پاکستان کے ساحلی علاقوں میں خام تیل کہاں سے لیک ہو رہا ہے؟

Image caption پاکستان میری ٹائیم سیکیورٹی ایجنسی، بلوچستان انوائرمنٹ پروٹکشن ایجنسی، انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی اور پاکستان نیوی تاحال یہ سراغ نہیں لگا سکے ہیں کہ تیل کا رساؤ کہاں سے اور کیسے ہوا۔

سندھ اور بلوچستان کے ساحل پر خام تیل پھیلنے کے بعد بائیکو کمپنی کو عارضی طور پر آپریشن معطل کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ ورلڈ وائیڈ فنڈ کے مطابق اس خام تیل سے 20 کلومیٹر کی ساحلی پٹی متاثر ہوئی ہے اور خدشہ ہے کہ زیر سمندر چھوٹے جاندار ہلاک ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی کے قریب سے جمعرات کو تیل کا رساؤ مبارک ولیج تک پہنچ گیا، جس سے سمندر آلودہ اور فضا میں تیل کی بو پھیل گئی۔

تیل کا رساؤ کہاں سے ہوا؟

پاکستان میری ٹائیم سیکیورٹی ایجنسی، بلوچستان انوائرمنٹ پروٹکشن ایجنسی، انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی اور پاکستان نیوی تاحال یہ سراغ نہیں لگا سکے ہیں کہ تیل کا رساؤ کہاں سے اور کیسے ہوا۔

حب کے قریب گڈانی میں شپ بریکنگ کی صنعت واقع ہے جہاں پرانے آئل ٹینکروں کو لانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ دو سال قبل ایک بوسیدہ آئل ٹینکر سے خام تیل نکالنے کے دوران آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے بعد آئل ٹینکر لانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اسی علاقے میں بائیکو آئل کمپنی کی جیٹی بھی موجود ہے اور یہ کمپنی روزانہ 75 ہزار بیرل خام تیل ریفائن کرتی ہے۔

بائیکو کمپنی کے جنرل مئینجر کمیونیکیشن شہریار احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تیل کے رساؤ سے قبل خام آئل کی منتقلی کا آپریشن جاری تھا تاہم بائیکو کی لائن سے کوئی لیکیج نہیں ہوا۔

’گذشتہ روز بلوچستان انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے اہلکار آئے تھے، تین گھنٹے سمندر کے اندر اور باہر ریفائنری کی تنصیبات کا معائنہ کیا لیکن انہیں لیکیج کے کوئی شواہد نہیں ملے جبکہ میری ٹائیم سیکیورٹی ایجنسی کی بھی یہ ہی رپورٹ ہے۔‘

Image caption مبارک ولیج کے روکی شور اور سینڈی شور پر جو جانور ملتے ہیں جنہیں بینتھک اینمیل کہتے ہیں وہ کافی تعداد میں مرچکے ہوں گے، جن میں کیکڑے ، کورال، اسپنج، ائیل اور دیگر چھوٹے اقسام کے جاندار شامل ہیں

بلوچستان انوائرمنٹ پروٹکشن ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایک کمپنی کی جیٹی، جہازوں یا پائپ لائن سے کوئی بھی رساؤ نظر نہیں آیا، اس رپورٹ میں بائیکو کو تجویز دی گئی ہے کہ تیل کے رساؤ کا سراغ لگانے تک جیٹی سے آپریشن معطل کیا جائے اور رساؤ کی روک تھام کے لیے وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

میری ٹائیم سیکیورٹی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بائیکو اور بلوچستان انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے نمائندوں نے معائنہ کیا ہے لیکن جیٹی سے رساؤ کی علامات نہیں دیکھی گئیں۔ ایجنسی نے انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی کی تحقیقات کی گذارش کی ہے۔

نیشنل انسٹیٹوٹ آف اوشنو گرافی کے ڈاکٹر جاوید آفتاب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹیمیں جائے وقوع پر گئی ہوئی ہیں، ساحل اور سمندر سے نمونے لیے جائیں گے جس کی روشنی میں رپورٹ بنائی جائیگی۔

دوسری جانب ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ ساحل پر یہ خام تیل ٹار کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چند روز قبل اس کا رساؤ ہوا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کا بھی کہنا ہے کہ رساؤ کہاں سے ہوا اس کا تعین نہیں ہوسکا۔

Image caption یاد رہے کہ 2003 میں یونان کے بحری جہاز تسمان اسپرٹ سے 33 ہزار ٹن تیل کا رساؤ ہوا تھا جس کے بعد یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

سمندری ساحل اور مخلوق کو نقصان

چرنا جزیرہ اور مبارک ولیج کے قریب زیر سمندر کورال کی کئی آبی مخلوق پائی جاتی ہے، شہر کی بھیڑ سے بیزار لوگوں کے لیے ان دنوں یہ تفریحی کا مقبول مقام تھا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ٹیم نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے، ادارے کے سینئر اہلکار محمد معظم کا کہنا ہے کہ یہ تیل چرنا جزیرے اور مبارک ولیج سے لیکر سینڈز پٹ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ بیس کلومیٹر کا علاقہ بنتا ہے، لیکن اس کا دباؤ مبارک ولیج پر زیادہ ہے۔

چرنا ہماری بائو ڈائیورسٹی کا ہاٹ اسپاٹ ہے وہاں کتنا نقصان پہنچا ہے؟ اس کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ مبارک ولیج کے روکی شور اور سینڈی شور پر جو جانور ملتے ہیں جنہیں بینتھک اینمیل کہتے ہیں وہ کافی تعداد میں مرچکے ہوں گے، جن میں کیکڑے ، کورال، اسپنج، ائیل اور دیگر چھوٹے اقسام کے جاندار شامل ہیں جو سطح سمندر کے اندر پائے جاتے ہیں، مچھلیوں پر یقین اثر ہوا ہوگا لیکن کوئی زیادہ اثر نظر نہیں آیا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے ساحل سمندر پر کچھ مردہ کیکڑے وغیرہ بھی دیکھے ہیں، اس سے آبی پرندوں کی اموات کا بھی خدشہ موجود ہے۔ اس طرح ڈولفن اور وہیل مچھلی بھی تیل سے آلودہ فضا میں سانس نہیں لے سکتیں۔

یاد رہے کہ 2003 میں یونان کے بحری جہاز تسمان اسپرٹ سے 33 ہزار ٹن تیل کا رساؤ ہوا تھا جس کے بعد یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر اہلکار محمدمعظم کا کہنا ہے کہ اس تیل کا جذب ہونے کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ سمندر میں پراسیس کیا چل رہا ہے اگر گرمی ہو تو چند دنوں میں یہ ختم ہوجاتا ہے لیکن موجودہ وقت موسم ٹھنڈا ہے تو اسے کئی ہفتے لگے گئے ۔

اسی بارے میں