تحریک لبیک کے دھرنے اور مظاہروں میں کیا فرق اور کیا مماثلت

مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کے بڑے شہروں میں مظاہرے 31 اکتوبر سے شروع ہوئے تھے جب سپریم کورٹ نے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے مقدمے میں دی جانے والی سزائے موت کا فیصلہ تبدیل کر کے انھیں بری کر دیا تھا جس کے بعد سے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں جمع ہو گئے۔

یہ مظاہرے تقریباً ایک سال قبل ہونے والے اسلام آباد دھرنے کی یاد دلاتے ہیں جس میں مظاہرے کرنے والی یہی تحریک لبیک پاکستان تھی لیکن حکومت پاکستان مسلم لیگ نواز کی تھی اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی تھے۔

2017 اور 2018 کے دھرنوں اور مظاہروں میں مماثلت اور فرق کیا ہے۔

دھرنوں کی وجہ

2017

زاہد حامد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2017 کے مظاہروں کے دوران اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جاتا رہا

گذشتہ سال اکتوبر کے اوائل میں پاس ہونے والے الیکشن ایکٹ 2017 میں شامل چند ترامیم پر تنازع کھڑا ہوا جسے حکومت نے محض 'غلطی' قرار دیا لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف جوڈیشل انکوائری کی جائے۔

یہ ترامیم احمدیہ جماعت سے متعلق تھیں جنھیں حکومت پاکستان نے 1974 میں ایک آئینی ترمیم کے تحت غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ حزب اختلاف کی جانب سے نشاندہی کے بعد حکومت نے الیکشن ایکٹ میں ان شقوں کو ان کی پرانی شکل میں بحال کر دیا تھا۔

لیکن اس کے باوجود دو سیاسی جماعتوں، تحریک لبیک یا رسول اور سنی تحریک نے حکومت پر الزام لگایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ختم نبوت اور جماعت احمدیہ سے متعلق شق کو جان بوجھ کر بدلا اور اسے ایک بڑی سازش کا حصہ قرار دیا۔

اپنے احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے ان دونوں جماعتوں نے الزام لگایا کہ وزیر قانون زاہد حامد ان ترامیم کے ذمہ دار ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کی دھمکی دی۔

2018

asia bibi تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے آسیہ بی بی کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور آسیہ بی بی کی فوری رہائی کا فیصلہ سنایا۔

اس فیصلے کے فوری بعد اسلام آباد سمیت ملک بھر میں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور سڑکوں کو بلاک کرنا شروع کر دیا۔

مطالبات

2017

khadim تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu
  1. ’جنھوں نے حلف نامے میں ترمیم کی ان کی نشاندہی کر کے ان کو عبرتناک سزا دی جائے‘
  2. ’ملک بھر میں ہونے والی احمدیوں کی پاکستان اور اسلام مخالف سرگرمیوں کو سختی سے کنٹرول کیا جائے‘
  3. ’احمدیوں کی سازش کے نتیجے میں دین پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں ان کو فی الفور ختم کیا جائے‘

2018

khadim تصویر کے کاپی رائٹ EPA
  1. ’آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ دینے والے تینوں ججز استعفیٰ دیں‘
  2. ’سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا فیصلہ واپس لیا جائے کیونکہ یہ قرآن اور پاکستانی آئین کے خلاف ہے۔‘

حکومت اور فوج کا ردعمل

2017

ahsan iqbal تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حکومت

پانچ اکتوبر کو دھرنے کے آغاز پر اسلام آباد کی انتظامیہ نے مظاہرین کو تنبیہ کی کہ شہر میں عوامی مظاہرہ کرنے پر پابندی ہے۔ اسلام آباد پولیس نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مرکزی رہنما خادم حسین رضوی کی خلاف ایف آئی آر درج کی جس میں انھیں دھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے ٹریفک جام کے باعث ایک نومولود بچے کی موت کا ذمہ دار قرار دیا گیا لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت ہر ممکن اقدامات اور کوشش کر رہی ہے تاکہ مظاہرین کو قائل کیا جائے کہ فیض آباد انٹرچینج سے اپنا دھرنا منتقل کر کے پریڈ گراؤنڈ یا کسی اور مقام پر لے جائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنے میں موجود مظاہرین اور ان جماعتوں کے رہنماؤں کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا لیکن اس کی تعمیل نہیں ہوئی۔

ایک بار پھر اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے اس امید کا اظہار کیا کہ 24 گھنٹوں میں وہ مظاہرین کو منتشر کر کے دھرنا ختم کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

آخر کار 24 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو دھرنا ختم کرانے کے عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جس کے بعد اسلام آباد کی انتظامیہ نے دھرنے کے مظاہرین کو 25 نومبر کی صبح سات بجے تک دھرنا ختم کرنے کی ایک بار پھر 'آخری تنبیہ' جاری کی اور آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔

فوج

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 'بہتر ہوگا کہ اس معاملے کا پرامن طریقے سے حل نکل آئے، تاہم حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی فوج اس پر عمل درآمد کرانے کی پابند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کے معاملے پر سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں'۔

2018

حکومت

imran khan تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ملک بھر میں مظاہروں اور تحریک لبیک کے رہنماؤں کی جانب سے بیانات پر وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا ’سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک چھوٹے سے طبقے نے جس قسم کی زبان استعمال کی ہے اس پر میں آپ سے بات چیت کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کہنا کہ ججز واجب القتل ہیں اور آرمی چیف غیر مسلم ہیں، اور جنرلز کو کہا جا رہا ہے کہ آرمی چیف کے خلاف بغاوت کرو۔

’آپ اپنی سیاست چمکانے کے لیے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی، کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے، ریاست کو وہاں نہ لے کر جائیں جہاں وہ کوئی ایکشن لے۔‘

حکومت نے اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے اس صورتحال کے حوالے سے مشورے کیے۔ دونوں رہنماؤں نے قوت استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے قائدین سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی اور مذاکرات کا آغاز کیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔

فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور نے پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ’فوج جس کام میں مصروف ہے اس کام سے اس کی توجہ دائیں بائیں نہ لے جائیں اور اس سطح پر نہ جائیں جہاں ہمیں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جو کام کرنے چاہیے وہ کیے جائیں۔ آخری بات یہ ہے کہ مذاکرات میں بات اوپر نیچے ہو جاتی ہے دونوں جانب سے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ مذاکرات کا مقصد ہے کہ بہترصورتحال ہر بات جائے۔ وہ مرحلہ نہیں آنا چاہیے کہ بات افواج پاکستان کی ذمہ داری پر آجائے۔ جب یہ کیس فوج کے پاس آئے گا تو وہ اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔‘

معاہدہ کی کاپی
Image caption معاہدے کے تحت آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے گا

معاہدے

2017

  1. وفاقی وزیر قانون زاہد حامد جن کی وزارت کے ذریعے اس قانون کی ترمیم پیش کی گئی ہے ان کو فوری اپنے عہدے سے برطرف (استعفیٰ) کیا جائے۔ تحریک لبیک ان کے خلاف کسی قسم کا فتوی جاری نہیں کرے گی۔
  2. تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مطالبے کے مطابق حکومت پاکستان الیکشن ایکٹ 2017 میں 7B اور 7C کو مکمل متن مع اردو حلف نامہ شامل کر لیا ہے جن اقدام کی تحریک لبیک یا رسول اللہ ستائش کرتی ہے تاہم راجہ ظفر الحق صاحب کی انکوائری رپورٹ تیس دن میں منظر عام پر لائی جائے اور جو اشخاص بھی ذمہ دار قرار پائے گئے ہیں ان پر ملکی قانون کے مطابق کاروائی کی جائی گی۔
  3. دھرنے کے شروع ہونے سے اس کے اختتام پزیر ہونے تک ہمارے جتنے بھی افراد ملک بھر میں گرفتار کیے گئے ہیں، ایک سے تین دن تک ضابطے کی کاروائی کے مطابق رہا کر دیے جائیں گے اور ان پر درج مقدمات اور نظر بندیاں ختم کر دی جائیں گی۔
  4. 25 نومبر کو ہونے والی حکومت ایکشن کے خلاف تحریک لبیک یا رسول اللہ کو اعتماد میں لے کر ایک انکوائری بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو تمام معاملات کی چھان بین کر کے حکومت اور انتظامیہ کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا تعین کرے اور 30 روز کے اندر انکوائری مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جائے۔
  5. چھ نومبر سے دھرنے کے اختتام تک جو سرکاری و غیر سرکاری املاک کا نقصان ہوا، اس کا تعین کر کے ازالہ وفاقی و صوبائی حکومت کرے گی۔
  6. حکومت پنجاب سے متعلقہ جن نکات پر اتفاق ہو چکا ہے ان پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

2018

  1. آسیہ مسیح کے مقدمے میں نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی گئی ہے جو کہ مدعا علیہان کا قانونی حق و اختیار ہے۔ جس پر حکومت معترض نہ ہو گی۔
  2. آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے
  3. آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تحریک میں اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں ان کے بارے میں فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی
  4. آسیہ سمیح کے بریت کے خلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ان افراد کو فوری رہا کیا جائے گا
  5. اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلا جواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے

۔

اسی بارے میں