عمران خان کے زبانی احکامات معطل، چیف جسٹس ثاقب نثار کا آئی جی اسلام آباد کو کام جاری رکھنے کا حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی

سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے زبانی حکم پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کے تبادلے کے احکامات کو معطل کر دیا ہے اور اُنھیں کام جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ملک کسی کی مرضی سے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کے مطابق چلے گا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ جان محمد کے تبادلے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی تو سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے عدالت کو بتایا کہ اُنھیں اتوار کی رات گئے وزیراعظم کی طرف سے زبانی احکامات ملے تھے کہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا تبادلہ کر کے اُنھیں اسٹیبلشمنٹ ڈیژون رپورٹ کرنے کی ہدایت کی جائے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی طرف سے وفاقی وزیر اعظم سواتی کے احکامات نہ ماننے پر اعظم سواتی نے وزیر اعظم عمران خان سے آئی جی کے رویے کی شکایت کی تھی جس پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تاہم وفاقی حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔

عدالت نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیر اور سیکریٹری داخلہ اعظم سیلمان کو حکم دیا ہے کہ وہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کے تبادلے سے متعلق بیان حلفی عدالت میں جمع کروائیں اور عدالت اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے سکتی ہے۔

عدالت نے بیورو کریسی سے کہا ہے کہ وہ کسی کا بھی غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کر دے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’کھولو گیٹ نہیں تو ۔۔۔‘ کی دھمکی مہنگی پڑ گئی!

وزیر اعلیٰ پنجاب کا معافی نامہ قبول

پاکپتن ڈی پی او تبادلہ: خاور مانیکا عدالت میں طلب

’پنجاب پولیس کو آپ کی اشد ضرورت ہے‘

بینچ کے سربراہ نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ وہ اس بتادلے کے بارے میں حقائق بتائیں جس پر سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آفس اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھا اور ان کے تبادلے سے متعلق کافی دنوں سے کام ہو رہا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ عہدے کے لیے نااہل تھے تو پھر اُنھیں آئی جی کے عہدے پر کیوں تعینات کیا گیا؟

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئی جی قابل افسر نہیں تھے تو اُنھیں نوکری سے برطرف کیا جانا چاہیے تھے اتنی عجلت میں اس کا تبادلہ کیوں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کس نے کھلا اختیار دیا ہے کہ جو چاہیں کرتے پھریں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ ہے وہ نیا پاکستان جس کے دعوے موجودہ حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے کر رہی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کا آئی جی اسلام آباد کے تبادلے میں کوئی کردار نہیں ہے۔

سیکریٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کے بارے میں اُنھیں علم نہیں ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے سیکریٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیسے افسر ہیں کہ آپ کے ایک ماتحت کو ٹرانسفر کر دیا گیا اور آپ کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ کا قلمدان بھی وزیر اعظم عمران خان کے پاس ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر اعظم سواتی کے بیٹے کی مدعیت میں اسلام آباد پولیس نے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے وفاقی وزیر کے گھر پر حملہ کیا تھا۔

اس مقدمے میں پولیس نے ایک بارہ سالہ لڑکے ضیا الدین کا نام بھی درج تھا تاہم سپریم کورٹ نے آئی جی کے تبادلے کا جب نوٹس لیا تو پولیس حکام نے اس کمسن ملزم کو رہا کر دیا۔

ضیا الدین کا کہنا تھا کہ اُن کی گائے اعظم سواتی کے فارم ہاؤس میں گھس گئی تھی جب اُنھیں واپس لیکر آئے تو مذکورہ وزیر کے کارندوں نے مبینہ طور پر اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور مقدمہ بھی اُن ہی کے خلاف درج ہوا۔

دوسری طرف وفاقی وزیر اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اُن کے ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی لیکن اُنھیں تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں