پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکن حیات پریغال کی ضمانت منظور

Image caption جلسے کے آغاز سے قبل شرکا نے پوسٹرز اٹھائے رکھے تھے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے سائبر کرائم میں گرفتار کئے گئے پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکن حیات پریغال کی ضمانت منظور کر لی ہے، اور وہ جمعرات کو قانونی کاروائی کے بعد اڈیالہ جیل سے رہا ہوجائیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس امیر فاروق نے منگل کو حیات پریغال ضمانت کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ حیات پریغال کو ڈھائی ماہ قبل ڈیرہ اسماعیل خان سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے رات کے وقت گھر سے گرفتار کیا تھا۔

پیر کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پاکستانی حکام سے حیات پریغال کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور اُن کے خلاف چلائے گئے مقدمے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار خدائے نور ناصر کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کے حیات پریغال دبئی میں ایک فارماسسٹ کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور جون میں اپنے خاندان سے ملنے چھٹیوں پر پاکستان آئے تھے۔

اسی بارے میں

فوج کے خلاف بھڑکانے پر پی ٹی ایم کے خلاف مقدمات

اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر اپنے آپ کو کالومیسٹ، بلاگر، نیوز ایڈیٹر اور ہیومنسٹ کہنے والے حیات پریغال کا شمار پشتون تحفظ موومنٹ کے اہم کارکنوں میں ہوتا ہے، جو سوشل میڈیا پر اپنے اکاونٹس کے ذریعے تنظیم کے لئے سرگرم تھے۔

واضح رہے کہ حیات پریغال کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر کئی مرتبہ اُن کی رہائی کے لئے انسانی حقوق کے لئے سرگرم کارکنوں نے آواز اُٹھائی تھی۔

حیات پریغال پر ایک شہری نے پاکستان کے خلاف اور پاکستان میں موجود قوموں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا الزام لگایا گیا۔ وہ الزام جس کی پریغال کا خاندان، پشتون تحفظ موومنٹ اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکن رد کرتے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے حیات پریغال کی ضمانت پر منظوری پر اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اُن تمام کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ہے، جنہوں نے اُن کے بقول حیات پریغال کی رہائی کے لئے مہم چلائی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں