’ڈیم کی تعمیر کی مخالفت، آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک میں نئے ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ جن لوگوں نے ڈیم کی تعمیر کو روکنے کی کوشش کی ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

سنیچر کو چیف جسٹس نے یہ ریماکس سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں بوتلوں میں ’منرل‘ واٹر یا صاف پانی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔

صحافی عباد الحق کے مطابق سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایک موقع باور کرایا کہ انھوں نے آئین کے آرٹیکل 6 کا مطالعہ شروع کر دیا ہے اور جو لوگ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی کوشش کریں گے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

’جرمانہ بھاشا ڈیم فنڈ میں نہیں ایدھی فاؤنڈیشن کو دیں‘

ڈیم فنڈ کا چندہ اور جعلی اکاؤنٹس کی چاندی

چیف صاحب کی چپیڑ

خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک میں ڈیم کی تعمیر کے معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈز قائم کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بھی چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈیم کی تعمیر کے بارے میں مخالفانہ بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے قائم کردہ فنڈ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور تنظیموں نے عطیات دیے ہیں۔

پاکستان کے دستور میں آئین توڑنے یا اس سے انحراف کرنے والے افراد کے خلاف سزا تجویز کی ہے اور آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مرتکب شخص کے خلاف ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسی آرٹیکل کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔

فوجداری قانون کی سمجھ بوجھ رکھنے والے وکیل علی ضیاء باجوہ کے مطابق آرٹیکل 6 کے غداری کا مقدمہ صرف وفاقی حکومت کی ایما پر درج ہو سکتا ہے اور وفاقی تحقیقاتی ارادہ یعنی ایف آئی اے اس کی چھان بین کرتی ہے اور جرم ثابت ہونے پر مرتکب شخص کو عمر قید یا موت کی سزا ہو سکتی ہے۔

’منرل‘ واٹر یا صاف پانی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے خلاف از خود نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا منرل واٹر کے نام فروخت کیے جانے والے پانی واقعی کوئی منرل یا مادنیات ہوتی ہیں

سماعت کے دوران کے لاہور میں پانی اور نکاسی آب کے ادارے واسا کے ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بوتلوں میں پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں 25 پیسے فی لیٹر پر پانی حکومت سے خریدتی ہیں اور وہ 50 روپے فی لیٹر کے حساب سے عوام کو فروخت کیا جاتا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا منرل واٹر کے نام پر فروخت کیے جانے والے پانی میں واقعی کوئی منرل یا مادنیات ہوتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے قوم کی خدمت کرنا۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ آئین کی آرٹیکل چھ کا بغور مطالعہ کر رہے ہیں اور اس کا اطلاق نئے ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والے ہر شخص ہر کیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں پانی سونے سے زیادہ قیمتی ہے۔ انھوں نے پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کے سربراہان کو اتوار کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کر دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں