سب گندا ہے پر دھندا ہے یہ

تصویر کے کاپی رائٹ Gamma-Rapho

جس طرح بھوت ووت کچھ نہیں ہوتا اسی طرح بنیادی عالمی اقدار نرا وہم ہیں۔ اصل سچائی دھندا ہے، اصل حقیقت ضرورت ہے، اصل کرنسی لالچ ہے۔ میں کتنے میں فروخت ہوں گا تو کتنے میں خریدے گا؟ ضمیر، بنیادی حقوق، اقتدارِ اعلی، انفرادی و اجتماعی اخلاقیات، اصول، انصاف، برابری جیسے کلیشے کنگلوں کی پناہ گاہیں ہیں۔

طاقت کے سٹاک ایکسچینج میں یونیورسل اقدار کی اوقات شیئرز سے زیادہ نہیں۔جس نے جس روز جتنے اٹھا لیے یا بیچ دیے مارکیٹ اسی کی۔ کون سے مفاداتی شیرز اٹھانے یا گرانے ہیں۔ یہ بھی چار پانچ بڑے بروکرز ہی طے کرتے ہیں۔ باقی مارکیٹ تو ان بڑوں کے نکالے گئے ریٹ کے پیچھے چلتی ہے۔

جب تک آپ مجھ سے مال خریدتے رہیں گے یا رعائتی نرخ پر بیچتے رہیں گے تب تک آپ مہان ہیں، آپ سے بڑا گیانی اور مہربان کوئی نہیں۔ جس روز یہ توازن گڑ بڑ ہوا اسی روز بنیادی انسانی اقدار کی پامالی کے الزامیہ کوڑے پیٹھ پر برسنا شروع ہو جائیں گے حتی کہ آپ دوبارہ مفاداتی لائن میں لگ جائیں۔

جس دنیا میں ہم سانس لے رہے ہیں وہاں ہر بیوپاری بنیادی عالمی اقدار کے دو رجسٹر رکھتا ہے۔ ایک مجھ جیسے احمقوں کو مطمئن کرنے کے لیے اور دوسرا دھندے کے لیے۔

جس فرد یا ملک کے ہاتھ میں چیک بک ہے یا جو ہماری معیشت اور ضروریات کے لیے سود مند ہے اس سے زیادہ شریف، نجیب الطرفین، خاندانی، ہمدرد، بھولا کوئی نہیں۔ جو فرد یا ملک نہ ہمیں کوئی فائدہ دے سکتا ہے نہ ہم سے کوئی فائدہ اٹھانے کے قابل ہے اس سے زیادہ گھٹیا، بے وقوف، نااہل اور دھرتی پر بوجھ کوئی اور نہیں۔

ایران جب تک امریکی منڈی تھا اس کی اہمیت ہتھیلی کے چھالے جیسی تھی۔ شاہ سے زیادہ بیدار مغز، عوام دوست اور آزاد دنیا کا محسن علاقے میں کوئی اور نہ تھا۔ جیسے ہی شاہ گیا اور ایران مغرب کے ہاتھ سے نکلا، اس سے زیادہ خونخوار اور گھٹن زدہ ملک علاقے میں کوئی اور نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سعودی تیل سے جب تک دنیا کا حلق تر ہے اور سعودی عرب جب تک ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے تب تک اسے ایک خاص حد سے زیادہ خفا نہیں دیکھا جاسکتا۔ آج سعودی کنوئیں خشک ہو جائیں اور اسلحہ ساز کمپنیوں کو دیے گئے چیک باؤنس ہونے لگیں تو سعودی عرب سے زیادہ رجعت پسند، ظالم، قبائیل اور اجڈ علاقے میں کوئی اور نہ ہوگا اور اچانک مہذب دنیا پر کھلے گا کہ وہاں کے مظلوم عوام کس طرح خاندانی تانا شاہی تلے جوج رہے ہیں۔تب یہ ظلم نہ امریکہ سے دیکھا جائے گا نہ یورپ سے۔

جمال خشوگی کے قتل کے بعد روز روز بدلتے سعودی موقف سے ٹرمپ کو خاصی پریشانی ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ پریشانی یہ ہے کہ کانگریس کوئی ایسی حرکت نہ کر دے کہ ایک سو دس ارب ڈالر کا دفاعی سودا منسوخ ہو جائے۔

فرانس کو قذافی کے بعد بشار الاسد بھی اس لیے ایک آنکھ نہیں بھاتا کہ اس نے اپنے ہی لوگوں پر زمین تنگ کر رکھی ہے۔ مگر فرانسیسی صدر میخواں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو لوگ جمال خشوگی کے قتل کی تفتیش مکمل ہونے تک فرانسیسی ہتھیاروں کے 14 ارب ڈالر کے سودے کو معطل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ دو الگ الگ معاملوں کو غلط انداز سے جوڑ رہے ہیں۔

امریکہ نے پاکستان کو چار دہائیوں تک منہ بولے بیٹے کا درجہ دیے رکھا اور پاکستان بھی سعادت مندی کی اداکاری کرتا رہا۔ لیکن اب امریکہ کے لیے بھارت میں زیادہ نوٹ ہیں اور پاکستان کی افرادی قوت کی ضرورت بھی کم ہو گئی ہے۔ لہذا پاکستان کے لیے ڈو مور اور بھارت کے لیے ہیو مور ہو گیا ہے۔

کل تک سوویت یونین پاکستان کے لیے بنیادی بقائی خطرہ تھا اور پاکستان سوویت یونین کی نگاہ میں سامراجی کٹھ پتلی تھا۔ آج امریکہ پاکستان کی لاگ بک میں ایک خود غرض طاقت اور روس ایک اہم ہمسایہ ہے جس سے اچھے تعلقات دوطرفہ مفاد میں ہیں۔

ساٹھ کی دہائی تک پاکستان اور ایران جڑواں بھائی تھے۔ ستر کی دہائی سے سعودی عرب بڑا بھائی ہے۔ قصہ مختصر اس دنیا میں وہی روزنِ تعلق کارآمد ہے جو مفاداتی اینٹوں کو دھندے کے سیمنٹ سے جوڑ کر اٹھایا جائے۔ باقی سب کہانی ہے، بھوت ووت ہے، وہم ہے۔

اسی بارے میں