آسیہ بی بی کی بریت اور پاکستان میں احتجاج

’ناانصافی کی بنیاد پر سولی چڑھانے سے نبی خوش ہوں گے؟‘

سب سے اہم یہ کہ کون مجرم ہے اور کون نہیں ہے اس کا فیصلہ لوگوں کا بے ہنگم ہجوم کرے گا یا ثبوت اور شہادتوں سے واقفیت رکھنے والے اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کریں گے؟

’آج ایک نئی صبح ہے‘

20 نومبر 2010 کو اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ صدر مملکت آصف زرداری سے رحم کی اپیل کے ہمراہ شیخوپورہ ڈسٹرکٹ جیل کے لیے روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ آسیہ بی بی سے ملاقات کریں گے۔

’میرے کپتان۔۔۔ کمال کر دیا!‘

بہت سے لوگ ماضی کو بھلا کر حال میں اس متعصبانہ رویے کے خلاف متحد ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ مگر سوشل میڈیا پر ایسے ناقدین بھی ہیں جو حکومت اور عمران خان کے موقف پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

آسیہ بی بی کیس: ’عوام نہ رہنے دے تو باہر نکلنا پڑے گا‘

توہین رسالت کے جرم میں بری ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے شوہر اور بیٹی کا کہنا ہے کہ اس مقدمے نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔