ریپ اور بلیک میلنگ: پشاور کے سکول پرنسپل کو 105 برس قید اور جرمانہ

جنسی زیادتی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پشاور کی ایک عدالت نے ایک شخص کو خواتین سے جنسی زیادتی، ان کی برہنہ فلمیں بنا کر بعد میں انھیں بلیک میل کرنے اور غیر اخلاقی حرکات سمیت بارہ مختلف دفعات کے تحت 105 سال قید اور 40 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

مجرم عطا اللہ خان پشاور میں اپنے ہی سکول کے پرنسپل تھے۔

انھوں نے کم سے کم 80 خواتین کے ساتھ، جن میں کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں، جنسی فعل کا ارتکاب کرنے کا اعتراف کیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق مجرم سکول کے ہی ایک کمرے میں خواتین کو لاکر جنسی فعل کرتا اور خفیہ طور پر اس کی ویڈیو بناتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایسی ویڈیوز ملی ہیں جن میں سکول کی کم عمر لڑکیوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال ہے کہ عطااللہ سکول کی چھٹی ہونے کے بعد خواتین کو اپنی گاڑی میں سکول لاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

زینب کیس: کیا قصور میں اب بچے محفوظ ہیں؟

زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو پھانسی دے دی گئی

پولیس کے ایک تفتیشی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکول کے ایک کمرے میں فوم پڑا تھا اور کیمرہ نصب تھا جس سے پرنسپل ویڈیو بنا کر بعد میں انھیں بلیک میل کرتا تھا۔

مذکورہ افسر کے مطابق دوران تفتیس مجرم نے بتایا تھا کہ اس نے کم سے کم 80 خواتین کو اپنا شکار بنایا۔ اور یہ کہ جنسی حرکت کی ویڈیو بنانا اس کا شوق تھا جسے وہ فارغ وقت میں دیکھا کرتا تھا۔

پولیس کے مطابق سکول کے ایک سابق طالبعلم کو جب پرنسل کی ان سرگرمیوں کا علم ہوا تو اس نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق گرفتاری کے وقت عطاءاللہ خان کے قبضے سے خواتین اور طالبات کی کئی برہنہ ویڈیوز کے علاوہ کمرے سے کنڈوم، جنسی ادویات، منشیات، پستول، فوم اور کیمرہ برآمد ہوا تھا۔

پرنسل کی گرفتاری کے بعد دو خواتین نے بھی اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے بارے میں پولیس کو آگاہ کیا۔ ایک عورت کے بقول مجرم نے ان کی ویڈیو بھی اپنے موبائل فون پر محفوظ کر لی تھی۔

تفتیشی افسر کے مطابق مجرم خواتین اور طالبات کو اپنے جھانسے میں لانے کے لیے لالچ اور ڈرانے دھمکانے جیسے حربے استعمال کرتا تھا۔

عطاللہ خان کو گذشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ شادی شدہ ہیں اور بچوں والے ہیں۔

اسی بارے میں