چیف جسٹس کا آسیہ کیس پر تبصرہ: ’مقدمہ نہ بنتا ہو تو کسی کی خواہش پر سزا نہیں دے سکتے‘

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے خلاف کوئی مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے تو اسے کسی کی خواہش پر کیسے سزا دے سکتے ہیں

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک کے دارالحکومت میں مستقل بنیادوں پر پولیس کے سربراہ کی تعیناتی کے بارے میں ایک درخواست کی سماعت کے دوران توہین مذہب کے الزام میں گرفتار مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی اپیل پر دیے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی کے خلاف کوئی مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے تو اسے کسی کی خواہش پر کیسے سزا دے سکتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اُنھوں نے کہا کہ ججز صرف مسلمانوں کے ہی قاضی نہیں ہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے بھی قاضی ہے جو اس ملک کا رہنے والا ہے اور قانون کی نظر میں تمام لوگ برابر ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالتیں خواہشات پر نہیں بلکہ قانون کے مطابق چلتی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا ہر شخص کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ اعلیٰ عدالتوں کے تمام ججز پیغمبر اسلام کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور ان سے محبت کیے بغیر کسی بھی مسلمان کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلے کا آغاز ہی کلمہ طیبہ سے کیا ہے۔

آسیہ بی بی کی بریت کے حوالے سے یہ بھی پڑھیے

آسیہ بی بی کون ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ کیسے ہوا؟

آسیہ بی بی کو کیوں بری کیا گیا؟

آسیہ بی بی کی رہائی کے حکم کے خلاف احتجاج

آسیہ بی بی: فیصلے سے پہلے اور بعد کمرہ عدالت میں کیا ہوا

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں بسنے والے تمام افراد کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کے ذمے ہے اور عدالت کو یقین ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں نہیں چرائے گی۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں امن وامان کی صورت حال نازک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں امن وامان کی صورت حال نازک ہے

اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے بعد ملک بھر اور بلخصوص اسلام آباد میں امن وامان کی صورت حال خراب ہے۔

اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مستقل بنیادوں پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تعینات کرنے کی اجازت دی جائے، تاہم سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک جان محمد وطن واپس نہیں آتے، اس وقت تک کسی بھی پولیس افسر کو عارضی طور پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا چارج دے دیں۔ تاہم جب جان محمد واپس آئیں گے تو وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر پولیس کا سربراہ بیرون ملک جاتا ہے تو اس دوران بھی تو کسی کو عارضی چارج دیا جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ وزیر اعظم کی طرف سے آئی جی کے تبادلے کے احکامات کو معطل کرچکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی جی اسلام آباد جان محمد بدھ کی رات کو وطن واپس پہنچ گئے ہیں

دوسری طرف معلوم ہوا ہے کہ آئی جی اسلام آباد جان محمد بدھ کی رات کو وطن واپس پہنچ گئے ہیں، تاہم غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے اُنھوں نے ابھی تک اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھالا۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر اعظم سواتی کے مبینہ طور ہر غیر قانونی احکامات نہ ماننے پر وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تبدیل کرنے کے زبانی احکامات دیے تھے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لے رکھا ہے اور 2 نومبر کو وفاقی وزیر اعظم سواتی اور اُس خاندان کے افراد کو عدالت میں طلب کر رکھا ہے جن کے خلاف مزکورہ وفاقی وزیر نے نہ صرف مقدمہ درج کروایا بلکہ اُنھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ عدالت نے متعلقہ پولیس افسران کو بھی جمعے کے روز عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا۔

اسی بارے میں