نالائقی، مصلحت یا کوئی مجبوری؟ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کالعدم تنظیموں کی فہرست سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لگتا تو ایسا ہے کہ یہ خبر حکومت کے لیے بھی چونکا دینے والی تھی۔ وجہ نالائقی ہے، مصحلت یا پھر کوئی مجبوری؟ حقیقت یہ ہے کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کالعدم تنظیموں کی فہرست سے باہر نکل چکی ہیں اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی معاشی پابندیوں کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹک رہی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کو پاکستان سے واپس گئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں۔ ٹیم پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر پیشرفت کا جائزہ لینے آئی تھی۔

ایف اے ٹی ایف مالی جرائم روکنے کی ایک عالمی تنظیم ہے۔ رواں سال جون میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی ’گرے لسٹ‘ میں ڈالا تھا۔

اس موضوع پر مزید پڑھیے

مسجد انڈیا کی، 'چندہ حافظ سعید کا'، امام جیل میں

ایف اے ٹی ایف:’پاکستان کو تین ماہ کی مہلت مل گئی‘

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اور پاکستان کی مشکلات

’پاکستان پر سفارتی دباؤ میں یقیناً اضافہ ہوگا‘

حافظ سعید کا بوجھ

پاکستان نے جنوری میں ہی یہ بھانپ لیا تھا کہ اسے ایف اے ٹی ایف میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور جب ہی اس نے کئی اقدامات اٹھائے تھے جن میں حافظ سعید سے منسلک جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔

جنوری اور فروری میں ان تنظیموں کے تحت جاری سکولوں، ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو بند کردیا گیا۔ ایمبولینسز قبضے میں لے لی گئیں۔ چندے کے لیے لگائے کیمپ اکھاڑ دیے گئے۔ ان پر چندہ اور قربانی کی کھالیں دینے پر پابندی لگا دی گئ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ FATF

بظاہر پابندیوں کا فائدہ بھی ہوا۔ پاکستان کو ’بلیک‘ کے بجائے ’گرے لسٹ‘ میں ڈالا گیا اور تنبیہہ کی گئی کہ وہ دہشت گردی کی مالی مدد اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے اپنے قوانین اور ضوابط میں بہتری لائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر پاکستان ایسا کرنے میں ناکام ہوا تو اسے’بلیک لسٹ‘ میں ڈال کر اس پر اقتصادی پابندیاں لگا دی جائیں گی۔

لیکن پھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں انکشاف ہوا کہ وہ آرڈیننس جس کے تحت جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اس کی مدت ختم ہو چکی ہے اور چونکہ حکومت نے نہ آرڈیننس کی مدت میں توسیع کی اور نہ ہی اسے پارلیمان میں لا کر ایکٹ میں بدلنے کی کوشیشں کی اب دونوں تنظیمیں اس فہرست سے باہر ہیں اور پاکستان میں اپنی سرگرمیاں کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

بار بار کوششوں کے باوجود اس معاملے پر ہمیں سرکار کا موقف تو نہیں مل سکا اور ہمیں بتایا گیا کہ ابھی اس پر حکومت کا کوئی موقف نہیں یا یہ کہ یہ موقف کچھ دن میں سامنے آئے گا۔ لیکن کچھ سرکاری زرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہیں کہ جلد ہی یہ تنظیمیں دوبارہ کالعدم تنظیموں کی فہرست میں واپس آ جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی موجودہ اقتصادی صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ امکان حقیقت کے کافی قریب بھی لگتا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت قرضوں کے لیے چاروں طرف دہائی دیتی پھر رہی ہے پاکستان کسی بھی طرح کی معاشی پابندیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو کچھ اہداف بھی دیے تھے جن پر عملدرآمد کے بعد ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ ہوسکے گا اور اسلام آباد کو اس بات کی پوری سمجھ ہے کہ اہداف پورے نہ کرنے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔

آج کل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے حوالے سے پاکستان کی کارگردی کا ازسرے نو جائزہ لے رہی ہے۔ جس کی رپورٹ چند ہی ہفتوں میں شائع ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جماعت الدعوۃ کے ترجمان احمد ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ کالعدم تنظیموں کی فہرست سے خارج ہونے کے باوجود اب تک نہ ہی تو انھیں سکول، مدرسے اور ڈسپنسریاں کھولنے دی گئی ہیں اور نہ ہی ان کی ایمبولینسز اور دیگر سامان واپس کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ ایک مرتبہ پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے لیکن ان کے دعوی کے برعکس نماز جمعہ کے بعد اسلام آباد میں ان کی تنظیم نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوج کی مبینہ ریاستی دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں حکام یہ دعوی کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عمل کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنائی ہے لیکن میڈیا میں مسلسل اس معاملے پر مختلف محکموں کی عدم دلچسپی، لاپرواہی اور نالائقی کی رپورٹیں شائع ہورہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن پر سے پابندیوں کا ہٹنا بھی اس کی ایک مثال ہو سکتی ہے۔ بہرحال وجہ جو بھی ہو جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن فی الحال اس کامیابی کی خوشی منا سکتی ہیں بھلے یہ ریلیف وقتی ہی کیوں نہ ہو۔

اسی بارے میں