لا برابر ہے انسان کے!

سوشل میڈیا پر ایک مبینہ اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد کی خبر گرم ہے اور اس پر مختلف چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سوشل میڈیا پر ایک مبینہ اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد کی خبر گرم ہے اور اس پر مختلف چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔

دیگر بہت سی بد خصلتوں کے ساتھ، ہم پاکستانیوں کو افواہوں پہ یقین کرنے کی بھی پرانی عادت ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، ہر ہر واقعے کی ایک سے زیادہ تفصیلات مل جائیں گی۔ سچ اور جھوٹ کا آملیٹ ہم کچھ ایسی مشاقی سے پھینٹتے ہیں کہ، پیاز، ہری، مرچ، زردی، سفیدی، کسی کی بھی انفرادیت برقرار نہیں رہتی۔

موجودہ حکومت کی طرف عوام الناس کا رویہ کچھ ویسا ہی ہے، جیسا نئی نویلی بہو کے ساتھ کسی زمانے میں خلیا اور ممیا، ساسوں کا ہوا کرتا تھا۔ بے چاری الہڑ سدھوڑ، ابھی ڈولی سے پاؤں بھی ٹھیک سے نہیں اتار پاتی تھی کہ سبھوں کو اس سے جانے کیا کیا گمان اور امیدیں وابستہ ہو جاتی تھیں۔

لاکھ سمجھا رہے ہیں کہ بھئی یہ ان بے چاروں کی پہلی باری ہے، باقی جماعتیں کئی کئی باریاں لے چکی ہیں، لیکن مجال ہے جو کسی کو ذرا خیال بھی آئے۔ ابھی پرسوں کی بات کو ہی لے لیجیے، آدھے ملک کو اس بات کاغم ہے کہ آن دی ریکارڈ قرض لینے پہ تین حرف بھیجنے والے وزیرِ اعظم اب وہی کشکول لیے ادھر سے ادھر کیوں دوڑے پھر رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

’اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد کی افواہ درست نہیں‘

’پاکستان چین کا اسرائیل ہے‘

ان لوگوں کو کیا خبر کہ بیان دینا ایک آرٹ ہے اور قرض مانگنا دوسرا آرٹ اور بیان سے مکر کے قرض مانگنا ایک تیسرا آرٹ ہے۔

جیسا کہ میں نے کہا، ہم پاکستانی بہت بد خصلت ہیں تو ہمیں آرٹ کی بھی ذرا قدر نہیں۔ ان ناقدروں کو ذرا شرم لحاظ نہیں کہ ایک شریف آدمی ان کی خاطر کس طرح ملکِ حجاز میں جا کے بار بار خوار ہوتا ہے۔

اور یہ کل کی بات دیکھیے، جانے کس ناشدنی نے اڑا دیا کہ ایک اسرائیلی طیارہ پاکستان آیا۔ دس گھنٹے یہاں گزارے اور اڑ گیا۔ بتایے! اس سے زیادہ احمقانہ بات اور کیا ہو گی؟ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں؟ شاید یہ وہ جاہل اور محروم لوگ ہیں جنہیں کبھی سبز پاسپورٹ بنوانے کی سعادت نہیں ملی۔

اگر انہوں نے پاسپورٹ بنوائے ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ اس پہ جلی حروف سے لکھا ہوتا ہے ’سوائے اسرائیل کے دنیا کے ہر ملک کے لیے قابلِ استعمال۔' ایسی صورتِ حال میں اسرائیلی جہاز یہاں کیا لینے آئے گا؟ کیا وہ جانتا نہیں کہ ہم اسلام کا قلعہ ہیں اور اگر اسے ہم سے تعلقات رکھنے ہیں تو پہلے ہماری ہی لاش پہ سے گزرنا پڑے گا۔

یہ گاؤدی یہ بھی نہیں جانتے کہ سعودی عرب کے تعلقات اسرائیل سے نہیں اور نہ ہی مستقل قریب میں ہوں گے۔ ویسے آنے والے وقت کے بارے میں کوئی بھی بات کرنا نری بے وقوفی ہوتی ہے۔ آنے والے وقت کے بارے میں کون کیا کہہ سکتا ہے؟ اب یہ ہی دیکھیے آج سے فقط ستر برس قبل، نہ اسرائیل تھا، نہ اسرائیلی۔

تو جب اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات نہیں تو ہم کیوں کسی اسرائیلی جہاز کو بلائیں گے؟ اور جب ہم بلائیں گے نہیں تو وہ آئیں گے کیوں؟ رہی بات ان لوگوں کی جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ٹرمپ اور سعودی حکومت کے اچھے تعلقات، جمع پاکستان اور سعودی حکومت کے اچھے تعلقات، برابر ہیں۔

ٹرمپ اور اسرائیل کے اچھے تعلقات جمع لا اور اس مساوات کو جب حل کریں تو لا برابر ہو جاتا ہے۔ پاکستان اور سعودیہ عرب کے اچھے تعلقات جمع ٹرمپ اور سعودیہ کے اچھے تعلقات بٹا ٹرمپ اور اسرائیل کے اچھے تعلقات۔ اب ٹرمپ سے ٹرمپ کٹ گیا، اچھے تعلقات سے اچھے تعلقات کٹ گیا۔ لا برابر ہو گیا پاکستان جمع سعودیہ عرب بٹا اسرائیل۔

ریاضی جاننے والے اتنا تو جانتے ہی ہیں کہ بٹا کا مطلب ہے تقسیم کنندہ۔ یعنی جب اس مساوات کو مزید حل کرنے کی کوشش کی جائے تو لا برابر ہے، سعودیہ عرب پاکستان کو اسرائیل پہ تقسیم کر کے آنے والا جواب۔ میں چونکہ ریاضی میں رعایتی نمبر لے کر پاس ہوئی تھی اس لیے ریاضی کے ' لا' کا جواب کبھی درست نہیں نکال سکی۔

ہاں اردو زبان میں 'لا' کے بہت سے مطالب و معانی میری سمجھ میں بخوبی آتے ہیں۔ مگر ان مفاہیم سے اس جہاز کی پراسرار آمد و رفت کے اسرار و رموز پہ کچھ خاص روشنی نہیں پڑتی۔

ایک آسان ترکیب یہ ہے کہ اس مساوات کو ن م راشد کے طریقے پہ حل کر لیا جائے، یعنی لا برابر ہے انسان کے۔ اس صورت میں آپ بڑی آسانی جواب نکال سکتے ہیں۔ چلیے شاباش جواب نکال لیے، حکومت کو حکومت کرنے دیجیے، کتنی بار سمجھایا ہے کہ ایک بادشاہ، بادشاہت نہ کرے تو آخر بے چارہ کیا کرے؟

اسی بارے میں