سینسر شپ کی ناک

سینسر شپ

آج کل ٹی وی چینلز کے خبرناموں میں اکثر ایسے مناظر شامل ہوتے ہیں جن میں دکھایا جاتا ہے کہ برسوں کی محنت سے کھڑے کیے گئے فن تعمیر کے شاہکار کو چند سیکنڈز میں بارود کی مدد سے زمین بوس کر دیا جاتا ہے، کبھی کسی طویل پل کو گرانے کی فلمبندی پیش کی جا رہی ہوتی ہے تو کبھی ماضی کے حسین طرز تعمیر کو ناکارہ قرار دے کر اس کے نشانات مٹائے جا رہے ہوتے ہیں۔

اپنی جیسی نسل کے ہاتھوں سے تراشیدہ ایسے عجوبوں کو ایسی بے رحمی سے گرانے والے بھی اگرچہ انسان ہی ہیں اور ان کا مطمع نظر متروک عمارتوں کی جگہ جدید اور محفوظ تعمیرات کرنا ہوتا ہے لیکن برسوں کی محنت کو چند سیکنڈز میں نیست و نابور ہوتے دیکھ کر ان کا دل بھی ایک بار دل ضرور دکھتا ہے جن کا ان عمارتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں ہوتا۔

پاکستان میں سینسر شپ: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

ایک لمحے کے لیے ذرا تصور کریں کہ جب سخت تپسیا کے بعد کوئی چیز آپ نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہو لیکن یا تو اس کی شکل ہی بگاڑ دی جائے یا اسے اٹھا کر کوڑے دان کے حوالے کر دیا جائے تو آپ کے دل پہ کیا گزرے گی۔ یقیناً اس سوال کے جواب میں جو واہیات خیالات آپ کے ذہن میں آ رہے ہیں، بطور صحافی بالکل کچھ ایسے ہی جذبات اس وقت میرے ہوتے ہیں جب میں گھنٹوں بلکہ دنوں کی عرق ریزی کے بعد کوئی کالم لکھ کے بھیجتا ہوں، بےچینی سے انتظار کرتا ہوں اور اگلے دن خوشی خوشی اخبار اٹھاتا ہوں کہ جائزہ لوں میں نے اپنے قلم سے جو الفاظ تخلیق کیے تھے وہ پھولوں کی صورت میں خوشبو دے رہے ہیں یا نشتر بن کر کسی کو چبھ رہے ہیں۔

بج رہا ہے اور بےآواز ہے

میڈیا سینسر شپ: پاکستان بھی سعودی،چینی ماڈل پر عمل پیرا؟

کون سی صحافت،کیسی اظہارِ آزادی؟

کیا پاکستان میں میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہے؟

چُپ کا موسم

میری ساری گرمجوشی اس وقت مایوسی کا روپ دھار لیتی ہے جب مجھے ادارتی صفحات پر کہیں اپنا کالم نظر نہیں آتا۔ اسی لمحے پہلا لفظ جو میرے ذہن میں آتا ہے وہ ہے؛سینسرشپ؛

اسی طرح اپنے کسی اہم ’سورس‘ سے دستاویزات سمیت اہم خبر ہاتھ لگتی ہے تو ’سکُوپ‘ کے تانے بانے بنتے آفس پہنچتا ہوں۔ ایکسائٹمنٹ سے اپنی پھولی ہوئی سانسوں میں اپنے باس (بیورو چیف) کو بریکنگ نیوز کی تفصیلات سے آگاہ کرتا ہوں، خبر کی اہمیت جتانے کے لیے دستاویزات کا پلندہ لہراتے ہوئے ان کے سامنے رکھتا ہوں لیکن ان کے ایک جملے سے ساری خوشی کافور ہو جاتی ہے جب وہ سپاٹ لہجے میں باور کراتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن سوری یار یہ خبر نہیں چل سکتی۔ ان سے کافی دیر بحث مباحثے کے بعد جب بوجھل دل اور شکست خوردہ حالت میں ان کے کمرے سے باہر نکل رہا ہوتا ہوں تو وہی لفظ کوندے کی طرح دماغ میں لپکتا ہے ’سینسر شپ‘۔

سینیٹ یا قومی اسمبلی کے اجلاس میں بعض اوقات سوالات کے تحریری جوابات کی صورت میں، کسی قرارداد، تحریک التوا یا توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث کے دوران بعض موضوعات پہ ایسی اہم معلومات حاصل ہو جاتی ہیں جو بطور صحافی اپنے طور پر لینے کی کوشش میں جوتے بھی گھس جائیں تو ملنا ممکن نہ ہو۔ ایسی نادر معلومات پر مبنی خبر فائل کرتے یا رپورٹ کا سکرپٹ تیار کرتے ہوئے بھی دل ہی دل میں خوشی محسوس ہو رہی ہوتی ہے کہ یہ حساس معلومات جب ٹیلی کاسٹ ہوں گی تو تھرتھلی مچ جائے گی تاہم پہلا دھچکا اس وقت لگتا ہے جب خبر یا سکرپٹ کی ایڈیٹنگ کرنے والا کاپی ایڈیٹر ہاتھ کھڑے کر دیتا ہے کہ پہلے باس (بیورو چیف) سے اس کی منظوری لے لیں کہ کیا یہ معلومات خبر یا رپورٹ میں شامل ہوں گی یا نہیں۔

فائل کی گئی خبر یا رپورٹ کا سکرپٹ لے کر جب باس سے منظوری لینے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہی ڈھاک کے تین پات۔ ہدایات ملتی ہیں کہ صرف یہ ذکر کر دیں کہ فلاں حوالے سے بھی معلومات ایوان کو فراہم کی گئیں۔ یوں منہ لٹکائے اس پھسپھسی خبر یا رپورٹ پر وائس اوور دیتے ہوئے کئی بار زبان لڑکھڑاتی ہے کیونکہ دماغ میں وہی لفظ اٹک رہا ہوتا ہے’سنسرشپ‘۔

روایتی میڈیا سے زیادہ چونکہ اب سوشل میڈیا عوام میں مقبول ہو چکا ہے اس لیے سوشل میڈیا پہ بھی ’باخبر‘ صحافی اور اہم شخصیات سے تعلقات کی دھاک بٹھانے کے لیے ٹویٹ کے ذریعے معلومات شیئر کرنے کا جنون سر پہ سوار رہتا ہے۔ ساتھ فالوورز کی تعداد بڑھانے کا بھی چسکا لگ چکا ہے اس لیے کوشش ہوتی ہے کہ جو بات روایتی میڈیا پہ نہیں کی جا سکتی وہ دھڑلے سے سوشل میڈیا کی لہروں کے حوالے کر کے پاکستان کیا دنیا بھر میں اس کے وائرل ہونے کا تماشا دیکھا جائے۔

ٹویٹ پر چونکہ اپنی بات صرف 140 حروف میں بیان کرنے کی پابندی ہوتی ہے اس لیے تمام تر صحافتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایسی مختصر تحریر لکھ کے ٹویٹ کا آپشن دبا کر اپنا ہی لکھا پڑھتے اور تیزی سے اس کے لائیک اور ری ٹویٹ دیکھ کر دل ہی دل میں خود کو داد پیش کر رہا ہوتا ہوں کہ اچانک موبائل کی سکرین پر چمکتا باس کا واٹس ایپ نمبر رنگ میں بھںگ ڈال دیتا ہے کیونکہ ہیلو کے بعد دوسری طرف سے پھر ویسے ہی سپاٹ لہجے میں ہدایت ملتی ہے کہ اپنی ٹویٹ فوری ڈیلیٹ کر دو۔

کئی تاویلیں پیش کرتے ہوئے بہت چوں چراں کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن دوسری طرف سے تحکمانہ لہجے میں یہ کہہ کر فون بند کر دیا جاتا ہے جو کہا گیا ہے وہ کرو۔ ’نوکر کیہ تے نخرا کیہ‘ کے مصداق حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس ٹویٹ کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیتا ہوں۔

صحافت سے وابستہ ہوئے دو عشروں سے زیادہ بیت گئے، آزادی صحافت اور آزادی اظہار کا جھنجھنا بجاتے ہمیشہ یہ مقولہ ذہن نشین رہا کہ میری آزادی وہاں تک محدود ہے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہو جاتی ہے۔ برسوں وطن عزیز میں اس جھنجھنے کو بھاری بوٹوں کے نیچے دبا کر کرچی کرچی کیا جاتا رہا اور آج کل یہ صورتحال ہو چکی ہے کہ دوسرے نے اپنی ’ناک‘ کھینچ کر اتنی لمبی کر لی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور اس سے متعلق معاملات کو ضبط تحریر میں لانا تو دور کی بات، خلائی مخلوق کا لفظ بھی لکھو تو یہ ناک نمودار ہو جاتی ہے۔ عدلیہ کے ’بلاامتیاز‘ انصاف پر روشنی ڈالو تو پھر ناک آڑے آ جاتی ہے۔

عام انتخابات میں دھاندلی بھی اسی ناک کے دائرے میں جا چکی اس لیے دھاندلی کا لفظ بھی ممنوع ہو چکا۔ وزیراعظم اور حکومت پر تنقید کا مطلب بھی دوسرے کی ناک سے چھیڑخانی بن چکا۔ کالعدم تنظیموں بارے کچھ لکھنا تو ناک سے بال کھینچنا تھا ہی مذہبی جماعتوں کے متعلق ’ہرزہ سرائی‘ بھی دوسرے کی ناک کو ٹھوکر مارنے کے مترداف ٹھہری۔ ادھر مذہب سے متعلق کوئی لفظ لکھا نہیں ادھر آپ پر دوسرے کی ناک کو زخمی کرنے پر فتووں کی بھرمار شروع۔

انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پہ قائم این جی اوز بھی اتنی مقدم ہو چکیں کہ ذرا سی تنقید کی نہیں کہ لبرلز کی ناک قلم کو ٹکریں مارنے لگتی ہیں۔ بحریہ ٹاؤن جیسے اشتہاری مافیاز کے بارے کچھ لکھنے کا مطلب تو اپنی ناک کٹوانے والی بات ہو چکا اور تو اور اس سینسر شپ کے بارے میں لکھنا تو درکنار سوال اٹھانا بھی گستاخی کے زمرے میں آ چکا جس سے متعلق ادارتی انتظامیہ یہ تک بتانے کی روادار نہیں کہ سنسر شپ کی یہ ناک کس نے اور کب کھینچ کے آزادی اظہارکی راہ میں حائل کی ہے۔

ناک گردی کے اس ماحول میں اہلخانہ،عزیزو اقارب اور دوستوں کی ان نصیحتوں کے بعد کہ ابھی تو تمہارے صرف کالم اور خبریں غائب ہوتی ہیں خدارا کہیں خود غائب نہ ہو جاؤ، آزادی اظہار کے حوالے سے میرا سارا زور صرف ان بیچارے سیاست دانوں پر چلتا ہے جن کی کوئی ناک ہے ہی نہیں۔

٭ یہ تحریر بی بی سی اردو کی پاکستان میں سینسرشپ سیریز کے لیے خصوصی طور پر پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک رپورٹر نے لکھی ہے۔

اسی بارے میں