آسیہ بی بی کیس: ’عوام نہ رہنے دے تو باہر نکلنا پڑے گا‘

عاشق مسیح اور ایشام

پاکستان کی سپریم کورٹ نے توہین رسالت کے جرم میں بری ہونے والی آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ کسی اور جرم میں مطلوب نہیں ہیں تو انھیں فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اس اپیل کی سماعت کی تھی اور آٹھ اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

آسیہ کیس: تضادات پر جرح کیوں نہ کی؟ عدالت کا سوال

سپریم کورٹ کے جج کا آسیہ بی بی کی اپیل سننے سے انکار

’کیا ملکی سالمیت کی مخالف جماعت رجسٹر کی جا سکتی ہے‘

بی بی سی اردو نے چند روز قبل لندن میں آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح اور بیٹی ایشام سے بات چیت کر کے ان سے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اس مقدمے نے ان کی زندگی کیسے متاثر کی۔

ایشام کا کہنا تھا کہ ’میں نو سال کی تھی اور اس کے بعد سے میں اب تک ادھوری ہوں۔ دل کرتا ہے کہ ماما جلدی سے پاس آ جائے۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں اور وہ بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ جب ہماری ملاقات ہوتی ہے میں بہت روتی ہوں۔ وہ مجھے کہتی ہیں کہ دعا کروں کہ میں جلدی سے باہر آ جاؤں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آسیہ کی سزا کے بعد ان کا خاندان در بدر ہونے پر مجبور ہو گیا۔ عاشق مسیح کا کہنا تھا کہ ’جب سے یہ حادثہ ہوا ہے ہمیں بار بار گھر بدلنا پڑا۔ بچے چھوٹے چھوٹے تھے۔ میں نے انہیں ماں کی طرح پالا ہے لیکن جو ماں ہوتی ہے وہ ماں ہوتی ہے۔

’اس واقعے کے بعد یہ بچی سکول جاتی تھی تو وہاں بچے بھی انھیں دھمکیاں دیتے تھے، ان کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوئی۔ اس ڈر سے کہ لوگ ان بچوں کو نہ مار دیں میں نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا۔‘

ایشام کا کہنا تھا کہ بار بار گھر اور سکول بدلنے سے کسی سے دوستی بھی نہیں بنتی۔ مجھے خدا سے پوری امید ہے کہ وہ باہر آ جائیں گی۔ ’وہ ضرور آئیں گی خدا نے چاہا تو‘۔

Image caption سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں آسیہ بی بی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں

ایشام نے کہا کہ ’جب وہ باہر آئیں گی میں بہت خوش ہوں گی، پارٹی دوں گی، کیک کاٹوں گی، ان کے گلے لگوں گی۔ کیونکہ ابھی ہم انھیں اس طرح مل نہیں سکتے۔ بیچ سے سلاخیں ہٹ جائیں گی۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ اگر عدالت آسیہ بی بی کی اپیل منظور کر لیتی ہے تو پھر کیا وہ پاکستان میں ہی رہیں گے عاشق مسیح کا کہنا تھا کہ ’دیکھیں پاکستان ہمارا دیس ہے، وہیں ہم پیدا ہوئے بڑے ہوئے لیکن اگر عوام نہ رہنے دے پھر تو باہر نکلنا پڑے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے پاکستان اور بیرونِ ملک مظاہرے کیے گئے تھے

انھوں نے کہا کہ ’آسیہ کا پاکستان میں رہنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ توہین کا یہ جو قانون ہے عموماً مسیحیوں پر لگتا ہے۔ آسیہ جب گرفتار ہوئی تھی اس کے بعد ہی لوگوں نے اس کے سر کی قیمت پانچ پانچ لاکھ لگا دی تھی۔ لیکن ایک بات میں آپ کو واضح کر دوں کہ پاکستان ہمارا دیس ہے، ہم پاکستانی ہیں ہم پاکستان کو غلط نہیں کہتے، لیکن جو الزام مسیحیوں پر لگتا ہے وہ ٹھیک نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ مسیحی ہو یا مسلمان جب تک وہ چار الہامی کتابوں پر ایمان نہیں لاتا اس کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ مسلمان بھائی بھی یہی کہتے ہیں، تو پھر یہ کیوں کرتے ہیں، کس وجہ سے کرتے ہیں؟ کوئی بھی کرسچیئن اس طرح کا کام نہیں کر سکتا۔‘

اسی بارے میں