آئی جی اسلام آباد کی تبدیلی کا معاملہ: ’ایسے حکمران لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کریں گے؟‘

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی جی اسلام آباد جان محمد بدھ کی رات کو وطن واپس پہنچ گئے تھے

سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تبدیل کرنے کے واقعے سے متعلق حقائق جاننے کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو وفاقی وزیر اعظم سواتی کے اثاثوں کی چھان بین بھی کرے گی۔

اس تین رکنی کمیٹی میں قومی احتساب بیورو، انٹیلیجنس بیورو اور ایف آئی اے کے افسران شامل ہوں گے۔

سپریم کورٹ اسلام آباد پولیس کے سربراہ جان محمد کی جانب سے اس استدعا کے بعد کہ ان کی ٹرانسفر کے جو زبانی احکامات جاری کیے گئے ہیں ان پر عمل درآمد کردیا جائے، کیونکہ وہ ایسے حالات میں اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکیں گے، آئی جی کی تبدیلی کے بارے میں وزیراعظم کا زبانی حکم معطل کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے نہ صرف غریب لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کروایا بلکہ اُن کی خواتین کو بھی جیل بھجوانے سے دریغ نہیں کیا۔

انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا: ’ایسے ہوتے ہیں حکمران جو لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کریں گے؟‘

اس کیس کے حوالے سے مزید پڑھیے

وزیراعظم کے آئی جی کے تبادلے کے زبانی احکامات معطل

’اگر پولیس سربراہ بیرون ملک جائے تو کسی کو عارضی چارج تو دیا جاتا ہے‘

اس سے پہلے متاثرہ شخص نیاز محمد عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ اگرچے ان پر ظلم ہوا ہے لیکن وہ اعظم سواتی کو معاف کرتے ہیں کیونکہ اس سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption چیف جسٹس نے طنزیہ انداز میں کہا: 'ایسے ہوتے ہیں حکمران جو لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کریں گے؟'

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صلح نامہ اس وقت ہوتا ہے جب فریقین ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں لیکن یہاں پر تو معاملہ ہی الٹا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر وہ وفاقی وزیر کو معاف کر بھی دیں لیکن جرم ریاست کے خلاف ہوا ہے اور قانون کی نظر میں تمام افراد برابر ہیں۔

عدالت نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ جان محمد سے استفسار کیا کہ اُنھوں نے دوسرے فریق نیاز محمد کا مقدمہ درج کیوں نہیں کیا، جس پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت بیرون ملک تھے۔

علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے دفتر میں اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست نہیں آئی۔

اعظم سواتی کے وکیل نے عدالت میں فریقین کے درمیان ہونے والے صلح نامے کی کاپی بھی پیش کی جس میں اس واقعے کی ذمہ داری مقامی پولیس پر ڈالی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YouTube
Image caption وفاقی وزیر اعظم سواتی

وفاقی وزیر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل اپنے رویے پر شرمندہ ہیں اور وہ عدالت سے معافی مانگتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اعظم سواتی شرمندہ نہ ہوتے تو معافی کیوں مانگتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے کو بھی سامنے لائے گی کہ کیوں نہ وفاقی وزیر کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے پر آئین کے ارٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق کیا جائے۔ آئین کا یہ آرٹیکل کسی بھی رکن پارلیمان کو نااہل کرنے کے طریقے سے متعلق ہے۔

سپریم کورٹ نے سی ڈی اے حکام کی بھی سرزنش کی جنہوں نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کی طرف سے سی ڈی اے کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے پر ابھی تک اُنھیں نوٹس جاری نہیں کیا۔

اسی بارے میں