی جانب سے خاموش لیکن مؤثر انداز میں رپورٹنگ کرنے پر پابندیاں لگائی گئی ہیں: سی پی جے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صحافیوں کی تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے بدھ کو اپنی خصوصی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کی جان کو خطرہ اور ان کے خلاف ہونے والے تشدد میں گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کمی آئی ہے لیکن مجموعی طور پر آزاد صحافت کرنے کے حالات مزید ناموافق ہو گئے ہیں۔

’ایکٹس آف انٹی میڈیشن‘ یعنی ’ڈرانے دھمکانے کے اقدامات‘ کے نام سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے لیے سی پی جے کہ دو افسران نے فروری 2018 میں پاکستان کے پانچ شہروں کا جن میں کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور اور اوکاڑہ شامل ہیں، دورہ کیا جہاں انھوں نے صحافیوں اور مختلف میڈیا کے اداروں سے ملاقاتیں کی۔

سی پی جے کی جانب سے تشکیل دی گئی رپورٹ پاکستان کے مختلف شہروں میں صحافیوں سے گفتگو کے بعد تیار کی گئی اور ان کے مطابق صحافیوں کی جانب سے دیے گئے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں 'میڈیا کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا ہے۔'

اس بارے میں مزید پڑھیے

سینسرشپ: ’حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں‘

’صحافی سیلف سینسرشپ پر مجبور‘

’جب صحافی ریاستی اداروں کی زبان بولنے لگیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ CPJ
Image caption سی پی جے کی رپورٹ کا عکس

دنیا بھر میں صحافیوں کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی اس خصوصی رپورٹ کے مطابق 'پاکستانی فوج کی جانب سے خاموشی سے لیکن مؤثر انداز میں رپورٹنگ کرنے پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ کبھی مختلف علاقوں تک رسائی حاصل کرنے سے منع کیا جاتا ہے تو کہیں پر سیلف سنسرشپ کرنے کے لیے براہ راست یا بالواسطہ طریقے سے کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے کبھی مدیروں کو فون کر کے شکایت کی جاتی ہے اور کبھی مبینہ طور پر ان کے خلاف تشدد کرنے کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔'

سی پی جے نے لکھا کہ رپورٹ کی تیاری میں انھوں نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کو سوالات کی تفصیلی فہرست ای میل کی تھی لیکن انھیں اس کا جواب نہیں ملا۔ کمیٹی کے مطابق آصف غفور نے ملاقات کی درخواست کا بھی جواب نہیں دیا اور اس کے علاوہ (سابق) وفاقی وزیر اطلاعات سے طے کی گئی میٹنگ آخری لمحات میں منسوخ کر دی گئی تھی۔

سی پی جے کی رپورٹ میں جن صحافیوں سے بات کی گئی ان کے مطابق دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد فوجی کاروائیوں کے بعد میڈیا کے اراکین کے خلاف حملوں کی تعداد میں واضح کمی آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن رپورٹ میں درج ہے کہ 'جہاں ایک جانب اچھی خبر اس حوالے سے سامنے آئی ہے کہ صحافیوں کو قتل کیے جانے کے واقعات میں کمی آئی، صحافیوں پر حملے کیے جانے کے خدشات وہیں کے وہیں ہیں۔'

ملک بھر میں چند صحافی جیسے طلحہ صدیقی اور احمد نورانی پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرنے کے علاوہ رپورٹ میں جیو ٹی وی چینل اور انگریزی روزنامہ ڈان کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’یہ ملک بھر میں آزادی صحافت پر قدغن لگانے کی مثال ہیں‘۔

سی پی جے کی رپورٹ میں اکتوبر 2016 میں ڈان میں شائع ہونے والی اس خبر کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو بعد میں 'ڈان لیکس' کے نام سے مشہور ہوئی تھی۔

ڈان اخبار کے مدیر ظفر عباس نے سی پی جے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ڈان لیکس کا معاملہ اسی لیے چلتا رہا کیونکہ ملک میں سول ملٹری تعلقات ابھی بھی ناساز ہیں۔'

سی پی جے کی رپورٹ کے مطابق 'فوج اور دوسرے طاقتور اداروں نے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو میڈیا کی آزادی میں رکاوٹ بنتے ہیں' اور اس کی وجہ سے میڈیا کو ملک کے حالات اور اہم معاملات سچائی کے ساتھ پیش کرنے میں دشواری کا سامنا ہے اور اس سے عوام کو حالات سے مکمل واقفیت نہیں ہوتی۔'

اسی بارے میں