وزیر اعظم سے فرمائش: ’شیخ حسینہ واجد کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنایا جائے‘

جامعہ پنجاب تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقع تاریخی پنجاب یوینورسٹی ان دنوں پھر سے خبروں میں ہے لیکن یہ کسی نمایاں تعلیمی کارنامہ سرانجام دینے کی وجہ سے نہیں بلکہ ’ اخلاقیات‘ کے نام پر تشدد کے حوالے سے ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں مرد طالب علموں کے خاتون طالب علموں کے ساتھ کلاس رومز کے باہر بیٹھنے پر دونوں کو ہراساں کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ ان کی ایک طویل تاریخ ہے۔

تازہ واقعہ بدھ کو پیش آیا جب اطلاعات کے مطابق شبعہ تاریخ میں ایک مرد کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور ایک خاتون پاس کھڑی اس کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ تشدد کرنے والے طالب علموں کا تعلق مبینہ طور پر اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا۔

اس واقعے کی موبائل فونز سے بنائی گئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں جبکہ ذرائع ابلاغ کے مطابق جس شخص پر تشدد کیا گیا وہ اپنے اہلیہ کو لینے آیا تھا جو کہ جامعہ میں زیر تعلیم تھیں۔

سوشل میڈیا کی وجہ سے اس واقعے نے خاصی اہمیت اختیار کی لیکن یہ واقعات ایک تسلسل کے ساتھ پیش آتے ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا گیا جا سکتا ہے کہ پنجاب یورنیورسٹی کے سابق طالب علم کو فون کیا تو انھوں نے اپنے ابتدائی ردعمل میں کہا کہ یہ’ کون سی نئی بات‘ ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

انسان بنیں مرد نہ بنیں !

پشاور یونیورسٹی: پولیس تشدد کے بعد طلبہ کا احتجاج

گجرات میں تین لڑکیوں پر تیزاب سے حملہ، ایک ملزم گرفتار

اسی طرح سے پنجاب یونیورسٹی میں 1989 سے 1991 کے سیشن میں ابلاغیات کی تعلیم حاصل کرنے والح اویس باجوہ سے اس واقعے کے بارے میں بات کی تو ان کا جواب تھا کہ ہم خود جامعہ میں’ اخلاقیات‘ پر نظر رکھنے والی پولیس کے متاثرین ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی اسلامی جمیعت طلبہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم سے جان پہنچان تھی اور اکثر اوقات ایک ساتھ بیٹھنے والے طالب علموں کو ہراس کرتا تھا اور جب ایسے کئی واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے تو اس سے پوچھا کہ ایسی حرکتیں کیوں کرتے ہوں تو اس پر جواب دیا کہ’باجوہ تمھیں معلوم ہے کہ کیدو ( ہیر رانجھا داستان کا کردار) زندگی کی نعمتوں سے محروم تھا۔ ایسا ہی ہے جب میں اس نعمت سے محروم ہوں تو دوسروں کو کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔‘

اگر سوشل میڈیا پر دیکھا جائے تو یہ واقعہ"punjab university" کے نام سے ٹرینڈ ہو رہا ہے جہاں پر اس واقعے کی مذمت کی جا رہی ہے وہیں بعض نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بتایا ہے۔

جس میں صحبہ شاہین نے لکھا کہ’میں نے نوے کی دہائی میں تین برس تک جمعیت کی غنڈہ گردی کو برداشت کیا۔‘

سمیع نامی صارف نے وزیراعظم عمران خان سے منفرد فرمائش کر ڈالی کہ’ کوئی ایسا طریقہ کار ہے کہ برائے مہربانی شیخ حسینہ واجد کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر کو بنا دیا جائے؟ پنجاب یونیورسٹی پر غنڈوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔‘

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں 1971 جنگ میں جنگی جرائم کے لیے موت جماعت اسلامی کے کئی رہنماٰؤں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایک اور صارف سعدیہ سجاد نے لکھا کہ حال ہی میں وہ یونیورسٹی سے فائنل امتحانات دے کر فارغ ہوئی ہیں۔ یونیورسٹی میں سرکاری طور پر پر طالب علموں کی یونینز پر پابندی ہے لیکن جمعیت کھلے عام اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ کھلے عام تنگ کرتے ہیں اور دوسروں سے جھگڑتے ہیں لیکن انھیں کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں۔

اس ٹرینڈ پر اسلامی جمعیت طلبہ کے حق میں بات کرنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن ٹرینڈ پر وقفے وقفے سے جمعیت کے حامیوں کی ایک جانب سے ایک دعوت نامہ پوسٹ کیا گیا جس کے مطابق’ اسلامی جمعیت طلبہ احباب کنونیشن 2018 کا انعقاد پنجاب یونیورسٹی میں کر رہی ہے جس میں تمام سابق ممبران کو مدعو کیا جاتا ہے اور یہ ہمارے لیے باعث اعزاز ہو گا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کیا کہتی ہے؟

پنجاب یونیورسٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے بات کی تو ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ابھی تک دو طالب علموں اور یونیورسٹی کے چوکیدار کو معطل کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک طالب علم کا تعلق جمعیت سے ہے۔

انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ’ تشدد کا نشانہ بننے والا شخص ایک خاتون کے ساتھ صحن میں بیٹھا تھا کہ چوکیدار نے نامناسب رویے پر ان کو روکا کہ یہاں سے چلے جائیں اور اس پر جھگڑا ہو گیا اور بعد میں پاس سے گزرنے والے طالب علموں نے چوکیدار کے ساتھ مل کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

انھوں نے کہا کہ متاثرہ جوڑے کو اپنا بیان دینے کے لیے آج جمعے کو بلایا گیا تھا لیکن ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ پیر کو تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے اور اس کے بعد ہی صورتحال کا زیادہ بہتر اندازہ ہو گا۔

تو یہ غیر مناسب حرکات کیا تھیں تو اس پر جامعہ کے اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ’ ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہے تھے اور کھانے کے نوالے ایک دوسرے کو کھلا رہے تھے۔۔۔‘

تو ایسا یونیورسٹی میں کرنا ممنوعہ ہے تو انھوں نے کہا کہ ایسی حرکات پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے اور وہ خود بھی ڈسپلین پر نظر رکھتے ہیں۔‘

پنجاب یونیوسٹی میں ’اخلاقیات‘ کا ذمہ دار کون ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پنجاب ینویورسٹی کے سابق پروفیسر اور ابلاغیات کے ماہر ڈاکٹر مہدی حسن کو بھی جامعہ میں متعدد بار ان کی ’روشن خیالی‘ کے لیے جمعیت سے تعلق رکھنے والے طلبا کے ہاتھوں ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈاکٹر مہدی حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 1972-73 میں یہ سلسلہ شروع ہوا تھا جو کہ ابھی تک جاری ہے اور اس دوران ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے لے کر اب تک جو بھی حکومت آئی اس معاملے میں معذرت خوہانہ رویہ اپنایا۔

’ اس کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا ہے اور جامعہ کے انتظامی عہدوں پر ان کے لوگ پہنچ گئے ہیں اور پالیسی بنانے والے باڈیز پر ان کا قبضہ ہو گیا اور آہستہ آہستہ ان کی سوچ اور نظریات کے مطابق پالیسی پر عمل کرنے لگے۔ جس میں خواتین کے ساتھ بیٹھنے پر پابندی، کیفے میں چادر سے ان کے لیے الگ جگہ مختص کرنا شامل تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کیوں استاد کیسی رہی!

’کالج جہاں سکیورٹی اہلکاروں کی جگہ تو ہے پر طلبا کی نہیں‘

انڈیا: ’لڑکا مسلمان ہے، تم کیس کر دو‘

کیا اس سے ایک مثبت اور برداشت پر تعلیمی ماحول قائم رہتا ہے؟

اس پر ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق تقریباً 50 برس تک پڑھانے کے تجربے کے نتیجے میں سمجھتا ہوں کہ اکیڈیمک آزادی یعنی درس و تدریس کی آزادی نہ ہو تو علم نہیں ہوتا۔۔۔ علم کی تشریح میں اکیڈیمک آزادی کی سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے اور جمعیت کی عمل داری میں یہ آزادی ممکن نہیں ہے۔ بے شمار ایسے واقعات ہوئے ہیں جس پر انھوں نے اعتراضات کیے جس میں کلاس کے لیچکر پر اعتراضات بھی کیے ہیں کیونکہ وہ اکیڈیمک پرفارمنس پر توجہ نہیں دینے دیتے بلکہ صرف اپنے نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کی 2007 میں پنجاب یونیورسٹی سے گرفتاری

خیال رہے کہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کو نومبر 2007 میں اس وقت کے آمر جنرل پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے دوران پنجاب یونیورسٹی سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں پر روپوشی ختم کر طالب علموں سے خطاب کرنے پہنچے تھے اور اس وقت بھی اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کے ہاتھوں ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اب اس واقعے کے تقریباً 11 برس بعد عمران خان وزیراعظم ہیں اور صوبہ پنجاب میں ان کی حکومت بھی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ 70 کی دہائی سے’ اخلاقیات کی نجکاری‘ کے اس تسلسل کو روکنے کے لیے کوئی جامع اقدامات کرتے ہیں یا نہیں۔۔۔

یہاں ایک دوست کی بات یاد آ گئی ماسٹرز کے دوران جامعہ پنجاب جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں چند لڑکوں نے ایک جوڑے کو روکا رکھا تھا تو میرے میزبان اور جامعہ کے ہی طالب علم نے کہا اس طرف نہ دیکھنا اور نہ ہی ان کے کام میں بولنا۔۔۔۔ بدتمیزی کریں گے یہ تو ان کا معمول ہے۔۔۔۔

اسی بارے میں