تین ارب ڈالر اور مؤخر ادائیگیوں پر تیل کے بدلے میں پاکستان سے سعودی مطالبات کیا ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عمران خان سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے جہاں امدادی پیکج کا اعلان کیا گیا

وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں سعودی عرب کی قیادت سے مذاکرات کرنے والے پاکستانی وفد نے منگل کی رات قوم کو ’خوشخبری‘ سنائی کہ سعودی عرب نے پاکستان کو مالی بحران سے نمٹنے کے لیے نقدی اور ادھار تیل دینے کی پیشکش کی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اس مجوزہ ڈیل کے بارے میں آپ کو کیا معلوم ہونا چاہیے؟

کیا سعودی عرب کے ساتھ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جی نہیں۔ 1998 میں ایٹمی دھماکے کرنے پر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے نتیجے میں پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا تھا۔ زرمبادلہ کےذخائر پر اتنا شدید دباؤ تھا کہ حکومت نے نجی بنکوں سے ڈالر نکلوانے پر پابندی لگا دی تھی۔

اس صورتحال میں جب کوئی دوسرا ملک یا قرض دینے والا آئی ایم ایف جیسا ادارہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کی مالی مدد نہیں کر سکتا تھا، سعودی عرب پاکستان کی مدد کو آیا تھا۔ سعودی عرب نے اس وقت بھی پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ کا تیل ادھار دینا شروع کیا تھا۔

اسی طرح 2014 میں پاکستان غیر ملکی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو زر مبادلہ کی ضرورت تھی۔

اس وقت سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر کیش پاکستان کو دیے تھے جسے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سعودیہ پاکستان کو تین ارب ڈالر،تیل دینے پر رضامند

سعودی عرب کو ’سی پیک‘ میں شمولیت کی دعوت

کیا چینی قرض ہی پاکستان کے اقتصادی بحران کا ذمہ دار ہے؟

اس معاہدے کے ذریعے ملنے والی رقم اور تیل ادھار ہے یا مفت؟

1998 میں سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل کا سلسلہ کئی برس جاری رہا تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں لگنے والی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیوں کی وجہ سے سعودی عرب نے امریکی غیض و غضب سے بچنے کے لیے اسے ’ادھار‘ پر تیل دینے کا معاہدہ قرار دیا تھا لیکن دراصل یہ مفت تیل تھا جس کے پیسے پاکستان نے کبھی واپس نہیں کیے۔

اسی طرح 2014 میں سعودی عرب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر میں سے آدھی رقم کو ’گرانٹ‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ لیکن قرائن یہی بتاتے ہیں کہ پاکستان نے باقی کی رقم بھی ادا نہیں کی تھی۔ اس بار بھی یہی کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

کیا یہ ڈیل آئی ایم ایف کا نعم البدل ہو سکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شاید نہیں۔ سعودی عرب سے ملنے والی کیش رقم پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے ملکی خزانے میں کیش کی صورت میں پڑی رہے گی اور پاکستان یہ رقم کسی دوسری مد میں خرچ نہیں کر سکے گا۔ جو ادھار تیل مل رہا ہے وہ پاکستان کی ملکی ضرورت کا 20 سے 25 فیصد ہے۔

اس طرح پاکستان کو قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پھر بھی خاصی رقم کی ضروت ہے جو اس کے پاس نہیں ہے اس لیے مزید قرض کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مالیاتی امور کے ماہر محمد سہیل تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام میں ضرور جانا چاہیے تاکہ ملکی معیشت کو مزید استحکام ملے اور ملکی حالات طویل مدت کے لیے اچھے رہیں۔

ان کے مطابق سعودی عرب سے ملنے والی اس ڈیل کے نتیجے میں پاکستان اب آئی ایم ایف سے شائد اتنی بڑی رقم نہ لے اور اتنی سخت شرائط پر نہ لے جو اس معاہدے سے پہلے زیر بحث تھیں لیکن آئی ایم کے پاس جانا تو پڑے گا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کیا چینی قرض ہی پاکستان کے اقتصادی بحران کا ذمہ دار ہے؟

گدھا چابک مارنے سے گھوڑا نہیں بنتا

’پاکستان کے لیے آئی ایم ایف بیل آؤٹ کا جواز نہیں‘

مالیاتی بحران: حکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ

اس معاہدہ کی کل مالیت کتنی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان اپنی ضروریات کا زیادہ تر تیل درآمد کرتا ہے

ابھی تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق سعودی عرب فوری طور پر تین ارب ڈالر پاکستان کو کیش کی صورت میں فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ تین ارب ڈالر مالیت کا تیل، جو ہر سال پاکستان سعودی عرب سے خریدتا ہے، اس کے پیسے پاکستان کو ادا نہیں کرنا پڑیں گے۔

اس طرح اس سال اس ڈیل سے پاکستان کو چھ ارب ڈالر ملیں گے۔ تیل والا معاہدہ تین برس کے لیے یعنی کل ملا کر اس معاہدے کے ذریعے سعودی عرب نے پاکستان کو تین سال میں نو ارب ڈالر کا تیل دینے کا معاہدہ کیا ہے۔

اس طرح یہ ’معاہدہ‘ 12 ارب ڈالر کا بنتا ہے۔ لیکن اسی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تیل والی سہولت پر نظر ثانی ہو سکتی ہے، تو اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ رقم بڑھ بھی سکتی ہے۔ لیکن مالیاتی امور کے ماہر محمد سہیل کہتے ہیں کہ پاکستان میں ادائیگیوں کے توازن کے مسائل عموماً ایک دو برس میں حل ہو جاتے ہیں اس لیے پاکستان کو تین برس کے بعد اس ’ادھار‘ تیل کی ضرورت شائد نہ رہے۔ لیکن اگر یہ تیل مفت کا ہے تو اس معاہدے کے جاری رہنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔

اس مدد کے بدلے میں پاکستان سے سعودی مطالبات کیا ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption سعودی عرب نے پاکستان سے یمن کے لیے فوجیں بھیجنے کی درخواست کی تھی

عام زندگی کی طرح بین الاقوامی سفارتکاری میں بھی کچھ مفت نہیں ہوتا۔ 2014 میں جب پاکستان کو سعودی عرب نے اسی طرح کے ایک معاہدے کے نتیجے میں ڈیڑھ ارب ڈالر دیے تھے تو اس وقت اس کے ساتھ کوئی مطالبہ یا شرط نہیں تھی لیکن کچھ ہفتوں بعد یمن کے لیے فوجیں بھیجنے کی درخواست موصول ہو گئی تھی۔

اس بار بھی معاہدے میں نہ کوئی شرط بتائی گئی ہے اور نہ ہی بظاہر کوئی مطالبہ سامنے آیا ہے۔ لیکن ہنوز دلی دور است۔ جس طرح کے بین الاقوامی دباؤ کا آج کل سعودی عرب کو سامنا ہے اس میں کوئی مطالبہ سامنے آ بھی سکتا ہے۔

اسی بارے میں