آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف احتجاج جاری

سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں دوسرے روز بھی احتجاج ہو رہا ہے۔

کراچی

،تصویر کا ذریعہRPA

،تصویر کا کیپشن

آسیہ بی بی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مذہبی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے جعمرات کو کراچی میں دوسرے روز احتجاج کیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

ملک کے مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز بند رہے۔

،تصویر کا کیپشن

پنجاب حکومت کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاکہ وہ پرامن انداز میں منتشر ہو جائیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP / Getty

،تصویر کا کیپشن

فیاض الحسن چوہان نے ایک نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ جمعرات کی رات تک دھرنا ختم ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل پر ڈالنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP / Gettty

،تصویر کا کیپشن

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ بھی تشدد میں شرکت کریں گے، جو لوگ ریاست کو چیلنج کریں گے، جو بغاوت کے زمرے میں آتا ہے تو انھیں اس کا حساب دینا ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP / Getty

،تصویر کا کیپشن

میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے نوید قمر اور مسلم لیگ نون نے ایاز صادق کو فوکل پرسن نامزد کیا ہے۔ ’ہماری کوشش ہے کہ ایک مشترکہ حکمت عملی ساتھ لے کر چلیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

واضح رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بدھ کو توہین رسالت کے معدمے میں گرفتار آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ کسی اور جرم میں مطلوب نہیں ہیں تو انھیں فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔