محسن خان کا بیان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد پہ کیا اثر ڈالے گا؟

سرفراز احمد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سرفراز احمد کی ٹی 20 ٹیم مسلسل دس سیریز جیتنے کا ریکارڈ بنا چکی ہے۔ کافی عرصے سے رینکنگ کی پہلی پوزیشن پہ براجمان ہے۔ دو دن پہلے ہی آسٹریلیا کو اس فارمیٹ کا پہلا کلین سویپ کیا۔

یہ ان کے ناقدین کے لئے عجیب مخمصے کی صورت حال ہے کہ جیت کا یہ سفر کہیں تھم ہی نہیں رہا۔ چلیے جب جیت سری لنکا، ویسٹ انڈیز یا زمبابوے جیسوں کے خلاف ہوتی تھی تو یہ دلیل بھی وزن رکھتی تھی کہ ٹیم مقابلے کی نہیں تھی۔ مگر آسٹریلیا ایک ایسی ٹیم ہے کہ اس پہ جیسا بھی وقت آ جائے، ٹیم مقابلے کی ہی رہتی ہے۔

ایسے میں کہ جب سرفراز احمد مسلسل آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ایک کونے سے اچانک صدا بلند ہوتی ہے کہ ’ٹیسٹ کی کپتانی سرفراز احمد کے لیے بوجھ ہے‘۔

اسی بارے میں

ٹرافی سوہنی ہے یا کوجی، سانوں کی!

سرفراز احمد کی بدقسمتی

’کیونکہ سرفراز کو یقین تھا‘

اول تو اس بیان کی ٹائمنگ ہی حیرت انگیز ہے۔ ثانیاً جب آپ اس صدا کی بازگشت کا تعاقب کرتے کرتے اس کے مآخذ تک پہنچتے ہیں تو صدا دینے والے موصوف کوئی اور نہیں، پی سی بی چیئرمین کی وضع کردہ نو مولود کرکٹ کمیٹی کے سربراہ محسن خان ہیں۔

یہ کمیٹی کرتی کیا ہے؟ پی سی بی کے بقول ڈومیسٹک کرکٹ اور پچز کی کنڈیشنز سے لے کر ٹاپ فلائٹ انٹرنیشنل کرکٹ تک کوئی ایسا موضوع نہیں جس پہ یہ کرکٹ کمیٹی رائے زنی کا حق نہ رکھتی ہو۔ یعنی پاکستان کرکٹ سے وابستہ ہر موضوع پہ یہ کمیٹی کوئی نہ کوئی تبصرہ یا سفارش پیش کرنے کی مجاز ہے۔

لیکن اس پیرائے میں بھی دیکھا جائے تو ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نو منتخب کمیٹی کے نئے نویلے چیئرمین کو ایسا بیان اس وقت دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ سرفراز احمد آسٹریلیا سے ٹیسٹ سیریز جیت چکے تھے، ٹی ٹونٹی میں وائٹ واش کر ڈالا تھا اور نیوزی لینڈ سے پہلا ٹاکرا ہونے کو ہی تھا؟

عین ممکن ہے کہ یہی بیان اگر کسی مناسب وقت پہ آتا تو باقی تو دور، شاید خود سرفراز ہی اس کو درخورِاعتنا سمجھتے۔ مگر اس وقت سرفراز سمیت پورے پاکستان میں کسی کی نظریں اس بیان پہ نہیں ٹکیں گی کیونکہ سر شام کسی کو غرض نہیں ہو گی کہ نئی کرکٹ کمیٹی کے نئے چیئرمین کیا فرماتے پھرتے ہیں۔

فی الوقت سب سے دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا سرفراز مسلسل 11ویں ٹی ٹونٹی سیریز جیتنے جا رہے ہیں یا کین ولیمسن کی ٹیم عماد وسیم اور شاداب خان جیسے پر اسرار کرداروں سے نمٹ لے گی اور فتوحات کے سلسلے کے آگے بند باندھ دے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محسن خان پی سی بی چیئرمین کی وضع کردہ نومولود کرکٹ کمیٹی کے سربراہ ہیں جو تمام معاملات میں کرکٹ بورڈ کو مشورے دے گی

ویسے تو سرفراز دنیا بھر میں جیت ہی چکے ہیں لیکن ان کی زیادہ تر ٹی 20 فتوحات یو اے ای کی کنڈیشنز میں رہی ہیں جہاں عموماً گیند زیادہ سپن ہوتا ہے۔ یو اے ای میں اکثر بلے باز سپن کی ہی تیاری کر کے آتے ہیں۔ لیکن آتے ساتھ ہی ان کا پالہ عماد وسیم سے پڑ جاتا ہے جو سلو لیفٹ آرم سوئنگ کرتے ہیں۔

اور اگر شروع میں کوئی عماد وسیم اور فہیم اشرف سے نمٹ بھی لے تو مڈل اوورز میں شاداب خان موجود ہیں جن کا رن اپ آف سپنر جیسا ہے مگر کرتے وہ لیگ بریک ہیں اور جس چالاکی سے وہ اپنی سٹاک ڈلیوری اور گگلی کو مکس کرتے ہیں، کوئی بھی چکرا جائے۔

نیوزی لینڈ کے لیے یہاں منفی پہلو یہ ہے کہ وہ کوئی سات آٹھ ماہ بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آ رہے ہیں مگر مثبت امکان یہ ہے کہ دیگر ٹیموں کے مقابلے میں ولیمسن کی ٹیم زیادہ بہتر اور متوازن سائیڈ ثابت ہو گی کیونکہ مڈل آرڈر میں ولیمسن اور روس ٹیلر کی شکل میں سپن کے ماسٹرز موجود ہیں۔

اسی طرح سے جیسے عماد وسیم ہر نو وارد ٹیم کے لیے ایک مبہم سا بھید بن جاتے ہیں، ویسے ہی اگر اعجاز پٹیل اپنا ڈیبیو کرتے ہیں تو ویسا ہی ایک بھید پاکستان کا منتظر بھی ہو سکتا ہے۔ موصوف لیفٹ آرم سپنر ہیں اور انھی کنڈیشنز میں کچھ روز پہلے نیوزی لینڈ اے کی پاکستان اے پر سیریز وکٹری میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔

سو یہ سیریز ہر لحاظ سے متوازن، مشکل اور دلچسپ رہے گی۔ بس دیکھنا یہ ہو گا کہ سرفراز احمد محسن خان کے بیان کو سنجیدہ لیتے ہیں یا اسے بھی اتنی ہی اہمیت دیں گے جتنی چیمپیئنز ٹرافی میں عامر سہیل کے دعووں کو دی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں