زینب کیس: کیا قصور میں والدین اب گلی محلوں کو اپنے بچوں کے لیے محفوظ تصور کرتے ہیں؟

سی سی ٹی وی کیمرے

مرکزی شاہراہ سے چند سو گز کے فاصلے پر شہر کے کالج روڈ پر میڈیا کی گاڑیاں دیکھ کر اب مقامی لوگ سر اٹھا کر دیکھتے ضرور ہیں، پھر اپنے کام میں لگ جاتے ہیں۔ چونکتے نہیں ہیں۔

انھیں اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ یہاں کیوں ہیں۔ اس شہر کی ایک گلی میں زینب امین کا گھر ہے۔ قریباً دس ماہ قبل زینب گُم ہو گئیں تھیں۔ دو روز تک اہلخانہ، مقامی افراد اور پولیس انھیں تلاش کرتی رہی تھی۔ تیسرے روز وہ اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر قائم کچرے کے ڈھیر سے مردہ حالت میں ملیں۔

انھیں جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ مقامی لوگ سڑکوں پر نکل آئے، احتجاج اس قدر شدید ہوا کہ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

اس قدر غم و غصے کی وجہ یہ تھی کہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا قصور شہر میں یہ پہلا واقع نہیں تھا۔ تقریباً دو برس میں اس نوعیت کا یہ بارھواں واقعہ تھا۔

پولیس مجرم کو پکڑنے میں ناکام رہی تھی۔ اس دن سے پورے ملک کا میڈیا تمام تر توجہ اسی واقعہ پر مرکوز کیے رہا۔ ساتھ ہی ریاست بھی حرکت میں آ چکی تھی۔

اس سے کیا فرق پڑا؟

اُن دنوں یہاں کے لوگ کیمرے والوں کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔ تجسس تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ان کی باتوں میں کہیں غم و غصہ، تشویش تو کہیں اضطراب صاف جھلکتا تھا۔ یہ سلسلہ جنوری میں مجرم عمران علی کی گرفتاری تک جاری رہا تھا۔

پولیس نے اسے سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈی این اے کے نمونوں کی مدد سے گرفتار کیا اور فرانزک شواہد کی مدد سے اسے زینب سمیت سات بچیوں کا مجرم بھی ثابت کیا گیا تھا۔

زینب امین کے مقدمہ کی کارروائی ایک ہفتہ میں مکمل کر کے عمران علی کو سزا سنا دی گئی تھی۔ پھر دیگر چھ بچیوں کے مقدمات میں بھی اسی طرح اس کو سزائیں ہوئیں۔ انھیں 21 مرتبہ سزائے موت سنائی گئی۔

اعلٰی عدلیہ میں اپیلوں اور صدرِ پاکستان سے رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد چند روز قبل عمران علی کو زینب سمیت سات کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کے مقدمات میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

مگر کیا اس کے بعد قصور کے لوگوں کے اضطراب میں کمی آئی؟ کیا والدین اب گلی محلوں کو اپنے بچوں کے لیے محفوظ تصور کرتے ہیں؟

یقین سے تو نہیں کہہ سکتے تاہم چند افراد کو یہ امید ضرور ہے کہ ریکارڈ مدت میں سزا اور اس پر عملدرآمد ہونے کی یہ مثال عبرت ثابت ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

قصور ریپ کیسز: عائشہ سے زینب تک

’یہ شرم ہماری نہیں معاشرے کی ہے‘

غم و غصے کی لہر،'زینب کے لیے انصاف چاہیے‘

تو لوگ فکر مند کیوں ہیں؟

پھانسی کی خبر زینب امین کے محلے سے منسلک بازار میں بھی پہنچ چکی تھی۔ وہیں ایک دوکان کے سامنے سٹول پر براجمان ایک بزرگ فضل کریم کا ماننا تھا کہ 'اب ایسا واقعہ نہیں ہو گا کیونکہ لوگوں کو پتہ چل چکا ہے کہ اسی طرح فوری سزا مل سکتی ہے۔'

تاہم انھی کے مقابل سڑک کے اس پار چائے کی ہوٹل کے سامنے بیٹھے تین افراد اس پر بحث میں مشغول تھے۔

محمود احمد، خالد اور محمد عاشق تینوں کی تشویش تھی کہ کیا ان کے بچے محفوظ ہو گئے ہیں؟

خالد کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات اب بھی نظر نہیں آتے جن سے تحفظ کا احساس ہو۔

ٰایسے مجرم کہاں سے آتے ہیں وہ کیسے بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں، اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ ابھی چند ماہ قبل ایک ماں سے راہ چلتے بچی چھیننے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کا پتہ لگائے۔ لیکن وہ نہیں لگاتے۔ٰ

محمد عاشق ان سے اتفاق کرتے ہیں: 'جب ایک کے بعد ایک بچی اس طرح قتل ہو رہی تھی تو پولیس اگر چاہتی تو وہ اسی وقت مجرم کو پکڑ سکتی تھی۔'

'مگر پولیس یہی کرتی رہی کہ اُس کو اٹھا لو، اِس کو چھوڑ دو۔ اُس سے پانچ پکڑ لو، اِس سے دس لے لو۔ اگر وہ صحیح کام کرتے تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔'

یاد رہے کہ سنہ 2017 میں ان 12 میں سے ایک بچی ایمان فاطمہ کے قتل کے شبہے میں پولیس نے مدثر نامی ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جسے مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں عمران علی ہی کو ایمان فاطمہ کی موت کا ذمہ دار ٹھرایا گیا۔

کیمرے کون لگا رہا ہے؟

زینب امین کے واقعہ کے بعد حکومتی سطح پر کئی ادارے متحرک ہو گئے تھے۔ ایسے واقعات کے سد باب کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب نے اس حوالے سے سکولوں، محلوں اور دیہاتوں میں آگاہی مہمات کا آغاز کیا۔

ان اقدامات کے اثرات تو قصور شہر کی گلیوں میں دکھائی نہیں دیتے، تاہم سی سی ٹی وی کیمرے ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کیمرے اب چند صاحبِ حیثیت افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت گھروں کے باہر نصب کروا رکھے ہیں۔

زینب امین کے گھر کی گلی میں بھی ایک قدرے بڑے گھر کے باہر کیمرے لگے نظر آتے ہیں۔ محمد عاشق کا کہنا تھا کہ اب لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو اکیلا باہر نہ چھوڑیں۔ پھر بھی ان کا خیال ہے کہ کیمرے ضروری ہیں۔ 'عمران علی بھی تو کیمروں کی مدد سے پکڑا گیا تھا۔'

ذرائع ابلاغ کے ذریعے حاصل کردہ آگہی کے بعد آنے والی یہ تبدیلیاں شہری علاقوں میں تو کہیں نہ کہیں نظر آتی ہیں، دیہاتی علاقوں میں یہ بھی نہیں پہنچیں۔

واقعات ہو نہیں رہے یا چھپائے جا رہے ہیں؟

قصور کی ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا سلسلہ عمران علی کو فوری سزائیں ملنے کے باوجود نہیں رکا۔

رواں برس مبینہ جنسی زیادتی کے لگ بھگ 100 سے زائد کیسز سامنے آئے۔ ان میں زیادہ تر لڑکوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ وہ واقعات ہیں جو ہر جگہ ہوتے ہیں اور کافی عرصے سے سامنے آتے رہے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

’زینب کے قاتل کی گرفتاری کے لیے ڈیڈ لائن نہیں دے سکتے‘

انڈیا: کیا سزائے موت ریپ کے واقعات روک سکتی ہے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ بچیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کی زیادہ تر شکایات تفتیش کرنے پر غلط اور ذاتی دشمنیوں کا شاخصانہ ثابت ہوتی تھیں۔ تاہم گذشتہ ماہ سامنے آنے والے 18 واقعات میں سے تین میں لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔

'یہ تین وہ واقعات ہیں جن میں طبی معائنے کے بعد زیادتی کے شواہد ملے تھے۔' ان کا کہنا تھا کہ ان میں زیادہ تر کیس ضلع قصور کے دیہاتی علاقوں سے سامنے آ رہے تھے۔

واضح رہے کہ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم 'ساحل' کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں کے اغوا، ان پر تشدد اور ریپ سمیت مختلف جرائم کے 2300 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 57 بچوں کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

اگست کے مہینے میں قصور شہر میں صدر کے علاقے جوڑا سے ایک سات سے آٹھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ تھانہ صدر کی پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے جسم سے حاصل کردہ ڈی این اے کے نمونے فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور بھجوائے گئے ہیں۔ 'ان کے نتائج آنے کے بعد مزید کارروائی ہو پائے گی۔ٰ

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس بات پر انتہائی سختی سے عمل کروایا جار ہا ہے کہ بچوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کے ان واقعات کے اعدادوشمار سامنے نہ آنے پائیں۔

'کچھ عرصہ قبل ایک پولیس افسر نے میڈیا پر بتا دیا تھا کہ رواں برس اب تک 59 کیس سامنے آ چکے ہیں تو انھیں محکمانہ کارروائی اور معطلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے کہ عوام میں غیر ضروری خوف یا پریشانی نہ پھیلے۔

حکومت کیا صرف آگاہی مہم چلا سکتی ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قصور کے ڈپٹی کمشنر رانا محمد ارشد کا کہنا تھا کہ ایسے کسی واقعہ کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔

تاہم انھوں نے بتایا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر جو اقدامات کیے جا سکتے ہیں ان میں لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہی موزوں طریقہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

تاہم وفاقی محتسب کے ادارے کے تحت قائم بچوں کے لیے مقرر کمشنر کے دفتر کی جانب سے قصور میں فروری اور مارچ کے مہینوں میں ایک سروے کیا گیا تھا۔

اس کی روشنی میں ترتیب کردہ سفارشات کے تحت حکومت کو چند اقدامات کرنے کی تجاویز دی گئیں تھیں۔ ان میں نمایاں نفسیاتی، جسمانی یا جنسی زیادتی کا شکار بننے والے بچوں اور خاندانوں کو فوری نفسیاتی اور طبی امداد کو یقینی بنانا تھا۔

انھوں نے تجویز کیا تھا کہ ایسے مواقع جہاں جنسی زیادتی یا قتل کے واقعات میں فریقین صلح کر لیتے ہیں وہاں جوڈیشل نوٹس یعنی عدالتی مداخلت ہونی چاہیے۔ متاثرہ افراد کو قانونی امداد فراہم کی جانی چاہیے۔

ضلع قصور میں فورنسک ٹیسٹ کرنے کی سہولت میسر ہونی چاہیے۔ مشکوک افراد یا مجرموں کی ڈی این اے شناخت کو نادرا کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ کیا جانا چاہیے اور کم عمر کے متاثرین کی سہولت کے لیے سینٹرز قائم کیے جانے چاہیں۔

ان تمام تجاویز پر عملدرآمد ہونا تاحال باقی ہے۔ یہ کب تک ممکن ہو پائے گا، اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر رانا محمد ارشد نہیں جانتے۔

اسی بارے میں