زینب قتل کیس: مجرم عمران علی کی گرفتاری سے انجام تک کی کہانی

زینب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد قتل کی جانے والی آٹھ سالہ زینب کے مقدمے کے مجرم عمران علی کو 17 اکتوبر کو لاہور میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

مجرم عمران علی کو مختصر عدالتی کارروائی کے بعد چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی خبریں اکثر اوقات سامنے آتی رہتی ہیں جس میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم 'ساحل' کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں کے اغوا، ان پر تشدد اور ریپ سمیت مختلف جرائم کے 2300 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 57 بچوں کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

قصور واقعے کا ملزم عمران علی کون ہے؟

’زینب تمام مظلوموں کا چہرہ بن گئی ہے‘

زینب کیس: مجرم عمران علی کو چار بار سزائے موت کا حکم

تاہم ملک میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کے مسئلے کو ’زیادہ اہمیت‘ نہیں دی گئی لیکن رواں برس جنوری میں آٹھ سالہ زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں عوامی غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور شاید پہلی بار اس مسئلے پر کھل کر بات کی گئی اور یہ ایسا ہی تھا جب ہمسایہ ملک انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں بس ریپ کے بعد شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور حکومت کو ریپ کے واقعات کو روکنے کے سخت قانون سازی کرنا پڑی۔

لیکن اگر پاکستان کی بات کی جائے تو زینب کیس کے بعد حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تاحال یہ وعدے وفا نہیں ہو سکے اور بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف ٹھوس اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔

پاکستان میں زینب سے جنسی زیادتی کے واقعے نے سماج کو جھنجھوڑ کر رکھا دیا تھا اور یہاں آپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح سے زینب کے قتل کے بعد عوامی احتجاج شروع ہوا اور مجرم کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی۔

زینب کی گمشدگی کے بعد لاش برآمد

قصور تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جنوری میں زنیب کے والدین عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے تو چار جنوری کو زنیب قریب میں ہی اپنی خالہ کے گھر پڑھنے کے لیے گئی اور غائب ہو گئی۔

زنیب کے چچا نے اگلے ہی دن اس واقعے کے بعد پولیس کو اطلاع کر دی لیکن کوئی سراغ نہیں مل سکا اور نو جنوری کو لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی اور بعد میں معلوم ہوا کہ زنیب جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

قصور میں شدید مظاہرے، پتھراؤ اور جلاو جاری

قصور میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے

قصور میں احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ EPA

منگل کو زینب کی لاش اپنے گھر سے دو کلومیٹر دور سے ملی اور بدھ کو قصور کے شہری سڑکوں پر احتجاج کے لیے اتر آئے کیونکہ شاید ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ زینب اکیلی نہیں تھی بلکہ ایسی شہر میں گذشتہ دو برس میں ایک درجن سے زیادہ واقعات میں بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جن میں سے پانچ کو ہلاک بھی کر دیا گیا۔

بدھ کو مشتعل مظاہرین نے سرکاری املاک کو نشانہ بنایا اور تشدد کے واقعات میں دو افراد ہلاک ہو گئے اور اس واقعے کی معلومات جیسے جیسے مقامی میڈیا پر سامنے آنے لگیں تو باقی ملک میں بھی بے چینی اور غم و غصے کی لہر دور گئی اور انصاف کے لیے آوازیں بلند ہونے لگیں۔

اس احتجاج اور سوگ کی فضا میں زینب کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

حکام کا نوٹس اور باقاعدہ تحقیقات کا آغاز

زینب

قصور میں احتجاجی مظاہروں کے بعد اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جلد از جلد ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے سے احکامات صادر کیے وہیں برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔

مجرم کی تلاش شروع

زینب کے قتل کے خلاف احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ رائٹEPA

زینب کیس مقامی میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کر چکا تھا اور پورے ملک کی نظریں ملزمان کی تلاش کے حوالے سے ہونے والی کارروائی تھی جس میں ملکی تاریخ میں ڈی این اے ٹیسٹ کی سب سے بڑے اور مہنگی مشق کی گئی، درجنوں مشکوک افراد کو پکرا گیا اور زاویے سے تحقیقات شروع کی گئی لیکن ملزم کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

تاہم اس میں 19 جنوری تک پولیس یہ تعین کرنے میں کامیاب ہوئی کہ'وہ اس علاقے کی ایک ایک گلی اور نکر سے انتہائی اچھی طرح واقف ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

زینب قتل کیس: مجرم کون ہے، پکڑا کیوں نہیں گیا؟

جنسی زیادتی کے واقعات پر بحث و مباحثے

زینب کے قتل کے خلاف احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ملزم کی گرفتاری کے لیے جہاں ایک طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کوششیں کر رہے تھے وہیں ملک بھر میں ان واقعات کی روک تھام کے حوالے سے بحث جاری تھی جس میں والدین کے لیے بھی آگہی مہم تھی کہ وہ اپنے بچوں کو کس طرح سے ان واقعات سے بچا سکتے ہیں۔

مختلف تجاویز بھی سامنے آئیں جس میں قانونی اصلاحات اور سکولوں کے نصاب اس مسئلے کے بارے میں آگاہی دینے وغیرہ شامل تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

غم و غصے کی لہر،'زینب کے لیے انصاف چاہیے‘

’زینب تمام مظلوموں کا چہرہ بن گئی ہے‘

اور پھر مجرم عمران علی پکڑا گیا

مجرم عمران تصویر کے کاپی رائٹ PFSA

اس واقعے کے 14 دن بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے زینب کے والد کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں مجرم کی گرفتاری کا اعلان کیا جو کہ 24 سالہ عمران علی تھا اور سیریل کلر تھا۔ مجرم کو ڈی این اے ٹیسٹ سو فی صد میچ کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا اور یہ زینب انصاری کا محلے دار تھا۔

گرفتاری پر کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا گیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

بس چلے تو اسے چوک پر پھانسی پر لٹکاؤں: شہباز شریف

قصور واقعے کا ملزم عمران علی کون ہے؟

جیکٹ کے دو بٹن ملزم عمران علی کی گرفتاری میں معاون

مجرم عمران زینب کے ساتھ

اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے ایک پولیس اہلکار کے مطابق پولیس کے پاس سی سی ٹی وی شواہد تھے جن میں ایک چہرہ تھا

پولیس حکام کے مطابق سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں ملزم عمران علی نے داڑھی رکھی ہے اور ایک زِپ والی جیکٹ پہن رکھی ہے جس کے دونوں کاندھوں پر دو بڑے بٹن لگے ہوئے ہیں۔

مگر مسئلہ یہ تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں جیکٹ کا رنگ سفید نظر آ رہا ہے جو اس کا حقیقی رنگ نہیں مگر یہ کوئی بھی گہرا رنگ ہو سکتا تھا۔

چھاپے کے دوران عمران علی کے گھر سے ایسی ہی ایک جیکٹ ملی جس کے دونوں بٹنوں کی مدد سے یہ پولیس ملزم کی گردن تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

جیکٹ کے دو بٹن ملزم عمران علی کی گرفتاری میں معاون

'عمران علی کے بینک اکاؤنٹس‘

مجرم کی گرفتاری کے بعد اینکر پرسن شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں یہ دعویٰ کیا کہ زینب قتل کیس کے پیچھے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ ہے جس کی پشت پناہی ایک وزیر بھی کر رہے ہیں اور مجرم کے پاکستان میں 37 بینک اکاؤنٹس ہیں۔

اس واقعے پر جہاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا وہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے تحقیقات کے بعد واضح کیا کہ اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں اور بعد میں شاہد مسعود کو سپریم کورٹ میں اپنے دعوے پر ندامت کا اظہار کرنا پڑا۔

مجرم عمران علی کو چار بار سزائے موت کا حکم

مجرم عمران

مجرم عمران علی پر 12 فروری کو فردِ جرم عائد کی گئی۔ مقدمہ کی سماعت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں کی گئی جہاں میڈیا یا سول سوسائٹی کے نمائندوں کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے عدالت کو مقدمہ سات روز میں مکمل کرنے کا حکم بھی دے رکھا تھا۔

18 فروری کو انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زینب قتل کیس کے مرکزی مجرم عمران علی کو چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

زینب کیس: مجرم عمران علی کو چار بار سزائے موت کا حکم

سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد

مجرم عمران تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مجرم نے سزا کے خلاف پہلے لاہور ہائی کورٹ اپیل دائر کی جو مسترد ہوئی اور بعد میں سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی جسے جون میں سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیا اورصدر مملکت کی جانب سے بھی رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد 12 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی عدالت نے مجرم کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے اور اب انھیں 17 اکتوبر کو پھانسی دے جائے گی۔

زینب کیس سے جڑے سوالات اب بھی حل طلب

زینب کے قتل
Image caption پولیس نے زینب کے قتل کی تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کہ قصور میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ گذشتہ دو برس میں ایک درجن سے زیادہ واقعات میں بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا

اگرچہ زینب کیس کے مجرم کو سزائے موت دی جا رہی ہے لیکن ملک میں اب بھی کئی عمران علی کھلے عام گھوم رہے ہیں اور کئی زینب جیسی معصوم بچیوں کو ان سے خطرہ ہے تاہم حکومت کی جانب سے جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قانون سازی اور معاشرے میں آگاہی پھیلانے کے حوالے سے اقدامات اب بھی سرد خانے میں پڑے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’ہر روز اوسطاً 12 بچے مختلف جرائم کا شکار ہوتے ہیں‘

۔۔

اسی بارے میں