سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم، لیکن ’آسیہ بی بی اب بھی جیل میں ہیں‘

سیف الملوک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آسیہ بی بی کی توہین رسالت کے مقدمے میں بریت کے بعد سوشل میڈیا پر ’آسیہ بی بی ان کینیڈا‘ اور ’آسیہ بی بی کینیڈا‘ کے ہیش ٹیگ استعمال ہونے لگے اور یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ معاہدے میں آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی شق کا فائدہ ہی کیا جب وہ ملک سے باہر چلی گئی ہیں۔

لیکن آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے پیر کے روز ہالینڈ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم جیل پہنچنے میں دس سے بارہ دن لگتے ہیں۔ اس لیے ابھی آسیہ بی بی کو جیل سے رہا نہیں کیا گیا۔

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدہ کو مسترد کرتے ہوئے سیف الملوک نے اسے تحریک لبیک پاکستان کے لیے 'بچاؤ' کا راستہ قرار دیا۔

’ریاست کو وہاں نہ لے کر جائیں جہاں وہ کوئی ایکشن لے‘

رضا ہمدانی، بی بی سی اردو

یہ جملہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بدھ کی شام کو آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے استعمال کیا۔ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ملک بھر میں مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف مظاہرے شروع کردیے تھے اور اہم شاہراہوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نیا پاکستان، نیا وزیر اعظم اور لوگوں کی نئی امیدیں۔ لیکن جمعے کو جب حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا جس کے بعد مظاہروں کے سلسلے کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا تو اس وقت بہت سے لوگوں کی امیدیں ٹوٹیں اور ظاہر ہے کہ مایوسی کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا سے اچھی جگہ اور کون سی ہو سکتی ہے۔

سب سے پہلے سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر کے انٹرویو کے حوالے سے یہ خبر گردش کرنے لگی کہ آسیہ بی بی کینیڈا چلی گئی ہیں۔ جب سوشل میڈیا ہی پر ان سے اس خبر کی صداقت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’میں نے اس طرف اشارہ نہیں کیا۔ #آسیہ پاکستان میں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

لیکن اس خبر کو بعد میں اور زیادہ تقویت اس وقت ملی جب صحافی گل بخاری نے ٹویٹ کی اور ’باوثوق ذرائع‘ کے حوالے سے کہا کہ آسیہ بی بی کو اسی دن کینیڈا روانہ کر دیا گیا تھا جس دن سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان کی بریت کا فیصلہ سنایا تھا۔

’باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے اچھا قدم اٹھایا۔ عدالت، جیل حکام اور دیگر کے ساتھ مل کر کام کیا اور آسیہ بی بی کی بغیر کسی مسئلے کے اسی دن کینیڈا روانگی کا بندوبست کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اس کے جواب میں طارق فتح نے ٹویٹ کیا کہ اگر کینیڈا نے آسیہ اور ان کے خاندان کو پناہ دے دی ہے تو وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو مبارک باد کے مستحق ہیں۔

یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ بی بی سی کی اپنی تحقیقات کے مطابق آسیہ بی بی ابھی تک پاکستان ہی میں ہیں، اور ان کے بیرونِ ملک جانے کے کوئی شواہد نہیں ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر افواہوں کو کون روک سکتا ہے۔

ایسی ہی ایک افواہ گذشتہ ہفتے بھی اڑی تھی کہ اسرائیل سے ایک جہاز پاکستان آیا اور دس گھنٹے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر رہا۔ اس پر یار لوگوں کو خیال آیا کہ کیوں نہ دونوں افواہوں کو اکٹھا کر دیا جائے کیوں کہ بقول فراز: نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں!

چانچہ ایک صارف نے ٹویٹ کی ’اگر آسیہ بی بی کا خاندان کینیڈا میں ہے تو پھر وہ بھی کینیڈا اس پراسرار جہاز میں چلی گئی ہوں گی جو اسرائیل اور عمان سے اسلام آباد میں لینڈ کیا۔‘

اس کے علاوہ وٹس ایپ پر بھی یہی افواہ بغیر پروں کے اڑ رہی ہے کہ یہ اسرائیلی جہاز دراصل آسیہ بی بی کو لینے آیا تھا!

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

تحریک لبیک کے ساتھ ’این آر او‘

تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاہدے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کہیں اس معاہدے کو اس حکومت کی جانب سے این آر او دیا جانا کہا جا رہا ہے جو حکومت میں آنے سے قبل اور حکومت میں آنے کے بعد ایک ہی نعرہ لگا رہی ہے کہ کسی کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔

تحریک لبیک کے گذشتہ سال کے دھرنے میں فیض آباد دھرنے کے شرکا کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ کے نتیجے میں املاک کو نقصان پہنچایا تھا جن میں ایک موچی کی دکان بھی تھی۔ اور اس سال اسی جماعت کے مظاہروں کے دوران شیخوپورہ کے اس لڑکے کی ریڑھی کا بڑا چرچا ہوا جس کے کیلے مظاہرین نے چھین لیے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
فیض آباد دھرنے کے شرکا کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ کے نتیجے میں اس موچی کی دکان کو نقصان پہنچا تھا

سوشل میڈیا پر حکومت کو ’بزدل` قرار دیا جا رہا ہے کہ حکومت نے پہلے مذہبی جماعتوں کے دباؤ میں آ کر عاطف میاں کو کمیٹی سے نکال دیا کیونکہ وہ احمدی ہیں اور اب تحریک لبیک کی تمام شرائط منظور کر لی ہیں۔ ’لگتا ہے تحریک لبیک ریاست کو باآسانی بلیک میل کر لیتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک صارف حمزہ خان یوسفزئی نے عمران خان کے قوم سے خطاب کے حوالے سے ٹویٹ کیا ’وہ ایک خان کی طرح بولے لیکن ایک نیازی کی طرح سرنڈر کر گئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک اور صارف سارہ ہمایوں نے ٹویٹ کی کہ ’وہ (عمران خان) کیوں اپنا کام ایمانداری سے کرنے کی قیمت ادا کرے۔ جاگو حکومت پاکستان وقت آ گیا ہے کہ اس بات کا احساس کیا جائے کہ مسائل کی اصل وجہ یہ شریر اور بے ایمان ملا سیاستدان ہیں جو ایک قوت بن کر ابھر رہے ہیں۔ ہم اس کے سامنے کیوں جھک رہے ہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

تاہم ایک اور صارف محمد اکرم نے ٹویٹ میں ’جو اینکرز/تجزیہ کار معاہدہ ہونے پر انگاروں پر لوٹ رہے ہیں، ان سے سادہ سا سوال ہے کہ وہ ایک انتہائی حساس مذہبی ایشو پر خون خرابہ کیوں چاہتے ہیں؟

’وہ ملک میں ایک اور سانحہ لال مسجد، ایک اور سانحہ ماڈل ٹاؤن۔۔ کیوں چاہتے ہیں؟ ریاست نے معاہدہ میں اپنی رٹ کو منوایا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

یہ آرٹیکل پہلی بار ہفتہ، 3 نومبر کو شائع ہوا تھا۔ اسے 6 نومبر کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں