پاکستانی میڈیا میں سینسرشپ اور سیلف سینسرشپ

فیچر اور تجزیے

بج رہا ہے اور بےآواز ہے

ایسے بزدل صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کا کیا کریں۔وہ کسی ایک پر انگلی تک نہیں رکھ سکتے کہ کون ہے ان کے خود ساختہ مصائب یا تصوراتی مشکلات کا ذمہ دار حتیٰ کہ کسی نان سٹیٹ ایکٹر کا نام بھی آزو بازو دیکھ کر ایسے لیتے ہیں جیسے منے کے ابا کہہ رہے ہوں۔

سینسر شپ کی ناک

صحافت سے وابستہ ہوئے دو عشروں سے زیادہ بیت گئے، آزادی صحافت اور آزادی اظہار کا جھنجھنا بجاتے ہمیشہ یہ مقولہ ذہن نشین رہا کہ میری آزادی وہاں تک محدود ہے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہو جاتی ہے۔

چُپ کا موسم

پہلے سینسر شپ اور پھر سیلف سینسر شپ۔ اب کسی کو نہ پابندی لگانے کی ضرورت اور نہ ہی آواز بند کرنے کا تردد۔ اب بھی وقت ہے اِس موسم کی چُپ کو توڑا جائے، بولا جائے، ایک آواز اور ایک زُبان ہو کر کیونکہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

کیا پاکستان میں میڈیا پر کوئی پابندی نہیں؟

ایک طرف وزیرِ اطلاعات کہتے ہیں انھیں کسی صحافی کی جانب سے سنسرشپ کی کوئی شکایت نہیں آئی، تو دوسری جانب صحافتی تنظیموں نے منگل کے روز ملک بھر میں غیر اعلانیہ سنسرشپ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔

’سینسرشپ پر بات کرنے پر بھی سینسر کا سامنا‘

پاکستان میں سینسرشپ کا معاملہ ایک قدم اور آگے بڑھ گیا ہے اور اب نیوز ویب سائٹس کو بند اور اخبارات کی ترسیل کو روکا جا رہا ہے۔

’سڑک پر بھی خوف، قلم اُٹھاتے ہوئے بھی خوف‘

پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے ’ریاست مخالف پراپیگنڈے‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے سے جہاں صحافیوں کے لیے خطرات بڑھے ہیں وہیں اس بارے میں بات ہو رہی ہے کیا کچھ اداروں سے محب وطنی کا سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہے؟