بنوں: پشتون تحفظ موومنٹ کا کیا اب تک کا سب سے بڑا جلسہ تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption جلسے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ساتھ ساتھ کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور اور مالاکنڈ ڈویژن سے بھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی

پشتون تحفظ موومنٹ نے اتوار کو خیبرپختونخوا کے جنوبی شہر بنوں میں احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ پی ٹی ایم نے لگ بھگ اڑھائی ماہ کی خاموشی کے بعد بنوں جسے پشتون پیار سے ’بنی گل‘ پکارتے ہیں، کو احتجاجی جلسے کے لیے منتخب کیا۔

سوشل میڈیا پر اس جلسے میں شریک افراد کی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں اور دعوے کیے جا رہے ہیں کہ یہ غالباً موومنٹ کا سب سے بڑا جلسہ تھا۔

بنوں جلسے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ساتھ ساتھ کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور اور مالاکنڈ ڈویژن سے بھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔

’پشتون تحریک کو دشمن قوتیں استعمال کر رہی ہیں‘

وانا: امن کمیٹی کا جرگے کی بات ماننے سے انکار، حالات بدستور کشیدہ

سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کے جذبے’ٹھنڈے‘ پڑ رہے ہیں؟

مقامی صحافی عمردراز وزیر جنھوں نے پی ٹی ایم کے سارے جلسے رپوٹ کیے ہیں، کہتے ہیں کہ ’بنوں کا جلسہ اگر سب سے بڑا نہیں، تو ٹاپ ٹو جلسوں میں ضرور تھا۔‘

پشتونوں کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاستدان اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک جنھوں نے سکول اور کالج تک تعلیم بنوں میں حاصل کی ہیں، اس جلسے کو تاریخی جلسہ قرار دیتے ہیں۔

افراسیاب خٹک کہتے ہیں ’اگرچہ اس تحریک کے سرچشمے وزیرستان سے ہیں، لیکن انھوں نے بنوں، جنوبی اضلاع، کوئٹہ، پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن سمیت تمام پشتون علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔‘

پشتون تحفظ موومنٹ کے منتظمین کے مطابق بنوں جلسے کے لیے اُنہوں نے 30 ہزار کرسیاں منگوائی تھیں، لیکن ان کرسیوں کے ساتھ ساتھ بنوں سپورٹس کمپلکس کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔

صحافی عمردراز وزیر کے مطابق کم از کم ساٹھ ہزار لوگوں نے بنوں جلسے میں شرکت کی، جس میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ، بچے، خواتین اور بوڑھے بھی شریک تھے۔

اس جلسے میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ملک مرزا عالم وزیر کی بیوہ نے بھی شرکت کی، جس کے گھر سے اُن کے شوہر اور دو بیٹوں سمیت 13 جنازے نکلے تھے۔ یہ تمام افراد ’نامعلوم مسلح افراد‘ کے ہاتھوں مختلف حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ یہ بوڑھی خاتوں جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی والدہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پی ٹی ایم کے بنوں جلسے میں صوابی سے تعلق رکھنے تنظیم کے ضعیف العمر کارکن ’فیض محمد کاکا‘ نے بھی شرکت کی۔

88 سالہ فیض محمد کاکا پر صوابی میں پی ٹی ایم جلسے کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی اور بعد میں اُنہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس 88 سالہ شخص کو ہتھکڑیاں لگے ہوئے تصاویر وائرل ہوئی تھیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے بنوں جلسے کو بھی مقامی میڈیا نے کوئی کوریج نہیں دی۔ موومنٹ کے جلسوں میں اکثر فیس بک لائیو کے ذریعے شرکا مقررین کی تقاریر دیکھاتے ہیں، لیکن بنوں میں جلسے کے وقت موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل رہی۔ یہ معلوم نہیں کہ یہ معطلی سکیورٹی کے پیش نظر کی گئی یا سینسرشپ کی وجہ سے۔

رواں سال فروری میں منظرعام پر آنے والی تنظیم پی ٹی ایم کے بارے اگرچہ ماضی قریب میں خیال ہوتا رہا کہ اس تنظیم کی اب وہ مقبولیت برقرار نہیں رہی ہے اور تنظیم کے دواہم اراکین کے پارلمنٹ میں جانے سے تنظیم منقسم اور کمزور ہوگئی ہیں، لیکن بنوں جلسے میں ارکان قومی اسمبلی کی شرکت اور ’ہزاروں افراد کی شرکت‘ نے یہ تاثر رد کیا ہے۔

اسی بارے میں