تھر میں خودکشیوں کی بڑی وجہ قرضوں کی عدم ادائیگی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
تھر میں خشک سالی سے لوگ خودکشیوں پر مجبور ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر کے گاؤں چارنور کے رہائشی کیول رام نے خود کشی کرنے سے ایک دن پہلے اپنی وصیت قلمبند کی اور اس میں اپنی موت کا ذمہ دار زمینداروں کو ٹھہرایا۔

انھوں نے لکھا کہ قرضہ واپس نہ کرنے پر ان کی ان کے بچوں کے سامنے تذلیل کی گئی اور الٹا ان سے لی ہوئی رقم بھی واپس نہیں کی گئی۔

کیول رام کچھ عرصے پہلے تک تھر میں ہونے والی خودکشیوں پر متعد گاؤں اور گوٹھوں کے دورے کرکے لوگوں کو خودکشی نہ کرنے پر قائل کرنے کی کوششں کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

عالمی تنظیموں کی بندش: صحرائے تھر کا کیا ہو گا؟

تھرپارکر کی خواتین ڈمپر ڈرائیورز

تھر میں قحط سالی سے خودکشیاں

تھر:'ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم خرچ نہیں ہو سکی'

مِٹھی سے 84 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود چارنور گاؤں کا راستہ مختلف چھوٹے گاؤں اور گوٹھوں سے گزر کرجاتا ہے۔ یہاں میں بہت سے لوگ بدین کی طرف اپنے مال مویشی کے ساتھ ہجرت کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

Image caption لوگ اپنے مال مویشی کے ساتھ ہجرت کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں

تھرپارکر میں جہاں قحط سالی سے لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں وہیں قحط سے پیدا ہونے والی مایوسی نے رواں سال کم از کم 50 خواتین، مرد اور بچوں کو خود کشی کرنے پر مجبور کیا ہے۔

فلاحی ادارے اوئیر کی رواں سال شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق وہ علاقے جہاں خودکشی کی شرح زیادہ ہے ان میں نگر پارکر، ڈپلو، کلوئی، مِٹھی اور چھاچھرو شامل ہیں۔

تھر میں پچھلے پانچ سالوں میں اب تک 366 افراد نے خودکشی کی ہے۔ اس بارے میں تھر میں کام کرنے والی فلاحی اداروں کی رپورٹیں کئی بار منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ سنہ 2012 میں 24 افراد جبکہ سنہ 2017 میں 74 نے خود کشی کی جس کے بعد سے اس شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خود کشی کی وجوہات سے متعلق دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ تر لوگ غربت، بے روزگاری، ذہنی امراض اور قرضے کی عدم ادائیگی کے باعث خودکشی کر رہے ہیں۔

Image caption تھر کے لوگ کہتے ہیں کہ ان کی مشکلات کا حل نکالنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے۔

مِٹّھا تڑ کی رہائشی مائی ڈہلی کے نوجوان بیٹے بھی خود کشی کرنے والے ان 50 افراد میں شامل تھے۔ زمیندار سے قرض لے کر واپس نہ کر پائے تو انھوں نے کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔

مائی ڈہلی اور ان کا خاندان اب زمیندار کے مقروض ہو چکے ہیں اور زمینوں پر صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک گوار چھاننے کا کام کرتے ہیں۔ وہ اور ان کا خاندان اب تک اس واقعے کو قبول نہیں کر پا رہے ہیں۔

’ہم غریب ہیں اور ساتھ میں زمیندار کا قرض بھی ہے جو ہم اپنی مالی مشکلات کی وجہ سے نہیں دے پارہے ہیں۔ ظاہر ہے قرضہ لیا ہے بھرنا تو پڑے گا۔ وہ تھوڑی چھوڑیں گے اپنا قرضہ۔‘

تھر میں عام کسان ہوں، ٹیچر، یا پھر کیول رام جیسے سماجی کارکن، اس وقت تھر اور خاص کر چھاؤنی کے پاس موجود تحصیل چھاچھرو میں رہنے والی آدھی سے زیادہ آبادی قرضے کے بوجھ میں دبی ہوئی ہے۔

صحرائے تھر میں مال مویشی اور زراعت کا سارا انحصار بارش پر ہے، جو گذشتہ سات برسوں سے اکثر علاقوں میں نہیں ہوئی اور اگر ہوئی بھی ہے تو معمول سے انتہائی کم۔

Image caption لوگوں نے قرضے لیے ہوئے ہیں۔ وہ راشن لے جاتے ہیں لیکن اس سال واپس کچھ نہیں ملا کیونکہ انھوں نے ہمیں قرضہ واپس نہیں کیا: دکاندار دسرتھ رام

قحط سالی میں فصل نہ ہونے کے باعث زیادہ تر کسان قرض لے کر اپنا گھر چلاتے ہیں اور عدم ادائیگی کی صورت میں اپنی جان لے لیتے ہیں۔

دکاندار بھی بمشکل قرضہ دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے لیے قرضہ واپس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔

چھاچھرو میں موجود ایک دکاندار دسرتھ رام نے کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں ہمیں راشن چاہیے لیکن جب ہمیں آگے سے راشن نہیں ملتا تو ہم کہاں سے دیں گے۔ 50، 60 افراد نے قرضے لیے ہوئے ہیں۔ وہ راشن لے جاتے ہیں لیکن اس سال واپس کچھ نہیں ملا کیونکہ انھوں نے ہمیں قرضہ واپس نہیں کیا، اس لیے ہمیں بھی آگے سے راشن نہیں مل رہا ہے جس کی وجہ سے بہت پریشانی ہے۔‘

قرضے کی عدم ادائیگی اور اس سے منسلک بڑھتی ہوئی پریشانی کے بارے میں تھر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تھر میں ہونے والی خود کشیوں کی بیشتر وجوہات ہیں جن میں سے ایک زمینداروں کے قرض سے بچانے کے نام پر بننے والی سہولت کار کمپنیاں ہیں جن کے وہ زندگی بھر کے لیے مقروض ہو چکے ہیں۔

Image caption زمینداروں کے قرض سے بچانے کے نام پر بننے والی سہولت کار کمپنیاں ہیں جن کے وہ زندگی بھر کے لیے مقروض ہو چکے ہیں۔

لیکن سہولت کار کمپنیاں اپنے دفاع میں کہتی ہیں کہ وہ صرف ان لوگوں کو قرضہ دیتے میں جو بروقت قرضے کی ادائیگی کر سکتے ہوں۔

غیر سرکاری تنظیم تھردیپ پچھلی دو دہائیوں سے تھر میں کسانوں کی مائیکرو فائنینسنگ میں مدد کررہی ہے۔ ان سے منسلک ایک ترجمان علی اکبر منگھریو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت تھر کے لوگوں کی ضرورت زیادہ ہے اور پیسے دینے کی گنجائش کم ہے۔

’لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں نے مائیکرو فائنینسنگ کی جتنی کمپنیاں ہیں ان سب سے قرضہ لے لیا ہے اور اب چکانے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک خاندان کی آمدن 20,000 ہے لیکن انھوں نے 90,000 قرضہ لے لیا ہے اس وجہ سے پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔‘

Image caption مِٹّھا تڑ کی رہائشی مائی ڈہلی کے نوجوان بیٹے بھی خود کشی کرنے والے ان 50 افراد میں شامل تھے

تھر پارکر کے حالات گذشتہ پانچ سالوں سے میڈیا پر رپورٹ ہو رہے ہیں لیکن تھر کے لوگ کہتے ہیں کہ اب تک ان کی مشکلات کا حل نکالنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے۔

حال ہی میں سرکار نے سپنے ایک بیان میں یہ قبول کر لیا کہ تھر میں جاری قحط سالی سے اب تک 500 بچے ہلاک ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود تھرپارکر میں کوئی خاص کام ہوتا ہوا نظر نہیں آتاـ

اوئیر سے منسلک ترجمان علی اکبر رحمو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تھر میں ترقی تب ہو گی جب یہاں آنے والے صحافی اور ادارے یہ سمجھ جائیں گے کہ مِٹھی تھرپارکر نہیں ہے بلکہ بہت وسیع ہے اور جب یہاں آنے والے بغیر کسی مفاد کے مِٹھی سے آگے ان سب علاقوں کا دورہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ یہاں پانی پینے کے مواقع بھی دن بہ دن کم ہوتے جا رہے ہیں تب شاید کچھ ہو جائے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں