کیا ایک ’اسرائیلی طیارہ‘ پاکستان آیا تھا؟

پرواز تصویر کے کاپی رائٹ Paul Kennedy / Airport-data.com
Image caption 'گلوبل ایکسپریس ایکس آر ایس' طیارہ کینیڈا کی طیارہ ساز کمپنی بمبارڈیئر کا بنایا ہوا ہے

سوشل میڈیا پر ایک مبینہ اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد کی خبر گرم ہے اور اس پر مختلف چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ کئی لوگ سوالات بھی پوچھ رہے ہیں جن میں نامور صحافی بھی شامل ہیں۔

جیو نیٹ ورک سے منسلک صحافی طلعت حسین نے سوال کیا کہ '‏اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد اور مبینہ مسافر کی واپسی کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلتی جا رہی ہے۔ سرکار کو اس کی وضاحت کرنی ہے۔ اقرار یا انکار۔ خاموشی بڑے مسائل کو جنم دے گی۔ ایران اور دوسرے ممالک کھڑے کانوں کیساتھ اس افواہ نما خبر کو سن رہے ہوں گے۔'

واضح رہے کہ ہماری اس خبر کی اشاعت کے بعد پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں انھوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ’کسی اسرائیلی طیارے کی پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر آمد کی افواہ میں قطعی کوئی صداقت نہیں کیونکہ ایسا کوئی طیارہ پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر نہیں اترا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Civil Aviation Authority

اس سے پہلے سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال نے حکومت سے سوال کیا تھا کہ ’حکومت حقیقی صورت حال فوری طور پہ واضح کرے۔‘

اس پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد حسین چوہدری نے لکھا ’حقیقی صورت حال یہ ہے کہ عمران خان نواز شریف ہے نہ اس کی کابینہ میں آپ جیسے جعلی ارسطو ہیں، ہم نہ مودی جی سے خفیہ مذاکرات کریں گے نہ اسرائیل سے، آپ کو پاکستان کی اتنی فکر ہوتی جتنی ظاہر کر رہے ہیں تو آج ہم ان حالات میں نہ ہوتے، اس لیے جعلی فکر نہ کریں، پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔‘

جس کے جواب میں احسن اقبال نے لکھا ’جس انداز میں وزیر اطلاعات محض وضاحت مانگنے پر آگ بھگولہ ہوئے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔‘

ان خبروں کے سامنے آنے پر میں نے اس طیارے کے بارے میں چھان بین شروع کی جس سے معلوم ہوا کہ اس ساری گفتگو کے تانے بانے ایک اسرائیلی صحافی ایوی شراف کی اُس ٹویٹ سے ملتے ہیں جو انھوں نے جمعرات 25 اکتوبر کو صبح دس بجے کی تھی۔

اس ٹویٹ پر معلومات حاصل کرنے پر یہ پتہ چلا کہ ایک طیارہ پاکستان آیا اور دس گھنٹے کے بعد ریڈار پر دوبارہ نمودار ہوا۔

پروازوں کی آمدورفت یا لائیو ایئر ٹریفک پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار پر اس پرواز کے اسلام آباد آمد اور دس گھنٹے بعد پرواز کے ثبوت موجود ہیں۔

اس آمد اور روانگی پر کئی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں اور بہت سے لوگ سوالات کر رہے ہیں کیونکہ ایک 'اسرائیلی طیارے' کی پاکستان آمد یقیناً بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔

ادھر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ کسی اسرائیلی طیارے کی پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر آمد کی افواہ میں قطعی کوئی صداقت نہیں ہے۔

ان میں سے کچھ سوالات کے جوابات ہم نے ذیل میں دینے کی کوشش کی۔

کیا کوئی اسرائیلی طیارہ پاکستان آ سکتا ہے؟

پاکستان اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات نہیں ہیں اس لیے دونوں ممالک میں رجسٹرڈ طیارے ایک دوسرے کی فضائی حدود میں نہیں آسکتے۔ اگر ایک اسرائیلی رجسٹرڈ طیارے کو دلی یا امرتسر جانا ہو تو اسے چینی یا پھر بحیرہ عرب کی فضائی حدود سے ہوتے ہوئے پاکستانی حدود سے بچ کر جانا ہو گا۔

کیا مبینہ طور پر اسلام آباد آنے والا طیارہ اسرائیلی ہے؟

جس طیارے کے بارے میں بات کی جا رہی ہے، وہ طیارہ کینیڈا کی طیارہ ساز کمپنی بمبارڈیئر کا بنایا ہوا 'گلوبل ایکسپریس ایکس آر ایس' ہے۔ اس طیارے کا سیریل نمبر 9394 ہے۔ یہ 22 فروری 2017 سے خود مختار برطانوی ریاست 'آئل آف مین' میں رجسٹرڈ ہے اور اس سے قبل اس طیارے کی رجسٹری ’کے مین‘ جزائر میں تھی۔

Image caption طیارے کی رجسٹری کی تفصیلات

آئل آف مین کی رجسٹری کے مطابق اس طیارے کی ملکیت 'ملٹی برڈ اوورسیز لیمٹڈ' کے نام سے ہے جس کا پتہ آف شور اکاؤنٹس کے حوالے سے شہرت رکھنے والے جزیرے برٹش ورجن آئی لینڈ کا ہے۔

اس پتے پر 38 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں بالکل اسی طرح جس طرح پاناما لیکس کی کمپنیاں رجسٹرڈ تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ICIJ
Image caption اس پتے پر 38 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں بالکل اسی طرح جس طرح پاناما لیکس کی کمپنیاں رجسٹرڈ تھیں۔

تو پھر اس کہانی میں اسرائیل کہاں سے آگیا؟

اب یہ کہانی کافی دلچسپ ہے۔ اس طیارے کے آنے جانے کے بارے میں ٹویٹس اسرائیلی اخبار 'ہاریٹز' کے مدیر ایوی شراف نے کیں تو یہ پہلا ذریعہ بنا۔

خاص بات یہ ہے کہ ایوی شراف نے مجھے بتایا کہ یہ طیارہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے برعکس ایک روز قبل، یعنی بدھ 24 اکتوبر کی صبح اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سے اڑا اور اسلام آباد پہنچا۔

مگر اسرائیلی صحافی کے بقول 'اس طیارے کے پائلٹ نے دوران پرواز ایک چالاکی' کی۔

ان کے مطابق یہ طیارہ تل ابیب سے اُڑ کر پانچ منٹ کے لیے اردن کے دارالحکومت عمان کے کوئین عالیہ ہوائی اڈے پر اترا اور اترنے کے بعد اسی رن وے سے واپس پرواز کے لیے تیار ہوا۔

اس طرح یہ پرواز جو تل ابیب سے اسلام آباد کے روٹ پر جانے کے بجائے اس 'چھوٹی سی چالاکی' کی مدد سے تل ابیب سے عمان کی پرواز بنی اور پانچ منٹ کے اترنے اور واپس پرواز کرنے سے یہ پرواز عمان سے اسلام آباد کی فلائٹ بن گئی۔

اس طرح روٹ تبدیل کرنے سے پروازوں کے مخصوص کوڈ بھی مختلف ہو جاتے ہیں جن سے یہ مختلف ایئر ٹریفک کے ٹاورز سے رابطہ کر کے شناخت کرواتے ہیں اور ’یوں اس پرواز نے پاکستان جانے کے مسئلے کا حل نکالا‘۔

طیارہ پہلے ہی اسرائیلی نہیں تھا اور اس 'چالاکی' سے پرواز بھی عمان سے اسلام آباد کی بن گئی۔

اپنی بات کی وضاحت کرنے کے لیے ایوی شراف نے اسی طرح کی ایک اور پرواز کا ثبوت اپنے ٹوئٹر پر دے رکھا ہے جو ابوظہبی سے تل ابیب سعودی عرب کے اوپر سے پرواز کر کے آئی مگر براستہ عمان جہاں طیارہ اترا اور پھر نئے کوڈ کے ساتھ پرواز کر گیا۔

طیارہ پاکستان کیوں آیا؟

تکنیکی طور پر یہ پرواز اسرائیلی نہیں رہی مگر اصل سوال وہیں کا وہیں ہے کہ اس طیارے کے مسافر کون تھے؟ یہ پرواز پاکستان کیا کرنے اتری تھی؟ اس کا خطے کے سیاسی یا سٹریٹجک منظرنامے سے کیا لینا دینا ہے؟

حسبِ معمول بہت سی افواہیں اور مفروضے ہیں جن کی صداقت کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں وضاحت کے لیے میں نے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری سے رابطہ کیا مگر ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں