’پاکستان میں خاندان کی جان کو شدید خطرہ‘، آسیہ بی بی کے شوہر کی مغربی ممالک سے پناہ کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسیہ بی بی کے شوہر کے مطابق پاکستان میں جان بچانے کے لیے چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ میں توہین رسالت کے الزام سے بری ہونے والی آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سے پناہ کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حکومت کے تحریک لبیک سے معاہدے کے بعد ان کے خاندان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

اس سے پہلے توہین رسالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو بری کرانے والے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک ہفتے کو اپنے خاندان سمیت بیرون ملک روانہ ہو گئے ہیں۔

ایک ویڈیو پیغام میں عاشق مسیح نے کہا ہے کہ انھیں اپنے خاندان کی سلامتی کے بارے میں تشویش ہے۔

’میں برطانیہ کے وزیراعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری مدد کریں اور جہاں تک ممکن ہو ہمیں آزادی دلائیں۔‘

انھوں نے برطانیہ کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا سے بھی مدد مانگی ہے۔

اس سے پہلے عاشق مسیح نے جرمنی کے خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے کو انٹرویو میں بتایا ک آسیہ بی بی بی کی بریت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو رکوانے کے لیے حکومت اور تحریک لبیک کے مابین معاہدے کے بعد وہ اور ان کا خاندان خوفزدہ ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

آسیہ بی بی کیس: ’عوام نہ رہنے دے تو باہر نکلنا پڑے گا‘

معاہدے کے بعد ملک بھر میں دھرنے ختم، حالات معمول پر

آسیہ بی بی کہاں ہیں؟

آسیہ، باجوہ اور خونی لبرل

عاشق مسیح نے مزید کہا کہ معاہدے سے ان میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور’ ایسی نظیر قائم کرنا غلط ہے جس کے نتیجے میں آپ عدلیہ پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔ موجودہ صورتحال ہمارے لیے بہت خطرناک ہے۔ ہماری کوئی سکیورٹی نہیں اور ہم یہاں چھپ کر بیٹھے ہیں اور بار بار اپنا ٹھکانہ تبدیل کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نے آسیہ بی بی کی بریت کے بعد تین دن تک ملک کے مرکزی شہروں میں مظاہرے کیے

انھوں نے مزید کہا کہ’ ان کی اہلیہ آسیہ بی بی نے پہلے ہی بہت تکلیف برداشت کر چکی ہے اور 10 برس جیل میں گزارے ہیں اور میری بیٹیاں ان کی آزادی کے لیے بے تاب ہیں لیکن اب نظر ثانی کی اپیل ان( آسیہ بی بی) کی مشکلات کو طول دے گی۔‘

خیال رہے کہ تحریکِ لبیک اور حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے گا اور آسیہ بی بی کے مقدمے میں نظر ثانی کی اپیل پر حکومت اعتراض نہیں کرے گی۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسیہ بی بی کی حفاظت کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ صورتحال سے نمٹ رہے ہیں لیکن آپ کو ضمانت دی جاتی ہے کہ آسیہ بی بی کی زندگی خطرے میں نہیں ہے۔

وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے مظاہرین سے معاہدے کو’ فائر فائٹنگ` قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں بغیر کسی تشدد کے معاملے کو حل کرنے میں مدد ملی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے حکومت کی جانب سے کیے گئے معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں ہے کہ حکومت مظاہرین کے سامنے پسپا ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے اپنی موکلہ کی بریت کے ملک چھوڑ دیا ہے

آسیہ بی بی کے وکیل بیرون ملک روانہ

اس سے پہلے توہین رسالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو بری کرانے والے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک ہفتے کو اپنے خاندان سمیت بیرون ملک روانہ ہو گئے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سیف الملوک کی جان کو شدید خطرہ تھا اور ان خدشات کی وجہ سے وہ بیرون ملک منتقل ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سیف الملوک نے بتایا کہ ان کے لیے پاکستان کے باہر جانا ناگزیر ہو گیا ہے تاکہ وہ آسیہ بی بی کے کیس میں اپنی موکلہ کی نمائندگی کر سکیں۔

اس سے قبل انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ بریت کے بعد آسیہ بی بی کو اپنے تحفظ کی خاطر کسی بھی مغربی ملک جانا ضروری ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ کئی مغربی ممالک نے انھیں پناہ دینے کی پیشکش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسیہ بی بی توہین رسالت کے الزام میں آٹھ سال تک جیل میں تھیں

ناقدین نے حکومت کی جانب سے کیے گئے معاہدہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ یہ آسیہ بی بی کے لیے 'ڈیتھ وارنٹ' ہے۔

'یہ لوگ ملک کی اعلی ترین عدالت کے دیے گئے حکم کی بھی تعمیل نہیں کر سکتے۔'

جہاز پر سوار ہونے سے پہلے بات کرتے ہوئے سیف الملوک نے کہا کہ انھوں نے وطن چھوڑنے کا ارادہ کیا ہے اس لیے ہے کہ تاکہ وہ آسیہ بی بی کے لیے قانونی جنگ لڑ سکیں۔

وکیل سیف الملوک نے بھی حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے معاہدے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بہت 'تکلیف دہ' ہے۔

اسی بارے میں