ناصر درانی کا استعفیٰ: ’پولیس کو غیرسیاسی بنانے کی سرکاری پالیسی کو دھچکا‘

ناصر درانی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق آئی جی خیبرپخونخوا ناصر درانی کو پنجاب پولیس میں اصلاحات کی خصوصی ذمہ داری سونپی گئی تھی

پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایک بار پھر ایک تنقید کی زد میں ہے۔ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج، سٹاک انڈیکس میں گراوٹ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے بعد اب پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن کے چیئرمین ناصر درانی کے استعفے کا معاملہ سوشل میڈیا پر زیربحث ہے۔

سینیئر پولیس آفیسر ناصر درانی نے اپنا استعفی ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے پنجاب پولیس کے انسپیکٹر جنرل کو تبدیل کرتے ہوئے امجد جاوید سلیمی کو نیا آئی جی پنجاب تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

منگل کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق نیشنل پولیس اکیڈمی میں بطور کمانڈنٹ فرائض سرانجام دینے والے گریڈ 22 کے پولیس افسر امجد جاوید سلیمی کو پنجاب پولیس کا نیا آئی جی تعینات کیا گیا تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی جی پنجاب پولیس کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

یہ بھی پڑھیں!

آئی ایم ایف کے پاس جانے کے تین فائدے اور تین نقصان

ڈالر پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح پر

سٹاک ایکسچینج ایک دن میں گیارہ سو پوائنٹ کیوں گرا؟

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا پابندی کے باوجود آئی جی پنجاب کا تبادلہ کرکے الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔

الیکشن کمیشن نے 14 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دور حکومت کے ابتدائی دنوں میں سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی کو چیئرمین پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن تعینات کیا تھا اور انھیں پنجاب پولیس میں اصلاحات کی خصوصی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

حکومت کا کہنا تھا کہ انھیں یہ عہدہ خیبر پختونخوا کی پولیس میں بہتری لانے پر دیا گیا تھا جو انھوں نے بطور آئی جی خیبرپختونخوا کے انجام دی تھیں۔

ناصر درانی کے استعفے پر سوشل میڈیا پر بہت سے پاکستانی صارفین اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں جن میں بیشتر افراد نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ٹوئٹر پر اس وقت پاکستان میں سرفہرست ٹرینڈ بھی ناصر درانی کا نام ہے۔

تجزیہ کار اسد منیر نے لکھا کہ ’ناصر درانی کے پولیس ریفارم کمیشن پنجاب بطور چیئرمین استعفی دینے کا جان کر بہت افسوس ہوا۔ میں نے ان کے ساتھ خیبرپختونخوا کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تین سے زائد سال کام کیا۔ یہ پی ٹی آئی نہیں وہ تھے جنھوں نے کے پی پولیس کو ایک طاقت سے خدمت میں ڈھالا۔‘

سابق ڈی جی ریڈیو پاکستان اور صحافی مرتضی سولنگی نے لکھا کہ ’ناصر درانی کا استعفی عمران خان انتظامیہ کی گرتی ہوئی ساکھ کو ایک بڑا دھچکا ہے۔‘

سینیئر صحافی عباس ناصر نے بھی ناصر درانی کے استعفے کو پی ٹی آئی کی پولیس کو غیرسیاسی بنانے کی سرکاری پالیسی کو دھچکا قرار دیا۔

ایک صارف جیکب احمد نے لکھا کہ ’سر ناصر درانی کا استعفی افسوس ناک ہے۔ ایسا صحت کی خرابی یا سیاسی مداخلت کی وجہ ہوا لیکن اس کے باوجود شعبہ (پولیس) کے لیے بہت بدقسمتی ہے۔‘

ایک صارف مریم نے لکھا کہ ’ناصر درانی۔۔۔ ہم آپ کو چھوڑ کر جانے والا نہیں سمجھتے۔ آپ نے کے پی پولیس کے لیے حیران کن کام کیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں آپ پنجاب پولیس میں تبدیلی لائیں گے۔ براہ مہربانی حوصلہ نہ ہاریں۔ پنجاب پولیس کو آپ کی اشد ضرورت ہے۔‘

ایک اور صارف علی حیدر میرانی نے کہا کہ ’ناصر درانی کا استعفی قبول نہیں کرنا چاہیے۔ وہ پولیس میں اصلاحات کی اہلیت رکھتے ہیں، عمران خان کو ان کے تحفظات سننے چاہییں اور اس کو معاملے کو حل کر کے انھیں واپس لانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں