BBCShe#: خواتین طے کریں گی کہ انھیں اب کیا سننا، دیکھنا اور پڑھنا ہے

پاکستانی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

یہ ایک طویل مسافت ہے۔ تقریباً 18 برس طویل۔ میں نے اس دوران پاکستان کے طول و عرض میں لوگوں تک پہچنے کے لیےہزاروں میل کا سفر کیا ہے تا کہ میں ان کی کہانیاں بیان کرسکوں۔ اور اب جب میں اس سفر پر نظر دوڑاتی ہوں تو لگتا ہے کہ خاص طور پر میری توجہ خواتین کی زندگیوں اور مسائل کی طرف رہی ہے۔

اس دوران، کشمیر سے گوادر تک اور وزیرستان سے راجن پور تک، درجنوں خواتین نے اپنے گھروں اور دلوں کے دروازے میرے لیے کھولے۔ مجھے اپنا ہمراز بنایا اور موقع دیا کہ میں ان کے ذریعے مقامی عورتوں کے مسائل کی نشاندہی کر سکوں۔

ان میں صنفی تفریق سے لڑتی خواتین، جنسی زیادتی اور تیزاب حملوں کا شکار ہونے والی عورتیں، شوہروں کی لاشوں پر بین ڈالتی بیویاں، بچوں کی حوالگی کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتی بےحال مائیں اور زلزلے اور سیلاب اور جنگ کی وجہ سے بےسروسامان ہونے والی عورتیں سبھی شامل ہیں۔

پاکستانی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن میں کون سی کہانی سناؤں گی؟ اس کا فیصلہ میں نے ہمیشہ خود ہی کیا۔ گو کہ یہ فیصلے میری پیشہ وارانہ نیک نیتی اور بہترین ایڈیٹوریئل ججمنٹ کے تحت تھے لیکن اختیار تو میرے اور میرے اداروں کے پاس ہی رہا۔

لیکن اب بی بی سی یہ اختیار آپ کو دینا چاہتا ہے۔ پاکستان کی خواتین کو یہ طے کرنے کا اختیار کہ ہمیں کون سی کہانی سنانی ہے؟ کونسا مسئلہ اٹھانا ہے؟ اور کون سا پہلو بتانا ہے؟

بی بی سی یکم نومبر سے 'بی بی سی شی' کے نام سے ایک سیریز شروع کر رہا ہے جو پاکستان کی نوجوان خواتین کو موقع دے گی کہ وہ ہمیں بتائیں کہ وہ کن موضوعات پر میڈیا کوریج چاہتی ہیں۔

پاکستانی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ سیریز دو ہفتے جاری رہے گی اور اس کے دوران ہم ملک کے چار صوبوں کی یونیورسٹیوں میں خواتین سے یہ جاننے کے لیے گفتگو کریں گے کہ میڈیا میں خواتین کی کوریج کے حوالے سے ان کا نقطۂ نظر کیا ہے۔

رواں برس انڈیا میں بھی بی بی سی نے ایسی ہی ایک مہم چلائی تھی۔ جس کی قیادت دہلی میں بی بی سی کی ویمن افیئرز جرنلسٹ دویہ آریہ نے کی تھی۔ اس مہم کو بہت پذیرائی ملی تھی۔

دویہ کا کہنا ہے کہ 'بی بی سی شی' نے ویمن ایشوز کی کوریج کے بارے میں ان کے نظریے کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔

’اس سیریز میں جن طالبات نے حصہ لیا ان کا اصرار تھا کہ میڈیا کو مثبت اور تعمیری مثالوں کو بھی سامنے لانا چاہیے۔ کیونکہ اس سے معاشرتی تبدیلی کا عمل تیز ہو گا۔ ایسی تبدیلی جس کا فائدہ خواتین کو ہو سکے گا۔'

پاکستانی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں بھی معاملات کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ خواتین کی میڈیا ضروریات پر مخصوص نظریات اور قیاس آرائیاں ہیں، اور اکثر ہم خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر اس قدر توجہ مذکور کیے ہوتے ہیں، جو کہ کرنا ضروری بھی ہے، کہ ہم ان کی ہمت اور جرات کی کہانیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

دویہ آریہ بتاتی ہیں کہ انڈیا میں خواتین نے 'بی بی سی شی' سیریز کے دوران کئی موضوعات تجویز کیے جن میں صنفی رکاوٹوں، ہراسانی اور امتیازی سلوک کے ساتھ ساتھ خواتین ہیروز اور جنسی زیادتی کے باوجود بہادری سے زندگی گزارنے والی خواتین کی کہانیاں شامل ہیں۔

انڈیا میں 'بی بی سی شی' کے ذریعے وہاں کی خواتین کی سوچ کے زاویے کو سمجھنے میں بہت مدد ملی۔ اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے سوچا گیا کہ کیوں نہ پاکستان میں بھی خواتین کو موقع دیا جائے کہ وہ سامنے آئیں اور خود طے کریں کہ وہ کون سے موضوعات ہیں جن کے بارے میں وہ بی بی سی پر پڑھنا سننا اور دیکھنا چاہتی ہیں۔ اس سیریز کا مقصد بی بی سی کے مواد کو خواتین کی پسند اور ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہے۔

پاکستانی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہم اس سیریز کے لیے لاہور، کوئٹہ، لاڑکانہ اور سوات کی یونیورسٹیوں میں جائیں گے اور وہاں کی طالبات کو اس مذاکرے میں شامل کریں گے۔ ان شہروں اور یونیورسٹیوں کے انتخاب میں ہم نے کوشش کی ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں اور مختلف سماجی اور لسانی شناخت رکھنے والی خواتین کو اس میں شامل کیا جا سکے۔

ہم ان مباحثوں کی ہائی لائٹس بی بی سی اردو اور انڈین لینگوئجز کے ملٹی میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کرتے رہیں گے لیکن ساتھ ہی خواتین کو دعوت دیں گے کہ وہ شارٹ ویڈیوز اور ٹیکسٹ کمنٹس کے ذریعے ہمارے سوشل میڈیا پیجز پر اس سیریز میں حصہ لیں۔

پاکستانی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اور وہ جو یونیورسٹیوں میں اس مباحثے کا حصہ نہیں بن سکیں گی وہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #BBCShe کے ذریعے بھی اپنے خیالات ہم تک پہنچا سکتی ہیں۔

اس سیریز کے ذریعے پاکستان کی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک ایسی بحث شروع کی جا رہی ہے جس کی عکاسی بی بی سی اپنی مستقبل کی کوریج میں کرے گی، کیونکہ بی بی سی اپنی آوٹ پٹ کو خواتین کی ضروریات اور امنگوں کے مطابق بنانا چاہتی ہے۔

'بی بی سی شی' کا یہی مقصد ہے۔

بی بی سی شی

آپ شمائلہ جعفری اور ان کی ٹیم کو بی بی سی اردو کے ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے ذریعے فالو کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں