اقوام متحدہ انسانی حقوق 2018 ایوارڈ عاصمہ جہانگیر کےنام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق 2018 کا ایوارڈ پاکستان کی انسانی حقوق کی کارکن اور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر کو دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدر ماریا فرننڈا نے ٹویٹر پر یہ اعلان کیا۔

ماریا فرننڈا نے بیان میں کہا ہے ’آج میں اقوام متحدہ انسانی حقوق 2018 کے ایوارڈ کو حاصل کرنے والوں کے ناموں کا اعلان کر رہی ہوں۔‘

انھوں نے اس ایوارڈ کے لیے عاصمہ جہانگیر اور دیگر تین افراد کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’آپ لوگوں کا کام ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔‘

عاصمہ جہانگیر کے علاوہ جن دیگر تین انسانی حقوق کے کارکنان کو اس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے وہ ہیں تنزانیہ کی کارکن ربیکا گیومی، برازیل کی پہلی مقامی وکیل جوئنا وپیکسانا اور آئر لینڈ کی تنظیم فرنٹ لائن ڈیفنڈرز۔

عاصمہ جہانگیر چوتھی پاکستانی خاتون ہیں جن کو یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ان سے قبل 1978 میں رعنا لیاقت علی خان، 2008 میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور 2013 میں ملالہ یوسفزئی کو اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مشہور وکیل اور انسانی یقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کو رواں سال فروری میں انتقال ہو گیا تھا۔

عاصمہ جہانگیر کون تھیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عاصمہ جہانگیر کی پیدائش 27 جنوری 1952 کو لاہور میں ہوئی جہاں کانونٹ آف جیزس اینڈ میری سکول میں انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

عاصمہ جہانگیر کا نام ملکی سیاست کے افق پر بہت چھوٹی عمر میں ہی سامنے آ گیا جب دسمبر 1972 میں ان کے والد ملک غلام جیلانی کو اس وقت کے فوجی آمر یحییٰ خان کی حکومت نے مارشل لا قوانین کے تحت حراست میں لے لیا تھا۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنے والد کی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی اور اگلے سال یحییٰ خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا جس میں فوجی حکومت کو غیر قانونی اور یحییٰ خان کو 'غاصب' قرار دیا گیا۔

1978 میں عاصمہ جہانگیر نے پنجاب یونیورسٹی سے اپنی وکالت کی تعلیم مکمل کی جس کے بعد ان کی شادی کاروباری شخصیت طاہر جہانگیر سے ہو گئی۔

1980 میں انھوں نے اپنی بہن حنا جیلانی اور دیگر خواتین کے ساتھ مل کر پاکستان کا پہلا خواتین پر مبنی وکالت کا ادارہ بھی شروع کیا۔

ضیا الحق کے مارشل لا کے دور میں عاصمہ جہانگیر نے کئی مظاہروں میں حصہ لیا اور 1983 میں لاہور کے مال روڈ پر وومن ایکشن فورم کے ساتھ حدود قوانین کے خلاف کیے جانے والا مظاہرہ ملک کے تاریخی مظاہروں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عاصمہ جہانگیر کو اپنی زندگی میں کئی دفعہ غداری اور توہین مذہب کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑتا رہا اور ان کے گھر پر بھی کئی دفعہ حملے کیے گئے۔

فوج پر کی جانے والی کڑی تنقید بھی عاصمہ جہانگیر کی وجہ شہرت میں شامل ہے جس کی وجہ سے انھیں کئی دفعہ جیل بھی کیا گیا اور نظر بندی کی سزا بھی سنائی گئی۔ وہ پاکستان میں حقوقِ انسانی کی علمبردار اور سکیورٹی اداروں کی ناقد کے طور پر پہچانی جاتی رہی ہیں۔

عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کمیشن کی سابق سربراہ بھی رہیں اور ساتھ ساتھ پاکستانی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہونے والی پہلی خاتون وکیل بھی تھیں۔

عاصمہ جہانگیر نے عدلیہ بحالی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان کی کاوشوں کی بنا پر انھیں دنیا بھر میں انسانی حقوق کے اعزازات سے نوازا جاتا رہا جن میں یونیسکو پرائز، فرنچ لیجن آف آنر اور مارٹن اینیلز ایوارڈ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ عاصمہ جہانگیر کو 1995 میں انسانی حقوق پر کام کرنے کی وجہ سے رامون میگ سے سے ایوارڈ بھی دیا گیا جسے ایشیا کا نوبیل پرائز تصور کیا جاتا ہے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے لیے بطور نمائندہ خصوصی ایران میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حیثیت سے بھی کام کیا۔

اسی بارے میں