ایک جج نے کہا کہ جرمانہ دیامیر بھاشا ڈیم فنڈ میں دیں، دوسرے نے کہا نہیں ایدھی فاؤنڈیشن کو دیں

سپریم کورٹ

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے ایک بینچ نے ایک مقدمے میں التوا مانگنے پر فریق کو 50 ہزار روپے جرمانہ کیا ہے تاہم جرمانے کی رقم جمع کروانے کے بارے میں دو جج صاحبان کے درمیان اختلاف رائے سامنے آیا ہے۔

جسٹس گلزار نے جرمانے کی یہ رقم دیامیر بھاشا ڈیم فنڈ میں جمع کروانے کا کہا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے یہ رقم ایدھی فاؤنڈیشن میں جمع کروانے کے بارے میں رائے دی، جسے تسلیم کر لیا گیا۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ صوبہ سندھ میں چنگچی رکشوں کی رجسٹریشن سے متعلق مقدمے کی سماعت کر رہا تھا کہ سماعت ملتوی ہونے کے بعد نورالنسا اور دیگر بنام یونائییڈ بینک کیس سماعت کے لیے مقرر ہوا۔

اس مقدمے کے ایک فریق کے وکیل کی جانب سے عدالت سے یہ استدعا کی گئی کہ اس مقدمے میں کچھ دیگر دستاویزات بھی درکار ہیں اس لیے اس مقدمے کی سماعت کچھ دنوں کے لیے ملتوی کر دی جائے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران دستاویزات مکمل کرنا وکیل کی اولین ذمہ داری ہے۔ مخالف فریق نے التوا مانگنے کی مخالفت کی اور استدعا کی کہ اس مقدمے کو آج ہی سنا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑی تندہی سے ڈیم بنانے کی مہم شروع کر رکھی ہے

جسٹس گلزار احمد نے التوا مانگنے پر فریق کے وکیل سردار اسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ان کے موکل پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے اور اُنھوں نے حکم دیا ہے کہ اس جرمانے کی رقم کو بھاشا ڈیم کی تعمیر کے فنڈز میں جمع کروایا جائے ۔

بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس گلزار کے اس حکم سے اختلاف کیا اور کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ جرمانے کی یہ رقم ایدھی فاؤنڈیشن کو دی جائے۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے اپنا عدالتی حکم نامہ تبدیل کروایا اور کہا کہ جرمانے کی اس رقم کو ایدھی فاؤنڈیشن کو دے دیا جائے۔

سپریم کورٹ کے شعبۂ تعلقات عامہ کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دیامیر بھاشا ڈیم فنڈ میں ایک لاکھ روپے جمع کروائے ہیں۔

سپریم کورٹ کے دیگر جج صاحبان کی طرف سے اس فنڈ میں جمع کروانے سے متعلق جب رابطہ کیا گیا تو متعقلہ حکام نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر کسی جج نے رقم اس فنڈ میں جمع کروائی ہے تو شعبۂ تعلقات عامہ کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔

پاکستان کے چیف جسٹس اس منصوبے کے بارے میں بظاہر بڑے متحرک ہیں اور گذشتہ روز ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اُنھوں نے تبصرہ کیا تھا کہ جو لوگ بھاشا ڈیم منصوبے کے خلاف باتیں کر رہے ہیں وہ دراصل غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے تقریباً 15 ارب ڈالر کی رقم درکار ہے، جبکہ ابھی تک اس فنڈ میں تقریباً تین ارب روپے جمع ہو سکے ہیں جن میں سے ایک ارب روپے پاکستانی فوج نے دیے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کی کاز لسٹ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایسے بینچوں کا حصہ بہت کم بنتے ہوئے دیکھا گیا ہے جس کی سربراہی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کر رہے ہوں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں