لگژری گاڑیوں کی فروخت: ’جب قیمتیں کم کر کے دوبارہ نیلامی کریں تو مجھے بلا لیجیے گا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
16 کروڑ کی مرسیڈیز ’مے بیک‘ کا خریدار کون؟

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے کفایت شعاری مہم کے سلسلے میں وزیر اعظم ہاؤس میں سو سے زائد عام اور لگژری گاڑیوں کی نیلامی منعقد ہوئی جہاں مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑیاں تو بک گئیں لیکن لگژری اور بلٹ پروف گاڑیوں کی نیلامی میں حکومت کی توقعات پوری نہ ہو سکیں۔

منتظمین میں سے ایک محمد آصف نے نیلامی کے آغاز سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حکومت کو امید ہے کہ اس نیلامی کی مدد سے وہ دو ارب روپے اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن اس نیلامی میں حکومت 102 میں سے 62 گاڑیاں نیلام کرنے میں کامیاب ہو سکی جن سے انھیں تقریباً پانچ سے چھ کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔

کفایت شعاری: لگژری گاڑیوں کی نیلامی کا عمل شروع

سب سے مہنگے داموں بکنے والی گاڑی 2015 ماڈل کی ٹیوٹا کی بلٹ پروف لینڈ کروزز تھی جس کی نیلامی دو کروڑ 74 لاکھ روپے میں ہوئی۔ اس کے علاوہ مرسیڈیز کی 2005 ماڈل کی چار بلٹ پروف جیپ گاڑیوں کی نیلامی بھی کامیاب ہو گئی لیکن 2016 ماڈل کی ایک بھی لگژری گاڑی بک نہ سکی۔

ان میں سے دو گاڑیاں مرسیڈیز کمپنی کی ’مے بیک‘ تھیں جن کی نیلامی کی قیمت 16 کروڑ روپے متعین کی گئی تھی لیکن کسی خریدار نے اتنی مہنگی قیمت کی وجہ سے ان گاڑیوں میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

جب نیلامی کے منتظمین نے اس گاڑی کی قیمت کا اعلان کیا تو وہاں موجود خریداروں نے زوردار قہقہہ لگایا۔

سابق رکن اسمبلی اور ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ کے رکن خواجہ سہیل منصور بھی مے بیک خریدنے نیلامی میں شامل تھے لیکن قیمت سننے کے بعد انھوں نے منتظمین کو اپنا وزیٹنگ کارڈ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ لوگوں کو خیال آ جائے اور قیمتیں کم کر کے دوبارہ نیلامی لگائیں تو مجھے بلا لیجیے گا، میری جانب سے نو کروڑ روپے آخری بولی ہے۔‘

Image caption 16 کروڑ کی مے بیک کار جو نیلام نہ ہو سکی

اس سے قبل جب 2014 ماڈل کی بی ایم ڈبلیو کی سیون سیریز کی نیلامی کی قیمت 11 کروڑ بتائی گئی تو خریداروں میں سے ایک نے کہا کہ 'جو کوئی بھی آصف زرداری کا قریبی ساتھی ہے سامنے آ جائے۔'

یاد رہے کہ عمران خان نے وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ ایوانِ وزیرِ اعظم کی 88 لگژری گاڑیوں کو نیلام کر دیں گے، تاہم حکومت کی جانب سے دو ستمبر کو دیے گئے اشتہار میں صرف 59 گاڑیاں ہی ایسی تھیں جنھیں ’لگژری‘ گاڑیاں قرار دیا جا سکتا ہے اور اُن میں سے بھی کئی پرانے ماڈل کی گاڑیاں تھیں۔

Image caption مرسیڈیز گاڑیاں

نیلامی کی تقریب پیر کی صبح 11 بجے وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں واقع میدان میں منعقد ہوئی جہاں سے مارگلہ کی پہاڑیوں کا دلکش منظر نظر آتا ہے۔

لیکن نیلامی میں شرکت کرنے کے لیے آنے والے حضرات کے لیے صرف ایک پنڈال قائم کیا گیا تھا جہاں تقریباً پانچ سو کے قریب لوگ موجود تھے۔

نیلامی کے لیے رکھی گئی 102 گاڑیوں میں سے پہلے اُن 34 گاڑیوں کی فروخت ہوئی جو مقامی طور پر تیار کی گئی تھیں۔ ان گاڑیوں کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہوا تھا جن میں سے ایک مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑیاں، دوسری بیرون ملک تیار کی گئی غیر بلٹ پروف گاڑیاں اور تیسری کیٹیگری بلٹ پروف گاڑیوں پر مشتمل تھی۔

سب سے پہلی نیلام ہونے والی گاڑی 2010 ماڈل کی ٹیوٹا کرولا تھی جو کے 11 لاکھ روپے میں بک گئی۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے افضل نے دو گاڑیاں خریدیں جن میں سے ایک نیلامی میں فروخت ہونے والی سب سے سستی گاڑی، 2005 ماڈل کی سوزوکی مہران شامل تھی جس کے لیے انھوں نے 295000 روپے کی کامیاب بولی لگائی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گاڑیاں انھوں نے اپنے بیٹے کے لیے خریدیں ہیں اور انھیں مارکیٹ کی قیمت سے قدرے زیادہ رقم پر گاڑیاں خریدنے میں کوئی عار نہیں ہے کیونکہ ’یہ سب رقم تو ہمارے ملک کے خزانے میں جائے گی اور ہمارے وزیر اعظم کی یہی خواہش ہے۔‘

Image caption نیلامی میں شرکت کرنے کے لیے آنے والے حضرات کے لیے صرف ایک پنڈال قائم کیا گیا تھا

2016 ماڈل کی دو بی ایم ڈبلیو جیپ کا بھی کوئی خریدار نہیں تھا اور نہ ہی 1993 ماڈل کی 14 مرسیڈیز ایس 300 کلاس کی گاڑیوں کو کوئی خریدار ملا۔

اس کے علاوہ نیلامی میں چند گاڑیوں کی نیلامی روک دی گئی کیونکہ ان پر لگائے گئے ٹیکس اور ڈیوٹی کی رقم کا درست طور پر حساب نہیں لگایا گیا تھا۔

جب نیلامی میں پرانے ماڈل کی گاڑیوں کی بولی شروع ہوئی تو 1986 ماڈل کی کرولا کو زیادہ قیمت نہیں مل رہی تھی۔ اس پر نیلامی کے منتظم نے کہا کہ خریدار زیادہ بولی لگائیں۔

اس کے جواب میں ایک شخص نے فقرہ کسا کہ ’بھائی 30 سال پرانی گاڑی ہے، کیوں زیادہ بولی لگائیں، یہ تو یہاں سے پارلیمنٹ ہاؤس تک بھی نہیں جائے گی۔‘

Image caption ایک کروڑ 45 لاکھ کی جیپ

ڈیرہ غازی خان سے آئے ہوئے ایک خریدار نے 2009 ماڈل کی کرولا 12 لاکھ روپے میں خریدی۔ بی بی سی کے اس سوال پر کہ کیا انھیں مارکیٹ میں یہ گاڑی بہتر قیمت پر نہیں مل جاتی، تو جواب میں انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کی استعمال کی ہوئی گاڑی کی بات ہی اور ہوتی ہے اور ملک کو فائدہ بھی ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ گاڑی اگر مجھے نفع نہیں دے گی تو اس سودے میں میرا نقصان بھی نہیں ہوگا۔‘

گاڑیوں کو خریدنے کے لیے آنے والے افراد میں حکومت کی جانب سے چار ہیلی کاپٹروں اور آٹھ بھینسوں کی نیلامی کے بارے میں بھی کافی تجسس تھا اور انھوں نے بار بار منتظمین سے ان کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ ان کی نیلامی کب ہوگی۔

اس بارے میں نیلامی کے منتظمین نے بتایا کہ تاریخ کی تصدیق بعد میں کی جائے گی لیکن امکان ہے کہ وہ نیلامی 27 ستمبر ہو گی۔

اسی بارے میں