جانے کی باتیں جانے دو

عمران تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption موجودہ حالات میں وزیر اعظم عمران خان کو پوری اجازت اور چھوٹ ملنی چاہیے کہ وہ اطمینان سے عددی طور پر کمزور حکومت کے باوجود اپنا کام مضبوطی سے کرتے رہیں

این آر او، این آر او، این آر او۔۔۔ کپتان ایک نہیں، دو نہیں، کئی بار اس بارے بات کر چکے ہیں۔ کون این آر او کر رہا ہے، کس نے این آر او کرنا ہے اور کس کے ساتھ کرنا ہے؟ یہ ہیں وہ سوالات جن کا جواب مشکل سے ملے گا۔

وزیراعظم بہت غصے میں ہیں اور اس کی وجہ کچھ عرصہ قبل رانا مشہود کا بہت ہی اہم وقت پر انتہائی غیر اہم بیان لیکن اُس پر انتہائی اہم ردعمل تھا۔

پنجاب میں گیم کسی بھی وقت بدل سکتی ہے اور پی ٹی آئی کے اندر دس سے بارہ ارکان فارورڈ بلاک بنا سکتے ہیں۔۔۔ یہ تھی وہ خبر جس نے کپتان کے کان کھڑے کر دیے اور حکومتی ترجمان کو ایک پریس کانفرنس میں کہنا پڑا کہ جلد ہی چند بڑی گرفتاریاں ہونے والی ہیں۔

عاصمہ شیرازی کے مزید کالم پڑھیے

ہائے ہماری مجبوریاں !!!

اب کی بار چال کس کی؟

کیسا ہو گا نیا پاکستان

چُپ کا موسم

اسی دوران ہونے والے سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے بارہ کے قریب ایم پی ایز نے ن لیگ کے خواجہ حسان کو ووٹ بھی دے دیا۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ہمارے دوست کے الہامی بیان کے اگلے ہی دن سابق وزیراعلی اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف گرفتار ہو گئے۔۔۔ کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔

بلا شبہ تحریک انصاف حکومت شاید پاکستان کی سیاسی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو بے پناہ مسائل کا شکار ہونے کے باوجود جارحانہ سیاست کر رہی ہے۔

باوجود اس کے کہ پنجاب میں پوری طرح بیوروکریسی کی اتھل پتھل، ایک ماہ میں دو انسپکٹر جنرل پولیس کی متنازعہ تبدیلیاں، وفاقی کابینہ کے تین اہم وزرا کے خلاف مبینہ انکوائری کی خبریں اور تردید، کشکول توڑنے کے دعووں کے باوجود امدادی مہم اس حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔۔

اس کا کریڈٹ پوری طرح سے اس حکومت کو نہیں بلکہ اُس اپوزیشن کو جاتا ہے جو خاموش تماشائی بھی ہے اور مصلحتوں کا شکار بھی۔

پنجابی میں کہتے ہیں 'جدھے بوجی(جیب) وچ دانے، اودھے کملے وی سیانے'۔۔۔ حکومت کے ہاتھ میں کھیلنے کو تمام پتے موجود ہیں۔۔ کہاں کس کو کسنا ہے اور کہاں کس کو ڈیل نہیں۔۔ ڈھیل دینا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مولانا فضل الرحمن آس لگائے بیٹھے ہیں کہ حکومت کے خلاف کوئی زبردست سی تحریک شروع ہو سکے اور شہباز شریف بغیر چوں چراں 'اداروں سے مذاکرات' کا بھاشن سُنا رہے ہیں

ایسے میں مولانا فضل الرحمن آس لگائے بیٹھے ہیں کہ حکومت کے خلاف کوئی زبردست سی تحریک شروع ہو سکے اور تمام اپوزیشن ایک صفحے پر (جو ابھی تک تو وجود میں نہیں آیا) اکٹھی ہو کر اس حکومت کا دھڑن تختہ کر دے۔

عام انتخابات کے فوری بعد ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس کا ایجنڈا دھاندلی کے خلاف ایک گرینڈ اتحاد وجود میں لانا تھا۔ اس سلسلے میں کچھ کمیٹیاں بھی تشکیل پا گئیں، دوریاں کم ہونے لگیں مگر نزدیکیاں ابھی ہو نہ پائیں کہ اپوزیشن میں ریشہ دوانیوں نے سر پکڑ لیا۔

نواز شریف اپنی صاحبزادی سمیت جیل میں تھے اور شہباز شریف بغیر چوں چراں 'اداروں سے مذاکرات' کا بھاشن سُنا رہے تھے، ایسے میں پی پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات کھلے اور صدارتی انتخابات سے عین پہلے زرداری صاحب کے انتہائی قریبی لوگوں کو اُٹھا لیا گیا اور پھر سب نے متحدہ اپوزیشن کا اتحاد پارہ پارہ ہوتے دیکھا۔

دن بدل گئے۔۔۔ میاں نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی کو جیل سے رہائی ملی اور میاں صاحب نے بیگم کلثوم کے چہلم تک چُپ رہنے کا عندیہ دیا۔

غم یقیناً بڑا تھا لیکن ایسی گھمبیر خاموشی کہ پارٹی کے اندر بھی چہ مہ گویاں ہونے لگیں۔۔۔ بالآخر نیب کورٹ کے باہر میاں صاحب نے لب کشائی تو کی مگر ان کی طویل خاموشی نے کئی سوالات کو جنم بھی دیا۔

ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ، سویلین بالادستی کا خواب شاید میاں صاحب دُہرانا نہیں چاہتے لیکن اُن کے ووٹرز اور عوام کو یہ نعرے آج بھی سُنائی دے رہے ہیں۔

ایک بار پھر کُل جماعتی کانفرنس کی باتیں ہو رہی ہیں۔

Image caption اب کی بار زرداری صاحب خود چل کر مولانا کے دروازے پر گئے

اب کی بار زرداری صاحب، جن کی جلد گرفتاری کی افواہیں اُڑائی جا رہی ہیں۔۔ خود چل کر مولانا کے دروازے پر گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن پُل بننے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اب میاں صاحب کی باری ہے اور اُن کے نزدیک ابھی حکومت کو وقت ملنا چاہیے۔

نوازشریف کسی جلدی میں نہیں۔ زرداری صاحب سے فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں۔ دونوں ضرورت کے وقت ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو چکے ہیں۔۔۔ لہذا اب یہ فاصلہ کم از کم مولانا کم نہیں کر سکتے۔

ایسے میں عمران خان کو پوری اجازت اور چھوٹ ملنی چاہیے کہ وہ اطمینان سے عددی طور پر کمزور حکومت کے باوجود اپنا کام مضبوطی سے کرتے رہیں۔۔۔ لہذا اپوزیشن کے لیے اتنا ہی ہے کہ 'جانے کی باتیں جانے دو'۔

اسی بارے میں