’دس منٹ میں چینل بند کر دیں ورنہ ٹرک آئے گا اور سب لے جائے گا‘

کیبل چینل

پاکستان میں حکومت اور صحافیوں کے درمیان تعلقات آزادئ اظہار کو لے کر اکثر کشیدہ رہے ہیں۔ زیر عتاب صحافیوں کو نشانہ بنانے کا عمل تسلسل سے جاری ہے۔ سرکاری بیانیے کی مخالفت کرتے نیوز چینلز کو کیبل پر آگے پیچھے کر کے اور اخبارات کی ترسیل اور اشتہارات کی تقسیم پر اثرانداز ہو کر مخالف سمجھی جانے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بی بی سی اردو نے اپنی اس سیریز میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان میں سینسرشپ کی صورتحال کیا ہے۔ آج پڑھیے دباؤ کا سامنا کرنے والے ایک کیبل آپریٹر کی داستان۔

ہم کیبل آپریٹرز کے لیے تحریری طور پر تو کوئی بھی قانون نہیں۔ ہاں! ہمارے لیے ایک ہی قانون ہے کہ جو بھی کرنا ہے پیمرا کی مرضی کے تحت کرنا ہے۔ پیمرا والوں کا جب بھی دل چاہے، جو دل چاہے وہ قانون بنا دیتے ہیں۔

اس وقت کل 125 چیینلز چل رہے ہیں جن میں سے فریکوئنسی 70 سے 75 چینلز کی ہے۔ اس میں پھر یہ ہوتا ہے کہ ہماری چوائس تو ہوتی ہے لیکن پیمرا اپنی مرضی کے چینل بھی چلواتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ ہم خود اپنی مرضی سے بغیر کسی وجہ کے کسی چینل کو بند نہیں کر سکتے۔

پاکستان میں سینسر شپ: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

کیبل کا کاروبار کرتے 18 سال ہو گئے اور اس عرصے میں میری نظر میں سب سے آسان دور پرویز مشرف کے دور کا آغاز تھا اور سب سے مشکل یہ پچھلے پانچ سال تھے۔

شاید مشرف کے دور میں اس لیے آسانی تھی کیونکہ اس وقت پیمرا نہیں پی ٹی اے کے تحت کام کرتے تھے۔

اب کیبل آپریٹرز کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی چینل کو جسے لوگ پسند کرتے ہیں بند کر دیں گے تو وہ کام کیسے کریں گے۔ ایسے تو کیبل نہیں چل سکتی۔ اب اگر آپ کہیں کہ جیو، ڈان، اے آر وائی جیسے بڑے چینلز کو بند کر دیں تو کیبل چلے گی کیسے؟

پاکستانی صحافت میں پر لگائے جانے والی قدغنوں کے بارے میں مزید پڑھیے

سینسر شپ کی ناک

بج رہا ہے اور بےآواز ہے

میڈیا سینسر شپ: پاکستان بھی سعودی،چینی ماڈل پر عمل پیرا؟

کون سی صحافت،کیسی اظہارِ آزادی؟

کیا پاکستان میں میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہے؟

چُپ کا موسم

مجھے لگتا ہے کہ ہم کیبل آپریٹرز پر دباؤ کا سب سے برا دور گذشتہ دورِ حکومت میں رہا۔ اس دوران زیادہ نہیں بس ایک ہی چینل کو بند کرنے کو کہا گیا اور وہ جیو نیوز تھا۔ یہ دباؤ ایک نہیں تین، تین جانب سے تھا۔

پیمرا والے کہتے تھے جیو چلائیں، ’ایجنسیوں‘ والے کہتے تھے جیو بند کریں اور پھر جیو دھمکی دیتا تھا کہ اگر ہمیں بند کیا تو ہم عدالت میں چلے جائیں گے۔ جب حکومت نے جیو کی بندش ختم کرنے کو کہا تب بھی جیو کو اوپر کے احکامات پر بند کرنا پڑا تھا اور پھر جیو عدالت میں گیا بھی اور حکم لے کر آگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حقیقت یہ ہے کہ مجھے ایک ’ان نون‘ یعنی نامعلوم کالر کی کال آئی اور وہ بھی ایسے نمبر سے جو سکرین پر ظاہر نہیں ہوتا۔ (یہ اصطلاح پاکستان میں عموماً خفیہ اداروں سے آنے والی کالز کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے)۔ ایسی کالز میں بس یہ کہا جاتا ہے کہ ہیڈکوارٹر سے بات کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بار میں نے پوچھا نام کیا ہے آپ کا تو انھوں نے کہا کہ نام کو چھوڑو۔ میں نے کہا کہ پہلے آپ مجھے وجہ بتائیں کہ میں کیوں جیو کو بند کروں وجہ نہ بتائی تو میں نہیں بند کروں گا۔

میں نے کہا اوپر کون ہے؟ کس کے آرڈر ہیں؟ تو انھوں نے کہا بچے مجھے نہیں پتہ۔۔۔

پھر فون بند کر دیا گیا اور پھر پانچ منٹ بعد دوبارہ کال آئی اور کہا گیا کہ میں نے آپ کو پہلے فون کیا کہ بند کر دیں چینل کو لیکن آپ نے بحث کی۔ اب آپ اسے دس منٹ میں بند کر دیں ورنہ ٹرک آئے گا اور پھر آپ سمیت سب کچھ لے جائے گا۔ ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔

میں چینل بند نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن آخرکار میں نے بھی دھمکیاں ملنے کے بعد سوچا یوں تو بزنس ختم ہو جائے گا میں اکیلا کیسے لڑ سکتا ہوں۔

ہمیں تو اپنی روزی روٹی چاہیے ہم سمجھتے ہیں جو لوگوں کی پسند ہے اسے چلنا چاہیے۔ میں نے سوچا مجھے کیا ہے کہ میں سب سے الگ ہو کر ان سے لڑوں۔ دراصل میں نے انھیں موقع دے دیا تو انھوں نے دھمکی دی ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ عام طور پر بہت پیار سے کہتے ہیں کہ بند کر دیں ہمیں اوپر سے آرڈر آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پھر جب میں نے جیو کو بند کر دیا تو ان کی پھر کال آئی تو ہم نے انھیں بتایا کہ جی چینل بند کر دیا ہے تو انھوں نے کہا کہ ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ آپ نے بند کر دیا ہے۔

ہم عدالت جانے کے بارے میں نہیں سوچتے۔ اتنے پیسے نہیں کہ کیس لڑیں۔ چالیس پچاس لاکھ کون دے کیس کا؟ اس دھمکی والی کال پر میں نے جب پیمرا کو فون کیا تو انھوں نے بھی کچھ صحیح جواب نہیں دیا، ڈبل مائنڈڈ لگے۔ وہ بھی ڈرے ہوئے تھے شاید؟ کہنے لگے 'آپ دیکھ لیں چلا دیں، بند کر دیں۔۔۔'

ہم نے تو فون کرنے والوں کو یہ بھی کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے آرڈر ہیں ہمیں عدالت جرمانہ کرے گی۔ ہمیں کہا گیا تم فکر نہیں کرو ہم تمھارے ساتھ ہیں، ہم ذمہ دار ہیں۔ میں نے کہا نمبر تو ہے نہیں آپ کیسے ذمہ دار ہیں تو انھوں نے بتایا کہ ہم ملک کے ساتھ ہیں، ہم ملک کے لیے کر رہے ہیں۔

میں نے کہا پھر سب چینلز بند کریں۔ مجھے لگتا ہے کہ پیمرا اگر ڈٹ جاتا تو کیبل آپریٹرز جیو بند نہیں کر سکتے۔ ہمیں بس یہ پتہ چلا تھا کہ جیو نے کچھ ایسی چیز چلائی ہیں لیکن ہم چونکہ ہر چینل تو نہیں دیکھ رہے ہوتے ہمیں پتہ نہیں چل سکا کہ جیو نے ایسا کیا کہا تھا۔

لیکن جہاں تک چینلز کو اوپر نیچے کرنے کی بات ہے، ہم اسے اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ نامعلوم نمبر والے صرف چینل بند کرنے کو کہتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ ’وہ‘ کوئی چینل بند کروا کر بھول جاتے ہیں پھر ہم دو چار دن بعد خود ہی چلا دیتے ہیں۔

کبھی ایک دن کبھی دو دن کے لیے لیکن میرے خیال سے اگر کسی چینل کو صرف دس بار بھی بند کیا جائے تو یہ اس کے ناظرین کو کم کرنے کی اہم وجہ بن جاتا ہے اور چینل کے لیے یہ نقصان دہ ہوتا ہے۔

یہ الیکشن سے کچھ مہینے پہلے کی بات ہے کہ انجان نمبر سے پھر کال آئی، ایک چینل کو بند کرنے کے لیے اور کہا کہ آپ نے سینسر شپ نہیں لگائی۔ یہ چینل ڈِلے (تاخیر کے ساتھ) میں نہیں چل رہا ہے۔ ہم نے کہا کہ یہ ہمارا نہیں چینل کا کام ہے کہ وہ لائیو نہ دکھائے، کچھ سیکنڈ کے وقفے سے چلائے۔

لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی سیاسی جلسہ یا پریس کانفرنس ہو رہی ہو تو مجھے کہا جائے کہ اسے بند کر دو عمران خان آ رہا ہو، نواز شریف آ رہا ہو یا کوئی اور۔۔

٭ یہ تحریر بی بی سی اردو کی پاکستان میں سینسرشپ سیریز کے لیے ایک کیبل آپریٹر کے انٹرویو کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔

اسی بارے میں