آسیہ بی بی کون ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ کیسے ہوا؟

آسیہ بی بی تصویر کے کاپی رائٹ HANDOUT

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آسیہ نورین بی بی پنجاب کے ضلع ننکانہ کے ایک گاؤں اِٹاں والی کی رہائشی تھیں جو لاہور سے تقریباً 50 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔

2009 میں اسی گاؤں میں فالسے کے ایک باغ میں آسیہ بی بی کا گاؤں کی چند عورتوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جس کے دوران مبینہ طور پر انھوں نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف 'تین توہین آمیز' کلمات کہے تھے۔

استغاثہ کے مطابق اس واقعے کے چند روز بعد آسیہ بی بی نے عوامی طور پنچایت میں خود پر لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے معافی طلب کی۔

اسی بارے میں مزید

سلمان تاثیر کے بچے کیا کہہ رہے ہیں

آسیہ بی بی: فیصلے سے پہلے اور بعد کمرہ عدالت میں کیا ہوا

آسیہ بی بی کی رہائی کا حکم، کئی شہروں میں احتجاج شروع

آسیہ بی بی کیس: ’عوام نہ رہنے دے تو باہر نکلنا پڑے گا‘

الزام لگنے کے چند روز بعد آسیہ کو اِٹاں والی میں ان کے گھر سے ایک ہجوم نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد وہ پہلے شیخوپورہ اور پھر ملتان جیل میں قید رہیں۔

جون 2009 میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا جس میں توہینِ رسالت کے قانون 295 سی کے تحت الزام لگایا گیا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف 'تین توہین آمیز' کلمات کہے تھے۔

اس مقدمے کے مدعی ننکانہ صاحب کی مسجد کے امام قاری محمد سالم تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تاہم ملزمہ نے اپنے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران بیان دیا تھا کہ ان پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کرنے پر یہ مقدمہ درج کروا دیا گیا۔

2010 میں ضلع ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنا دی اور وہ پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی خاتون بن گئیں۔

آسیہ بی بی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی۔ چار سال بعد اکتوبر 2014 میں عدالت نے سزا کی توثیق کر دی۔

آسیہ بی بی نے جنوری 2015 میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف درخواست پر ابتدائی سماعت جولائی 2015 میں شروع کی اور ان کی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اپیل پر حتمی فیصلہ تک سزا پر عمل درآمد روک دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وکلا کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب سپریم کورٹ نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت کسی مقدمے کی سماعت کی ہو۔

اکتوبر 2016 کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان نے مقدمے کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا موقف تھا کہ چونکہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کی سماعت کر چکے ہیں اور یہ مقدمہ بھی اس سے کسی حد تک منسلک ہے اس لیے وہ اس کی سماعت نہیں کر سکتے۔

آٹھ اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی تین گھنٹے طویل سماعت کی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

31 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر آسیہ بی بی کے خلاف کیس خارج کرنے اور ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد

قانونی ماہرین کے مطابق آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کی بنیاد چار وجوہات پر ہے:

  • ایف آئی آر درج کرنے میں دیر جس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں
  • گواہان کے بیانات میں عدم مطابقت
  • آسیہ بی بی کے غیر عدالتی اعترافِ جرم پر انحصار
  • عدالتوں کی جانب سے آسیہ بی بی پر لگائے جانے والے الزامات کی صحت اور ان کے ماحول کے تناظر کو نظر انداز کرنا

توہین مذہب کا الزام تو آسیہ پر لگا تھا تاہم ان کے خاندان کا بھی اِٹاں والی میں رہنا مشکل ہو گیا۔ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف چلے گئے اور بالآخر برطانیہ میں انھیں پناہ مل گئی۔

ملک دو حصوں میں تقسیم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آسیہ بی بی کے مقدمے نے ملک کی رائے عامہ کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے جیل جا کر ملاقات کی تھی، اور ان کے حق میں بات کی تھی، جس کی پاداش میں ان کے اپنے محافظ پولیس اہلکار ممتاز قادری نے چار جنوری 2011 میں اسلام آباد کی مصروف کوہسار مارکیٹ میں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

اس وقت بھی بہت سے لوگ ممتاز قادری کو حق بجانب اور شہید قرار دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے آسیہ بی بی کو قتل کرنے پر پانچ لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔

بین الاقوامی ردِ عمل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فرانس کے شہر بوردو میں آسیہ بی بی کے حق میں مظاہرہ

یہ کیس بین الاقوامی طور پر بھی زیرِ بحث آیا۔

اُس وقت کے رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ آسیہ بی بی کو رہا کرے، جبکہ موجودہ پوپ فرانسس نے آسیہ بی بی کے گھر والوں سے ملاقات کی تھی۔

24 فروری 2018 کو آسیہ بی بی کو سزائے موت دینے کے فیصلے کے خلاف اٹلی کے شہر روم میں سینکڑوں افراد کولوسیئم تھیئٹر کے سامنے جمع ہوئے۔ اس دوران اس قدیم عمارت کو سرخ رنگ میں رنگ دیا گیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ایشیا پیسیفک ڈائریکٹر ڈیوڈ گرفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ 'یہ سنگین ناانصافی ہے۔ آسیہ بی بی پر شروع میں فردِ جرم ہی عائد نہیں کرنی چاہیے تھی، سزائے موت دینا تو دور کی بات ہے۔'

اس کے علاوہ امریکہ محکمۂ خارجہ نے بھی کئی بار اس کیس کا ذکر کیا ہے۔

اسی بارے میں