آسیہ بی بی کیس: ’کوئی بھی مرنے کا مستحق نہیں کیونکہ ایک ان پڑھ فاشسٹ گروپ دوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے‘

اس وقت کے گورنر پنجاب نے 20 نومبر 2010 کو آسیہ بی بی سے ملاقات کی تھی تصویر کے کاپی رائٹ HANDOUT/AFP/GETTY
Image caption اس وقت کے گورنر پنجاب نے 20 نومبر 2010 کو آسیہ بی بی سے ملاقات کی تھی

20 نومبر 2010 کو اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے کہا کہ وہ صدر مملکت آصف زرداری سے رحم کی اپیل کے ہمراہ شیخوپورہ ڈسٹرکٹ جیل کے لیے روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ آسیہ بی بی سے ملاقات کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے ایک مصرعہ بھی لکھا: ’ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے‘۔

اس کے دو روز بعد انھوں نے ایک اور ٹویٹ کی جس میں ان کی جانب سے آسیہ بی بی کی رحم کی اپیل کے لیے کوششیں کرنے کے حوالے سے ان کو ’مُلا‘ کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا ہے اور وہ ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس بار بھی انھوں نے فیض احمد فیض کی نظم ’آج بازار میں پا بہ جولاں چلو‘ کا یہ شعر لکھا ’رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو، پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو‘۔

یہ بھی پڑھیے

آسیہ بی بی کون ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ ہوا کیسے؟

آسیہ بی بی: فیصلے سے پہلے اور بعد کمرہ عدالت میں کیا ہوا

پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین ہیں کیا؟

24 دسمبر 2010 کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر اقلیتوں کے بارے میں اپنے مشاہدے کے بارے میں ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے لکھا ’ایک شخص یا قوم کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے سے کمزور کی مدد کرتے ہیں نہ کہ اس بات سے کہ اپنے سے طاقتور کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے 2010 کو خیر باد بھی اپنے ڈٹے رہنے پر کیا اور ٹویٹ کی ’مجھ پر بہت دباؤ تھا کہ توہینِ مذہب کے معاملے میں دائیں بازو کی قوتوں کے سامنے جھک جاؤں۔ مگر اگر میں اِس صف میں کھڑا آخری انسان بھی ہوں گا تو میں نہیں جھکوں گا۔‘

اس ٹویٹ کو ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ چار جنوری 2011 کو اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں انہی کے محافظ ممتاز قادری نے ان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

سلمان تاثیر جنھوں نے توہین مذہب کے قانون کے خلاف آواز اٹھائی تھی کی ہلاکت کے آٹھ سال بعد آج سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے دی جانے والے سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

ایک طرف جہاں ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، جگہ جگہ سڑکیں بند، آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف نعرے بازی ہو رہی ہے وہیں پر سلمان تاثیر کے اہل خانہ ان کے سنہ 2010 کی وہ ٹویٹس ری ٹویٹ کر کے انھیں یاد کر رہے ہیں۔

آج فیصلے کے بعد سلمان تاثیر کے بچے ان کی 2010 میں کی گئی ان ٹویٹس کو ری ٹویٹ کر رہے ہیں۔

سلمان تاثیر کی بیٹی سارہ تاثیر نے اپنے والد کی وہ ٹویٹس دوبارہ شیئر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔

انھوں نے لکھا کہ آسیہ بی بی کی رہائی کے حکم کی خبر بی بی سی ورلڈ نیوز کی شہ سرخیوں میں ہے۔ ’آحر کار مثبت خبر۔ اللہ ان کو (آسیہ بی بی) اور ان کے خاندان کو حفظ و امان میں رکھے۔‘

سلمان تاثیر کے بیٹے شہریار تاثیر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹویٹ میں کہا کہ گورنر پنجاب کے قتل کے بعد قادری کو پھانسی پاکستان کی جیت تھی۔ ’تاہم آج مختلف ہے۔ آج مظلوموں کی جیت ہے۔ غریبوں کی۔ کمزور کی۔ ان کی جن کو مذہبی ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن پر غلط الزام لگائے گئے۔ آج ایک نئی مثال قائم کی گئی ہے۔‘

سلمان تاثیر کے دوسرے بیٹے شہباز تاثیر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹویٹ میں لکھا ہے ’پاکستان زندہ باد‘۔

تاہم اس فیصلے سے قبل آسیہ بی بی کے حوالے سے ایک ٹویٹ کے جواب میں شہباز تاثیر نے لکھا تھا ’کوئی بھی مرنے کا مستحق نہیں کیونکہ ایک ان پڑھ فاشسٹ گروپ دوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے۔‘

سلمان تاثیر کی بیٹی صنم تاثیر نے پھولوں کی ایک تصویر ٹویٹ کی اور کہا کہ ’آج ایک نئی صبح ہے‘

اسی بارے میں