اسلام آباد: پولیس خاتون کمانڈو کو ریپ کرنے والے کی تلاش میں ناکام

پولیس کمانڈو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسلام آباد میں حالیہ چند مہینوں میں خواتین کے ریپ کے چند واقعات پیش آئے ہیں تاہم کسی سکیورٹی ادارے کی اہلکار کے ساتھ ایسا پہلی بار ہوا ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی ایک خاتون پولیس کمانڈو ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرِعلاج ہیں تاہم واقعے کو چھ دن گزر جانے کے باوجود پولیس ابھی تک ملزم تک نہیں پہنچ پائی ہے۔

اسلام آباد میں حالیہ کچھ عرصے میں پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ ہے جس میں کسی سکیورٹی ادارے کی اہلکار کو جنسی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہو۔

پولیس نے اس معاملے میں ریپ اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق جس مقام کی نشاندہی متاثرہ خاتون اہلکار نے کی ہے وہاں کا سی سی ٹی وی کیمرہ خراب تھا۔

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے تحقیقات کے سلسلے میں شک کی بنیاد پر انسدادِ دہشت گردی سکواڈ کے ایک اہلکار کو شاملِ تفتیش کیا ہے جبکہ اس سے پہلے متاثرہ خاتون کے 'ناراض شوہر' کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا تھا تاہم انھیں اب رہا کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

اسلام آباد: 11سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل، ملزمان گرفتار

اسلام آباد: لڑکی سے جنسی زیادتی، ملزمان کا جوڈیشل ریمانڈ

اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پولی کلینک کی میڈیکو لیگل ٹیم نے مذکورہ خاتون سے ریپ اور ان پر تشدد کی تصدیق کی ہے۔

خاتون اہلکار کی جانب سے دائر کردہ ایف آئی آر کے مطابق وہ واقعے کے دن رینجرز کے ساتھ گشت پر تھیں۔ ایف آئی آر میں درج ان کے بیان کے مطابق وہ سنیچر کی شب نو بج کر 45 منٹ پر ڈیوٹی ختم کرکے گھر کے لیے روانہ ہوئیں، لیکن بس سٹاپ پر والد کو نہ پا کر خود گھر کی جانب پیدل چل پڑیں۔

اس دوران ان پر حملہ ہوا اور حملہ آور نے قریبی جھاڑیوں میں ان پر جنسی تشدد کیا جس سے وہ بےہوش ہو گئیں۔ ہوش میں آنے کے بعد انہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق خون بہہ جانے اور اندرونی زخم کی وجہ سے ان کی حالت خاصی تشویشناک تھی۔

اس خاتون کے پولیس کو بیان کے مطابق حملہ آور نے پیچھے سے ان پر حملہ کیا تھا اور وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکی تھیں۔ ایف آئی آر کے مطابق اہلکار نے بیان میں کہا کہ ’اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، اس کی مونچھیں تھیں اور کافی طاقتور تھا۔ اس شخص نے بھورے رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایس ایس پی آپریشن کے مطابق اس وقت پولیس کی چھ ٹیمیں اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں

ابتدا میں انھیں اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پولی کلینک لے جایا گیا جہاں سے انھیں دوسرے روز وزیرِ مملکت برائے داخلہ کی ہدایت پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پولی کلینک کی میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر دُردانہ کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر تھی، تاہم ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں مزید علاج کے لیے شفا منتقل کیا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں متاثرہ خاتون کے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے اور اس کی بنیاد پر پہلے ان کے شوہر اور اب محکمے کے ہی ایک اہلکار کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔ تاہم اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی امین بخاری کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ ’پولیس ٹارگٹڈ‘ نہیں ہے کیونکہ اہلکار نے واقعے کے وقت یونیفارم پر برقعہ پہن رکھا تھا۔ ان کے خیال میں جس طرح متاثرہ خاتون کو نقصان پہنچانے کوشش کی گئی ہے اس سے یہ دشمنی کا معاملہ لگتا ہے۔

ایس ایس پی آپریشن کے مطابق اس وقت پولیس کی چھ ٹیمیں اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد میں گذشتہ چند ماہ میں مختلف خواتین سے جنسی زیادتی اور ان پر جنسی حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں شہر کے فاطمہ جناح پارک میں آنے والی ایک خاتون کی جانب سے اجتماعی ریپ کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے مارچ میں شہر کے پوش علاقے سیکٹر ایف الیون سے ملحقہ کچی آبادی میں دو افراد نے گیارہ سالہ بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر اسے قتل کر دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں