زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

عمران علی تصویر کے کاپی رائٹ PFSA
Image caption مجرم عمران علی کو مختصر عدالتی کارروائی کے بعد چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی گئی تھی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد قتل کی جانے والی آٹھ سالہ زینب کے مقدمے کے مجرم عمران علی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مجرم عمران علی کو بدھ کی صبح ساڑھے پانچ بجے تختہ دار پر لٹکایا گیا اور پھانسی دیے جانے کے وقت زینب کے والد امین انصاری بھی موجود تھے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

زینب قتل: گرفتاری سے انجام تک کی کہانی

قصور واقعے کا ملزم عمران علی کون ہے؟

جیکٹ کے دو بٹن ملزم عمران علی کی گرفتاری میں معاون

مجرم عمران علی کو مختصر عدالتی کارروائی کے بعد چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جیل کے حکام نے مجرم عمران علی کی لاش کو ان کے اہلخانہ کے حوالے کر دیا وہ آخری رسومات کے لیے اسے قصور لے گئے۔ جس موقع پر سکیورٹی کے لیے پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ تھی۔

زینب کے والد امین انصاری نے جیل کے باہر میڈیا سے مجرم کی پھانسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا انجام انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اسے تختہ دار پر لٹکایا گیا اور اسے نصف گھنٹے تک وہاں لٹکائے رکھا گیا۔

خیال رہے کہ زینب کے والد نے مجرم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا تاہم لاہور ہائی کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔

پاکستان میں زینب سے جنسی زیادتی کے واقعے نے سماج کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اور مجرم عمران علی کی پھانسی کے موقع پر زینب کے قتل کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا۔

#ZainabMurderCase اور "Imran Ali" کا نام بدھ کی صبح سے ہی ٹرینڈ کرتا رہا اور جہاں زینب کی تصاویر کے ساتھ عمران علی کی پھانسی کی خبر شیئر کی جاتی رہی وہیں پاکستان میں انصاف کے نظام پر بھی بحث ہوتی رہی۔

سوشل میڈیا پر یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ عمران جیسے کئی کردار اب بھی ہمارے معاشرے میں کھلے عام گھوم رہے ہیں۔

رفیع اللہ مروت نے ’بالآخر انصاف کا نیا دن‘ کے ساتھ ٹویٹ کی تو اس کے نیچے بلال حیدر نے سوال اٹھایا کہ اس کے برعکس ہم اس بات کو رد نہیں کر سکتے کہ یہ شخص ہمارے معاشرے سے تھا اور اس جیسے کئی موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے اس کے ساتھ حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں مجرم کو سرِ عام پھانسی دینے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

اسی کے بارے میں شہریار نامی صارف نے لکھا کہ کیوں مجرم کو سرعام پھانسی دینے کے بارے میں زینب کے والد کی درخواست کو مسترد کیا گیا۔ ’مجرم کو جنوری میں پکڑا گیا اور اس کے نو ماہ بعد پھانسی دی گئی۔۔۔۔ ہمارے نظام انصاف کو سلام۔۔۔‘

فراز خان یوسفزئی نے ٹویٹ کی’ میں سمجھ سکتا ہوں کہ کیوں زینب کے والد سرعام پھانسی چاہتے تھے لیکن اس کے وہ اثرات نہیں ہونے تھے جن کی وہ توقع کر رہے تھے۔ ہمیں اپنے سماج کو مکمل طور بدلنے کی ضرورت ہے۔ تشدد جواب نہیں بلکہ انصاف، اچھی پولیس اور منصفانہ نظام ہے۔ چلیں اب اس پر بات کریں۔‘

اسی طرح سے کئی صارف مجرم کی پھانسی کا خیرمقدم کر رہے ہیں اور ساتھ میں’ زینب سے معافی‘ کا اظہار بھی کر رہے ہیں کیونکہ وہ انھیں بچا نہیں سکے۔

علی سلمان راحت نے ٹویٹ کی کہ’ زینب کا قاتل آخرکار اپنے انجام کو پہنچا۔۔۔۔۔اور اب تمام قوم جو زینب کا خاندان بن گئی ہے وہ انصاف ملنے پر خوش ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی خبریں اکثر اوقات سامنے آتی رہتی ہیں جس میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم 'ساحل' کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں کے اغوا، ان پر تشدد اور ریپ سمیت مختلف جرائم کے 2300 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 57 بچوں کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔

تاہم ملک میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کے مسئلے کو 'زیادہ اہمیت' نہیں دی گئی لیکن رواں برس جنوری میں آٹھ سالہ زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں عوامی غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور شاید پہلی بار اس مسئلے پر کھل کر بات کی گئی اور یہ ایسا ہی تھا جب ہمسایہ ملک انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں بس ریپ کے بعد شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور حکومت کو ریپ کے واقعات کو روکنے کے سخت قانون سازی کرنا پڑی۔

لیکن اگر پاکستان کی بات کی جائے تو زینب کیس کے بعد حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تاحال یہ وعدے وفا نہیں ہو سکے اور بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف ٹھوس اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔

اسی بارے میں