خیبر پختونخوا: گرلز سکولوں میں مردوں کا داخلہ ممنوع

  • رفعت اللہ اورکزئی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
ملالہ یوسفزئی کو ملنے والی نوبیل انعاف کی رقم سے بننے والا سکول

،تصویر کا ذریعہABDUL MAJEED

،تصویر کا کیپشن

ملالہ یوسف زئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے قدرے سخت الفاظ میں وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے ٹویٹ کیا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے کے تمام گرلز سکولوں کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں اور خواتین کے سپورٹس مقابلوں کی تقریبات کے دوران مردوں کی بطور مہمان خصوصی دعوت یا شرکت پر پابندی عائد کردی ہے۔

یہ پابندی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی ہدایت پر لگائی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے مشیر برائے تعلیم ضیا اللہ بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ عرصے سے انہیں سرکاری سکولوں کی بچیوں کی تصویریں سماجی رابطوں کی ویب سائیڈوں پر شئیر کئے جانے کے شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حال ہی میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جس میں کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کرنے والی بچیوں کی تصویریں بغیر اجازت کے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کی گئی ہیں جس سے محکمہ تعلیم کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے مطابق گذشتہ روز اسی قسم کی ایک اور تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں کھیلوں کے یونیفارم میں ملبوس کچھ بچیاں کھڑی نظر آتی ہیں اور ان کے سامنے قطار میں چند مرد حضرات کھڑے ہیں جو انہیں گھور گھور کردیکھ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن

ملالا یوسفزئی کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے تنقید کی

ضیا اللہ بنگش کے مطابق اس تصویر پر لوگوں کی جانب سے طرح طرح کی منفی رائے کا اظہار کیا گیا اور بعض تبصرے تو اتنے قابل اعتراض تھے کہ ان کو دوبارہ کسی کے سامنے بیان بھی نہیں کیا جاسکتا۔

انھوں نے کہا کہ ان بچیوں کے والدین کی طرف سے بھی تصاویر کی وائرل ہونے پر شکایت کی گئی جس کا وزیراعلیٰ محمود خان نے سختی سے نوٹس لیا اور فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے مردوں کی گرلز سکولوں میں داخلے پر پابندی ہوگی۔

حکومت نے سکولوں میں ہونے والے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کی تصاویر یا وڈیو بنانے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے ذرائع ابلاغ پر بھی سکولوں کے اندر تقریبات کی کوریج کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

ضیا اللہ بنگش کے مطابق اکثر اوقات کھیلوں کے مقابلوں کے دوران دیکھا گیا ہے کہ بچیاں ٹی وی کیمروں کے سامنے بہتر طریقے سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کرسکتی جس سے ان کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پشتون معاشرے میں کسی بچی کے والدین کی اجازت کے بغیر ان کی فلم یا تصویر نہیں بناسکتے اور کچھ ایسے واقعات ہوئے جس میں بغیر اجازت کے کوریج کی گئی جس پر والدین کی طرف سے سخت قسم کی شکایات موصول ہوئی۔

’آئندہ سے گرلز سکولوں میں جتنی بھی تقریبات ہوں گی اُن میں خواتین ایم پی ایز یا خواتین اعلیٰ افسران بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گی۔ ‘

اُدھر دوسری طرف حکومت کی طرف سے خواتین کے تعلیمی اداروں میں مردوں کے داخلے پر پابندی کے اس فیصلے پر سوشل نیٹ ورکنگ کے ویب سائیٹوں پر گرما گرم بحث جاری ہے اور لوگوں کی طرف سے اس کی حمایت اور مخالفت میں مختلف قسم کی آراء کا اظہار کیا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا پر سرگرم ملالہ یوسف زئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے قدرے سخت رائے میں وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا ہے کہ 'پیارے وزیراعظم کیا یہی تبدیلی اور نیا پاکستان ہے جس کا آپ نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور جس سے اداروں میں طالبانئزیشن پھیلائی جارہی ہے۔‘

دوسری جانب ایک اور صارف ڈاکٹر آفتاب احمد خان نے لکھا ہے کہ 'یہ پی ٹی آئی حکومت کا اچھا اقدام ہے کیونکہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں لہذا اس فیصلے کی حمایت کی جائے۔'

ایک خاتون مریم شبیر نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ کیا لڑکیوں کو کھیلوں کے مقابلوں میں تشہیر کی ضرورت نہیں کہ ان سے یہ حق چھینا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز سماجی رابطوں کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں کھیلوں کے لباس میں ملبوس چند بچیاں نظر آتی ہیں جنہیں تقریب میں مدعو چند مرد حضرات انعام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ تصویر کئی واٹس ایپ گروپوں میں بھی شیئر کی گئی تھی۔