تیل بحری جہاز سے خارج ہوا تھا، بائیکو کا آپریشن بحال

تیل

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ماحولیات کے تحفظ کے ادارے ’انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی‘ نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں کو آلودہ کرنے والا تیل سمندری حدود سے گزرنے والے کسی بحری جہاز سے نکلا تھا۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشان گرافی نے بھی بائیکو کے نمونے حاصل کیے ہیں اور ان کا بھی کہنا ہے کہ یہ تیل کمپنی کا نہیں۔

بلوچستان انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے گڈانی شپ بریکنگ اور بائیکو دونوں کا ہی دفاع کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایجنسی کا کہنا تھا کہ اس بات کے انتہائی کم امکانات ہیں کہ گڈانی شپ بریکنگ میں آنے والے جہاز سے یہ تیل نکلا ہو کیونکہ پاکستان آنے سے قبل ان جہازوں کو صاف کر دیا جاتا ہے اور ان کے پاس انٹرنیشنل گیس فری سرٹیفیکٹ ہوتا ہے۔

بائیکو کی جانب سے بھی بتایا گیا ہے کہ یہ خام تیل نہیں ہے اور یہ ان کے کمپنی میں لائے جانے والے تیل سے مختلف ہے، جبکہ اصل حقیقت کا علم تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔

رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے بتایا ہے کہ ان کی ٹیم نے سمندر کے ان حصوں کا فضائی معائنہ کیا تھا جس سے معلوم ہوا کہ دو مقامات پر تیل سمندر میں پھیلا ہوا ہے جو ایک دوسرے کے قریب ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سمندروں میں پلاسٹک کی آلودگی ’عالمی بحران‘

سمندری آلودگی کی بڑی وجہ ٹائروں کا پلاسٹک

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشانوگرافی کا موقف ہے کہ انھوں نے تیل کے نمونے حاصل کیے ہیں جن کا ادارے کی لیبارٹری میں تجزیہ کیا جائے گا تاہم ان کا خیال ہے کہ تیل بائیکو کی لائن سے نہیں نکلا، بلکہ زیادہ تر امکان یہ ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے بحری جہاز سے نکلا ہو، اس بات کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ کس جہاز سے یہ تیل خارج ہوا۔

Image caption مبارک ولیج کے روکی شور اور سینڈی شور پر جو جانور ملتے ہیں جنہیں بینتھک اینمیل کہتے ہیں وہ کافی تعداد میں مرچکے ہیں جن میں کیکڑے، کورال، اسپنج، ایل اور دیگر چھوٹے اقسام کے جاندار شامل ہیں

بلوچستان انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کی جانب سے درخواست دی گئی ہے کہ بائیکو کو آپریشن بحال کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ اس کی معطلی سے معاشی نقصان پہنچ رہا ہے، جس کے بعد بائیکو کا آپریشن بحال کر دیا گیا۔

دوسری جانب بائیکو کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات کے مطابق یہ بنکر آئل ہے جو نہ تو بائیکو کی ریفائنری اور نہ ہی پاکستان کی کسی اور آئل ریفائنری میں تیار کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تیل بحری جہازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

دریں اثنا میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی، پاکستان نیوی، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے علاوہ بائیکو اور شیل کی مدد سے ساحل کی صفائی کی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔

میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ آلودہ ریت کو کسی دوسرے مقام پر ٹھکانے لگایا جائے گا۔

بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی کے قریب سے جمعرات کو تیل کا رساؤ مبارک ولیج تک پہنچ گیا، جس سے سمندر آلودہ اور فضا میں تیل کی بو پھیل گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاد رہے کہ 2003 میں یونان کے بحری جہاز تسمان سپرٹ سے 33 ہزار ٹن تیل کا رساؤ ہوا تھا جس کے بعد یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے

گڈانی کے قریب شپ بریکنگ کی صنعت واقع ہے جہاں پرانے آئل ٹینکروں کو لانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسی علاقے میں بائیکو آئل کمپنی کی جیٹی بھی موجود ہے یہ کمپنی روزانہ 75 ہزار بیرل خام تیل صاف کرتی ہے۔

بائیکو کمپنی کے جنرل منیجر کمیونیکیشن شہریار احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تیل کے رساؤ سے قبل خام تیل کی منتقلی کا کام جاری تھا تاہم بائیکو کی لائن سے کوئی لیکیج نہیں ہوا۔

دوسری جانب ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینیئر اہلکار محمد معظم کا کہنا ہے کہ یہ تیل چرنا جزیرے اور مبارک ولیج سے لے کر سینڈز پٹ تک پھیلا ہوا ہے یہ 20 کلومیٹر کا علاقہ بنتا ہے، لیکن اس کا دباؤ مبارک ولیج پر زیادہ ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے ساحل سمندر پر کچھ مردہ کیکڑے اور ایل وغیرہ بھی دیکھے ہیں، اس سے آبی پرندوں کی اموات کا بھی خدشہ موجود ہے۔ اس طرح ڈولفن اور وھیل مچھلی بھی تیل سے آلودہ فضا میں سانس نہیں لے سکتیں۔

چرنا جزیرہ اور مبارک ولیج کے قریب زیر سمندر کورال کی مختلف اقسام کے علاوہ کئی آبی مخلوقات پائی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں