آسیہ بی بی کیس: فیصلے سے پہلے اور بعد کمرہ عدالت میں کیا ہوا

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بدھ کو سپریم کورٹ میں جب توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلہ سنایا جانا تھا تو کمرہ عدالت میں پہنچنے سے قبل تین چار مقامات ایسے قائم کیے گئے تھے جہاں پر ہر ایک شخص کو روکا جاتا تھا۔

سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے پر تعینات پولیس اہلکاروں نے صرف ان لوگوں کو احاطہ عدالت میں جانے کی اجازت دی جن کے مقدمات کی سماعت ہونا تھی۔

ان مقامات پر موجود پولیس اہلکار جو سپریم کورٹ میں کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں سے ملتے رہتے ہیں، وہ بھی اُنھیں روک رہے تھے۔

آسیہ بی بی کے مقدمے کے بارے میں مزید

آسیہ بی بی کون ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ ہوا کیسے؟

سلمان تاثیر کے بچے کیا کہہ رہے ہیں

آسیہ بی بی کے رہائی کے حکم کے بعد کئی شہروں میں احتجاج

آسیہ بی بی کیس: ’عوام نہ رہنے دے تو باہر نکلنا پڑے گا‘

آسیہ بی بی کا مقدمہ چونکہ بین الاقوامی شہرت اختیار کر چکا تھا اس لیے اس کی اپیل پر آنے والے فیصلے کو سننے کے لیے مقامی میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد بھی عدالت جانے کے لیے قطاروں میں لگی ہوئی تھی۔

مقامی وقت کے مطابق نو بج کر دس منٹ پر چیف جسٹس کی عدالت کورٹ روم نمبر ون کا دروازہ کھولا گیا اور بڑی تعداد میں وکلا اور صحافیوں نے کمرہ عدالت میں پہلے داخل ہونے کے لیے دوڑ لگا دی۔

مولوی محمد سالم جو آسیہ بی بی کے خلاف درج ہونے والے توہین مذہب کے مقدمے کے مدعی تھے، اُنھوں نے بھی کمرہ عدالت میں جانے کی کوشش کی تو وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے اُنھیں روک لیا اور کہا کہ ’آپ اندر نہیں جا سکتے‘۔

کورٹ روم نمبر ون میں ابھی لوگ صحیح طریقے سے اپنی نشستوں پر بھی نہیں بیٹھے تھے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلہ سنانے کے لیے پہنچ گیا اور ایک منٹ سے بھی کم وقت میں چیف جسٹس نے اس اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فیصلے کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے

عدالتی فیصلہ سننے کے بعد صحافی وہاں سے نکلے تو دیکھا کہ مولوی محمد سالم ابھی تک پولیس اہلکاروں کے ساتھ تکرار میں مصروف تھے کہ وہ اس مقدمے کی مدعی ہیں لہٰذا اُنھیں اندر جانے دیا جائے۔

عدالتی فیصلہ سنائے جانے سے قبل سپریم کورٹ میں سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے اور پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلہ سننے کے بعد تحریک لبیک کے کارکن کمرہ عدالت سے نکلنے کے بعد اپنے رہنماؤں کو فون پر اطلاع دیتے رہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ٹریفک پولیس کے ذریعے اطلاعات موصول ہونا شروع ہو گئیں کہ مظاہرین نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں اہم شاہراہوں کو مسدود کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ سننے کے بعد اگر کچھ لوگ سب سے زیادہ الرٹ اور پریشان تھے تو وہ سپریم کورٹ میں تعینات پولیس اہلکار تھے۔ ان پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد اُن کی ڈیوٹیاں بڑھ جائیں گی کیونکہ اُنھیں معلوم تھا کہ اس فیصلے کے بعد لوگ احتجاج کے لیے نکلیں گے۔

اسی بارے میں